021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
علاج کی شرعی حیثیت
..جائز و ناجائزامور کا بیانعلاج کابیان

سوال

سوال یہ ہے کہ جب کوئی بیمار ہوجائے تو اس کو نماز پڑھ کر دعا کرکے مدد مانگنی چاہئے ، یا علاج بھی کروا سکتے ہیں ،علاج کروانے کا شرعی حکم کیا ہےشرعااس کا درجہ کیا ہے ؟

o

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیماریوں سے حفاظت کے لئے دعا کا اہتمام فرماتے تھے ، اور اگر کبھی بیماری آجائے تو شفا یابی کے لئے بھی دعا فرماتے تھے ، لہذا جب کوئی بیماری میں مبتلاء ہوجائے،اس کو چاہئے کہ؛ صلوٰة الحاجت ،،پڑھ کربیماری سے شفا کے لئے اللہ تعالی سے دعا مانگے ، علاج کاحکم یہ ہے کہ عام حالات میں بیماری سے شفا یابی کے لئے کسی طبیب سے علاج ومعالجہ کرانا اسباب کے درجہ میں ہے،اوریہ سنت ہے ،یعنی سنت سے ثابت ہے فرض نہیں ہے ، لہذا اگر کوئی کسی طبیب سے علاج نہیں کراتا ہے اور بیماری میں انتقال کرجاتا ہے تووہ ترک اسبا ب کی وجہ سے گناہگار نہ ہوگا ۔ البتہ وہ بیماریاں جو سنگین نوعیت کی ہوں ،اورجن میں علاج کا مفید ہونا ظن غالب کے درجہ تک پہنچ چکاہے بعض علماء ان بیماریوں کے علاج کو واجب قرار دیتے ہیں اس لئے ان بیماریوں کے علاج میں اختیاری طور پر لاپرواہی وغفلت سے کام لینا ان علماء کے قول پر جائز نہیں ہوگا ۔

حوالہ جات

وعن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إن الله أنزل الداء والدواء وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تداووا بحرام " . رواه أبو داود شرح مسلم للنووي (6/ 200) باب لكل داء دواء واستحباب التداوى قوله صلى الله عليه وسلم (لكل داء دواء فإذا أصيب دواء الداء برئ باذن الله) وفى هذا الحديث اشارة الى استحباب الدواء وهومذهب أصحابنا وجمهور السلف وعامة الخلف قال القاضى في هذه الأحاديث جمل من علوم الدين والدنيا وصحة علم الطب وجواز التطيب في الجملةواستحبابه بالامور المذكورة في هذه الأحاديث التى ذكرها مسلم شرح الوقایة ج6/ص280 ثم التداوی بالحلال جائز لاواجب فمن رک المعالجة فمات لم یمت عاصیا لانہ لیس فی ترک المعالجة اھلاک النفس اذ ربما صح من غیر معالجة وربما لا تنفعہ المعالجة الفتاوی الھندیہ ج3/472 ولو ان رجلا ظھر بہ داء فقال الطبیب قد غلب علیک الدم فاخرجہ فلم یفعل حتی مات لایکون اثما لانہ لم یتیقن ان شفاءہ فیہ کذا فی فتاوی قاضی خان ۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 338) فإن ترك الأكل والشرب حتى هلك فقد عصى؛ لأن فيه إلقاء النفس إلى التهلكة وإنه منهي عنه في محكم التنزيل اهـ بخلاف من امتنع عن التداوي حتى مات إذ لا يتيقن بأنه يشفيه كما في الملتقى وشرحه
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔