021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دورانِ تعلیم یونیورسٹی میں اتمام کرے گا یا قصر
61299 نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

میں تحصیل الائی ضلع بٹگرام کا رہائشی ہوں۔ ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کا طالبِ علم ہوں۔ میری یونیورسٹی میرے گھر سے 100 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ سمسٹر کے آخر میں یا چھٹیوں میں گھر جانا ہوتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی میں ہر ہفتہ ہم شبِ جمعہ کے لیے ڈھوڈیال (جہاں ہماری یونیورسٹی ہے) سے مانسہرہ شہر تبلیغی مرکز جاتے ہیں، وہیں پر رات کا قیام ہوتا ہے، اور یہ ترتیب ر ہفتہ کی ہے۔ مانسہرہ شہر ڈھوڈیال (یونیورسٹی) سے 11 کلو میٹر دور ہے۔ تو کیا میں یونیورسٹی میں مسافر ہوں یا مقیم؟ پوری نماز پڑھوں گا یا قصر کی نماز؟

o

اگر آپ ڈھوڈیال میں کبھی بھی ایک مرتبہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت سے رہے ہوں (اگرچہ عملاً پورے پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نوبت نہ آئی ہو ) تو ڈھوڈیال آپ کے لیے وطن ِاقامت بن چکا ہے، ایسی صورت میں ڈھوڈیال میں قیام کے دوران آپ پوری نماز پڑھیں گے۔ اسی طرح شبِ جمعہ کے لیے مانسہرہ شہر جاکر وہاں بھی آپ پوری نماز پڑھیں گے۔ لیکن اگر ڈھوڈیال میں آپ نے کبھی بھی پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت نہیں کی تو ایسی صورت میں ڈھوڈیال آپ کے لیے وطنِ اقامت نہیں ہوگا، لہٰذا وہاں آپ قصر نماز پڑھیں گے۔

حوالہ جات

الدر المختار - (ج 2 / ص 121): ( من خرج من عمارة موضع إقامته ) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر وفي الخانية إن كان بين الفناء والمصر أقل من غلوة وليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته وإلا فلا ( قاصدا ) ولو كافرا، ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها ) (صلى الفرض الرباعي ركعتين ) وجوبا. غنیۃ المستملی شرح منیة المصلی(ص:539): ثم لایزال المسافر علی حکم السفر حتی یدخل وطنہ أو ینوی اقامۃ خمسۃ عشر یوما بموضع واحد من مصر أو قریۃ غیر وطنہ فعلم بہذا انہ یصیر مقیما بدخول وطنہ و إن لم ینو الإقامۃ و أما فی غیر وطنہ فلا یصیر مقیما إلابنیۃ الإقامۃ و أقل الإقامۃ عندنا خمسۃ عشر یوما . الفتاوى الهندية (1/ 139): ولا يصير مسافرا بالنية حتى يخرج ويصير مقيما بمجرد النية كذا في محيط السرخسي……. ونية الإقامة إنما تؤثر بخمس شرائط: ترك السير حتى لو نوى الإقامة وهو يسير لم يصح، وصلاحية الموضع حتى لو نوى الإقامة في بر أو بحر أو جزيرة لم يصح ، واتحاد الموضع، والمدة، والاستقلال بالرأي. بدائع الصنائع (1/ 99): ثم المسافر كما يصير مقيما بصريح نية الإقامة في مكان واحد صالح للإقامة خمسة عشر يوما خارج الصلاة يصير مقيما به في الصلاة حتى يتغير فرضه في الحالين جميعا سواء نوى الإقامة في أول الصلاة أو ( في وسطها أو ) في آخرها بعد أن كان شيء من الوقت باقيا وإن قل وسواء كان المصلي منفردا أو مقتديا مسبوقا أو مدركا إلا إذا أحدث المدرك أو نام خلف الإمام فتوضأ أو انتبه بعد ما فرغ الإمام من الصلاة ونوى الإقامة فإنه لا يتغير فرضه عند أصحابنا الثلاثة خلافا لزفر وإنما كان كذلك لأن نية الإقامة نية الاستقرار والصلاة لا تنافي نية الاستقرار فتصح نية الإقامة فيها ، فإذا كان الوقت باقيا والفرض لم يؤد بعد كان محتملا للتغيير فيتغير بوجود المغير وهو نية الإقامة وإذا خرج الوقت أو أدى الفرض لم يبق محتملا للتغيير فلا يعمل المغير فيه. البحر الرائق (2/ 147): وطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر ا هـ
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔