021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مجبوری میں رشوت دینے کی خاطر بینک میں سودی اکاؤنٹ کھولنے کاحکم
61830جائز و ناجائزامور کا بیانرشوت کا بیان

سوال

ہمارے ہاں سرکاری اداروں کا حال سب کو معلوم ہے کہ وہاں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا،اب ایک شخص ہے جس کا ان اداروں سے ہر مہینے واسطہ پڑتاہے ،وہ کہتاہے کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ اس حرام کام میں صرف کروں ،لہذا وہ بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلواتاہے اوراس سے سودی رقم حاصل کرکے ان اداروں کو بطوررشوت دیتاہے تاکہ حرام کام میں حرام پیسہ ہی خرچ ہو اورباقاعدہ رشوت خوروں کوخود بتادیتاہے کہ یہ پیسے سود کے ہیں اوروہ لوگ پھر بھی اس کو لینے پر راضی ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس شخص کا یہ اکاؤنٹ کھلوانادرست ہےیانہیں؟ اگر درست نہیں تو وہ شخص کیاکرے؟اگر کوئی حیلہ وغیرہ ہو تو وہ ضرور بتائیں۔

o

سرکاری اداروں کا رشوت لیکر کام کرنا یقیناًایک غلط روش اورناجائزکام ہے ،تاہم اس مقصد کےلیے سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھول کر سودی رقم حاصل کرنااوراس سے رشوت دیکرکام نکلواناجائز نہیں ہے، لہذا اگر بے خبری میں کسی نے پہلے کہیں اکاؤنٹ کھول کرسودی رقم لےلیا ہوتو اسے بلانیتِ ثواب صدقہ کردے ۔واللہ اعلم

حوالہ جات

فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 385) قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ. ’’ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذر الرد علی صاحبہ ‘‘( رد المحتار: ۹/۵۵۳ ، "فیتصدق بلا نیۃ ثواب " قواعد الفقہ، القواعد الفقھیۃ :ص: ۱۱۵ ) قال العلامۃ ابن عابدین: والحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیہم والا فان علم عین الحرام لا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔ (ردالمحتار ۴:۱۴۶ مطلب فیمن ورث مالا حراما)
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔