021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرآن کریم پڑھانے والے اساتذہ کرام کے لیے سجدہ تلاوت کا حکم
..نماز کا بیانسجدہ تلاوت کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن کریم پڑھانے والے اساتذہ کرام کو درجہ حفظ کے بچوں سے دن میں بہت سی آیات سجدہ سننے کا اتفاق ہوتا ہے،تو کیا ہر آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا؟

o

اس مسئلہ کی تین صورتیں ہیں: 1۔ایک آیت سجدہ ایک مجلس میں مختلف بچوں سے سنے،تو اس کا حکم یہ ہے کہ ایک سجدہ واجب ہوگا۔ 2۔کئی آیات سجدہ ایک مجلس میں مختلف بچوں سے سنے،تو اس کا حکم یہ ہے کہ ہر آیت پر الگ سجدہ واجب ہوگا۔ 3۔کئی آیات سجدہ یا ایک آیت سجدہ مختلف مجالس میں مختلف بچوں سے سنے،تو اس کا حکم یہ ہے کہ ہر آیت پر الگ سجدہ واجب ہوگا،جتنی آیتیں سنے گا ان کے مطابق سجدے واجب ہوں گے۔ مجلس کی وضاحت :مسجد چھوٹی ہو یا بڑی پوری کی پوری ایک ہی مجلس شمار ہوگی اور اسی طرح چھوٹا کمرہ،چھوٹا گھر اور قاری صاحب کا حلقۂ درس یہ سب ایک مجلس کے حکم میں ہیں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:" (ولو كررها في مجلسين تكررت وفي مجلس) واحد (لا) تتكرر، بل كفته واحدة، والأصل :أن مبناها على التداخل؛دفعا للحرج بشرط اتحاد الآية والمجلس." وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:" قوله:( بشرط اتحاد الآية والمجلس):أي بأن يكون المكرر آية واحدة في مجلس واحد، فلو تلا آيتين في مجلس واحد ،أو آية واحدة في مجلسين، فلا تداخل ." (الدر المختار مع رد المحتار:2/114،115،دار الفکر،بیروت) وفی الفتاوی العالمگیریۃ:"وشرط التداخل اتحاد الآية واتحاد المجلس،حتى لو اختلف المجلس واتحدت الآية، أو اتحد المجلس واختلفت الآية، لا تتداخل، كذا في المحيط." (1/134،دار الفکر،بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔