021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مقتدی سے لقمہ لینا
62679نماز کا بیاننماز کےمفسدات و مکروھات کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک امام صاحب مغرب کی نماز میں قراءت بھول گیا،تو ایک قاری صاحب نے جو نماز میں ابھی تک شریک نہیں ہوا تھا لقمہ دیا،امام صاحب نے اس قاری صاحب کے بتانے سے اپنی قراءت مکمل کرلی۔اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ نماز درست ہوئی یا نہیں؟

o

اگر امام کسی ایسے آدمی سے لقمہ لے جو نماز میں شریک نہیں ہے تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے،لہذا مذکورہ بالا صورت میں امام اور مقتدی سب کی نماز فاسد ہوئی ہے۔دوبارہ لوٹانا لازم ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:" قوله:( وكذا الأخذ) :أي أخذ المصلي غير الإمام بفتح من فتح عليه مفسد أيضا كما في البحر عن الخلاصة، أو أخذ الإمام بفتح من ليس في صلاته كما فيه عن القنية. قوله:( إلا إذا تذكر إلخ): قال في القنية: ارتج على الإمام ففتح عليه من ليس في صلاته وتذكر، فإن أخذ في التلاوة قبل تمام الفتح لم تفسد، وإلا تفسد؛ لأن تذكره يضاف إلى الفتح اهـ بحر ..... قلت: والذي ينبغي أن يقال: إن حصل التذكر بسبب الفتح تفسد مطلقا: أي سواء شرع في التلاوة قبل تمام الفتح أو بعده؛ لوجود التعلم، وإن حصل تذكره من نفسه لا بسبب الفتح لا تفسد مطلقا." (ردالمحتار علی الدر المختار:1/622،دار الفکر،بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔