021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کلّماسےبچنےکی تدبیر
..طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ کافی عرصہ سے ایک گناہ کررہاتھا،تو اس گناہ کو چھوڑنے کے لیے اس نے یہ شرط لگائی"اگر میں نے یہ گناہ دوبارہ کردیا تو میں جب بھی نکاح کروں تو میرے نکاح میں جو عورت آئے گی اس کو طلاق"۔ وہ شرط پائی گئی،یعنی اس نے وہ گناہ دوبارہ کردیا ہے۔مذکورہ شخص اب نکاح کرنا چاہتا ہے۔کیا نکاح کےجواز کی کوئی صورت ہے؟

o

مذکورہ طلاق سے بچنے کے لیے فقہاء کرام نے یہ تدبیر لکھی ہے کہ ایسا شخص اپنی حالت کسی ایسے عالم کے سامنے بیان کرے جو اس کی ضروریات کو جان کر اس کے لیے بحیثیت فضولی(اجنبی شخص) نکاح کرادے،پھر جب اس کو نکاح کی خبر پہنچے تو زبان سے اجازت نہ دے،بلکہ خاموش رہے اور تحریری اجازت دیدے یا پورا مہر یا اس کا کچھ حصہ بیوی کی طرف بھیج دے،تو نکاح نافذ ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ مذکورہ عالم کو اپنے طرف سے نکاح کا وکیل نہ بنائے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی:" قوله: (حلف لا يتزوج، فزوجه فضولي، وأجاز بالقول، حنث وبالفعل لا) أي لا يحنث، وهذا هو المختار كما في التبيين، وعليه أكثر المشايخ ،والفتوى عليه كما فی الخانية … والإجازة بالفعل بعث المهر،أو شيء منه." (البحر الرائق:4/402، دار الكتاب الإسلامي) وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:" (حلف لا يتزوج، فزوجه فضولي ،فأجاز بالقول حنث، وبالفعل) ومنه الكتابة، خلافا لابن سماعة (لا) يحنث. به يفتى.خانية." وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:"قوله :(وبالفعل) كبعث المهر أو بعضه بشرط أن يصل إليها. وقيل: الوصول ليس بشرط.نهر. قوله: )ومنه الكتابة) أي من الفعل ما لو أجاز بالكتابة؛ لما في الجامع: حلف لا يكلم فلانا ،أو لا يقول له شيئا،فكتب إليه كتابا،لا يحنث.وذكر ابن سماعة أنه يحنث. نهر. (الدر المختار مع رد المحتار:3/846،دار الفکر،بیروت) وفی الفتاوی الہندیۃ:"إ ذا قال: كل امرأة أتزوجها فهي طالق، فزوجه فضولي، وأجاز بالفعل بأن ساق المهر ونحوه، لا تطلق،بخلاف ما إذا وكل به؛لانتقال العبارة إليه." (1/419،دار الفکر،بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔