021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قعدہ اخیرہ کے بعد قیام سے سجدہ سہولازم ہوتاہےیانہیں؟،مقتدی کے سہوسے سجدہ سہولازم ہوتاہے یانہیں؟، ساتھ والے نمازی کے نیچے سے حرکت کے ذریعہ اپناکپڑانکالنا، مقتدی پہلے سجدہ میں سوگیاامام اگلی رکعت کے قیام میں ہےمقتدی کیاکرے؟
..نماز کا بیانسجدہ سہو کابیان

سوال

السلام علیکم، کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے بارے میں: 1- ایک امام صاحب مغرب کی نماز پڑھاتے وقت قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بقدر بیٹھے، پھر وہ سمجھے کہ ابھی ایک رکعت باقی ہے اور کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے پیچھے سے سبحان اللہ بولا تو امام صاحب واپس قعدہ میں لوٹ آئے۔ پھر انہوں نے سجدہ سہو کیے بغیر سلام پھیر دیا۔ نماز کے بعد اس میں اختلاف ہوگیا کہ آیا نمازلوٹانا ضروری ہے یا نہیں۔ احتیاطاً امام صاحب نے نماز لوٹا لی۔سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں نماز لوٹانا ضروری تھا یا نہیں؟ 2- دورانِ جماعت میں نے ایک ایسی غلطی کر دی جس کی وجہ سے مجھ پر سجدہ سہو لازم ہوگیا، لیکن چونکہ جماعت چل رہی تھی میں نے سجدہ سہو نہیں کیا۔ کیا ایسے کرنے سے میری نماز ادا ہوگئی یا اسے لوٹانا ضروری ہوگا؟ 3- اگر کسی نمازی کا کپڑا تشہد کے وقت ساتھ والے نمازی کے پاؤں کے نیچے آجائے اور وہ نمازی حرکت کے ذریعہ اسے کپڑا نکال نے کا موقع دے دے۔ تو کیا ایسے کرنے سے اس کی نماز کی صحت میں کوئی فرق آئے گا؟ 4- اگر کوئی شخص فجر کی نماز کے پہلے سجدے میں سوجائے اور امام دوسرا سجدہ کر کے دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے اور قراءت شروع کردے، اور اس وقت نمازی جاگ جائے، تو کیا وہ دوسرا سجدہ کرے گا یا امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شامل ہوگا؟

o

1- مذکورہ صورت میں اگر امام صاحب مکمل سیدھے کھڑے ہوگئے تھے تو سجدہ سہو واجب تھا، سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے نماز لوٹانا ضروری تھا۔ اگر ابھی پورے نہیں کھڑے ہوئے تھے تو نماز درست ہوگئی۔ 2- اگر آپ مقتدی تھے تو آپ کی نماز ادا ہوگئی۔ جماعت کی حالت میں مقتدی پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔ 3- صورتِ مسئولہ میں اگر ساتھ والے نمازی نے اپنے قصد اور ارادے سے اِس نمازی کو کپڑا نکالنے کا موقع دیا ہو تو اُس کی نماز فاسد نہیں ہوگی، اور اگر اُس نے اِس کے حكم يا اشارے كے نتیجہ میں اسے کپڑا نکالنے کا موقع دیا ہو تو اُس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ 4- پہلے وہ اپنا دوسرا سجدہ کرے گا، اس کے بعد امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شریک ہونے کے لیے کھڑا ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی: " وكذا إذا قام إلى الخامسة قبل أن يقعد قدر التشهد أو بعد ما قعد وعاد، سجد للسهو؛ لوجود تأخير الفرض عن وقته الأصلي، وهو القعدة الأخيرة ، أو تأخير الواجب، وهو السلام ." (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: 1/149) قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی: " فأما المقتدي إذا سها في صلاته فلا سهو عليه ؛ لأنه لا يمكنه السجود ؛ لأنه إن سجد قبل السلام كان مخالفا للإمام ، وإن أخره إلى ما بعد سلام الإمام يخرج من الصلاة بسلام الإمام ؛ لأنه سلام عمد ممن لا سهو عليه ، فكان سهوه فيما يرجع إلى السجود ملحقا بالعدم لتعذر السجود عليه ، فسقط السجود عنه أصلا." (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: 1/185) قال العلامة ابن عابدين رحمه اللہ تعالی: "وعبارة المصنف في المنح بعد أن ذكر: لو جذبه آخر فتأخر الأصح لا تفسد صلاته. وفي القنية: قيل لمصل منفرد تقدم بأمره أو دخل رجل فرجة الصف فتقدم المصلي حتى وسع المكان عليه فسدت صلاته، وينبغي أن يمكث ساعة ثم يتقدم برأي نفسه، وعلله في شرح القدوري بأنه امتثال لغير أمر الله تعالى... وحاصله أنه لا فرق بين المسألتين إلا أن يدعي حمل الأولى على ما إذا تأخر بمجرد الجذب بدون أمر، والثانية على ما إذا فسخ له بأمره، فتفسد في الثانية لأنه امتثل أمر المخلوق وهو فعل مناف للصلاة بخلاف الأولى. " (رد المحتار: 1/571) قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی: " (واللاحق من فاتته) الركعات (كلها أو بعضها) لكن (بعد اقتدائه)، بعذر كغفلة ورحمة وسبق حدث وصلاة خوف ومقيم ائتم بمسافر، وكذا بلا عذر؛ بأن سبق إمامه في ركوع وسجود فإنه يقضي ركعة، وحكمه كمؤتم، فلا يأتي بقراءة ولا سهو ولا يتغير فرضه بنية إقامة. ويبدأ بقضاء ما فاته، عكس المسبوق، ثم يتابع إمامه إن أمكنه إدراكه وإلا تابعه، ثم صلى ما نام فيه بلا قراءة، ثم ما سبق به بها إن كان مسبوقا أيضا، ولو عكس صح وأثم لترك الترتيب." (الدر المختار مع رد المحتار: 1/596)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔