021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تحفے میں دیے جانے والے بکرے کی قربانی
..قربانی کا بیانقربانی کے جانور میں دوسروں کو شریک کرنے کے مسائل

سوال

اگر کوئی بکرا تحفہ میں دے اور وہ بکرا قربانی کے بھی قابل ہو، تو کیا ایسے بکرے کی قربانی کی جاسکتی ہے یا اپنا بکرا خریدنا ضروری ہے؟

o

اگر قربانی کی نیت کرلی جائے تو تحفے میں دیے جانے والے بکرے کی قربانی کی جا سکتی ہے۔ الگ سے بکرا خریدنے کی ضرورت نہیں ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ قاضی خان: "رجل وهب لرجل شاة فضحى بها الموهوب له أو ذبحها لمتعة أو جزاء صيد ثم رجع الواهب في الهبة جازت الاضحية و المتعة." (فتاوى قاضيخان :3/ 212) ذکر فی الفتاوی الھندیۃ: "و اما ركنها فذبح ما يجوز ذبحه في الأضحية بنية الأضحية في أيامها لأن ركن الشئ ما يقوم به ذلك الشئ." (الفتاوی الھندیۃ: 5/291)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔