021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد قریب ہونے کے باوجودگھر میں پڑھی گئی نماز کا حکم
..نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

ہمارےہاں کچھ لوگ یہ حیلہ کرتےہیں کہ مسجددورہے،ہم نہیں جاسکتے، حالانکہ مسجد کی مسافت تین سےچارمنٹ کی ہے۔وہ لوگ تمام نمازیں گھرمیں اداکرتےہیں،یہ سمجھتے ہوئےکہ ہماراعذرمعقول ہے۔وضاحت فرمادیں کہ ان لوگوں کی نماز کی کیانوعیت ہوگی؟اوران کایہ عمل درست ہے؟

o

عام شہروں اورقصبات میں محلوں کی جومعروف مقدارہےاگرمسجداس کےاندرہےتونمازپڑھناجائزنہیں۔ اگراس سےزیادہ دورہوتوگھرمیں نماز پڑھنےکی گنجائش ہے۔تین چارمنٹ کافاصلہ زیادہ نہیں،اس لیےبلاعذر جماعت چھوڑنا جائز نہیں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة. (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج)،ولو فاتته ندب طلبها في مسجد آخر إلا المسجد الحرام ونحوه. قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:( ولو فاتته ندب طلبها) فلا يجب عليه الطلب في المساجد بلا خلاف بين أصحابنا، بل إن أتى مسجدا للجماعة آخر فحسن، وإن صلى في مسجد حيه منفردا فحسن. وذكر القدوري: يجمع بأهله ويصلي بهم، يعني وينال ثواب الجماعة، كذا في الفتح. واعترض الشرنبلالي بأن هذا ينافي وجوب الجماعة. وأجاب ح بأن الوجوب عند عدم الحرج، وفي تتبعها في الأماكن القاصية حرج لا يخفى . (رد المحتارعلی الدر المختار:1/ 555)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔