021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پچھنے لگانےپرفیس لینا
61695اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میں ٹیچرہوں اوراسکول میں بچوں کو پڑھاتاہوں اوردوسال میڈیکل کی تعلیم بھی حاصل کی ہے۔ میرے ایک دوست ڈاکٹرہیں ،میں ہفتہ اوراتوارکےدن اس کےساتھ کلینک میں ہوتاہوں ،جہاں کچھ نہ کچھ سیکھنےکومل جاتا ہے۔میں مہینےکےخاص دنوں میں اس کلینک میں پچھنےلگاتاہوں اورفیس بھی بہت کم لیتاہوں۔میرےایک اہل حدیث دوست کاکہناہے کہ فیس لیناصحیح نہیں اورحدیث میں آیاہےکہ پچھنے کی فیس لیناحرام ہے۔کیاواقعی فیس لینا حرام ہے؟ اگرحرام ہےتویہ پیشہ کیساہے؟

o

پچھنےلگانامسنون عمل ہےاوراس پراجرت لینا جائزہے۔آپﷺ نے ابوطیبہ کوحجامت کی اجرت عطافرمائی تھی۔جس حدیث میں اس سےنہی آئی ہے،وہ منسوخ ہے۔

حوالہ جات

قال العلامہ الکاسانی رحمہ اللہ :وتجوز الإجارة للحجامة وأخذ الأجرة عليها؛ لأن الحجامة أمر مباح.وما ورد من النهي عن كسب الحجام في الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من السحت عسب التيس وكسب الحجام» ،فهو محمول على الكراهة؛لدناءة الفعل. (البدائع :4/ 190) قال العلامہ ابن نجیم رحمہ اللہ:جاز أخذ أجرة الحجام؛ لما روي أنه عليه الصلاة والسلام «احتجم وأعطى أجرته» .وبه جرى التعارف بين الناس من لدن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا، فانعقد إجماعا.وقالت الظاهرية :لا يجوز؛ لما روي أنه عليه الصلاة والسلام «نهى عن عسب التيس وكسب الحجام وقفيز الطحان» . قلنا هذا الحديث منسوخ؛ لما روي أنه عليه الصلاة والسلام «قال له رجل: إن لي عيالا ،وغلاما حجاما، أفأطعم عيالي من كسبه؟ قال: نعم».(البحر الرائق :8/ 21)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔