021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مریض کا علاج نہ کرانا/اگر یقین ہوکہ مریض کے لئے کوئی دوا مفید/موثر نہیں توعلاج معالجہ ترک کرناجائز ہے؟
61848/57جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر یہ یقین ہو کہ اب مریض کیلئے دوا کارگر نہیں تو کیا اس کا علاج معالجہ نہ کرنا جائز ہے؟؟

o

ایسے مریض کے گھر والوں کو چاہئے کہ جتنا ان کے بس میں ہے علاج کراتے رہیں، جو اسباب ممکن ہو سکتے ہیں ان کو استعمال میں لاتے رہیں۔ لیکن اگر ماہر اطبا ءنے یہ تجویز دے دی ہےکہ اب ادویات کا استعمال بے فائدہ ہے، اور غالب گمان یہ ہے کہ اب مریض کا زندہ رہنا مشکل ہے تو ایسی صورتحال میں اسباب ِعلاج ترک کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (5 / 360) "في الجراحات المخوفة والقروح العظيمة والحصاة الواقعة في المثانة ونحوها إن قيل قد ينجو وقد يموت أو ينجو ولا يموت يعالج وإن قيل لا ينجو أصلا لا يداوى بل يترك كذا في الظهيرية" الفتاوى الهندية (5 / 355) "والرجل إذا استطلق بطنه أو رمدت عيناه فلم يعالج حتى أضعفه ذلك وأضناه ومات منه لا إثم عليه فرق بين هذا وبينما إذا جاع ولم يأكل مع القدرة حتى مات حيث يأثم والفرق أن الأكل مقدار قوته مشبع بيقين فكان تركه إهلاكا ولا كذلك المعالجة والتداوي كذا في الظهيرية" الفتاوى الهندية(موافق للمطبوع) - (5 / 354) "ولو أن رجلا ظهر به داء فقال له الطبيب قد غلب عليك الدم فأخرجه فلم يفعل حتى مات لا يكون آثما لأنه لم يتيقن أن شفاءه فيه كذا في فتاوى قاضي خان"
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔