021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کھانے میں سنتِ ہدی اورسنت ِ عادیہ
..سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

کھانے میں کون سی سنتیں ، سنتِ ہدی ہیں اور کون سی سنتِ عادیہ ہیں؟

o

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے سے متعلق جن ہدایات کا حکم فرمایا ہے، اور ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والے پر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے، ایسی سنتیں سنتِ ہدی کے حکم میں ہیں اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید کی وجہ سے حکمِ شرعی کے درجہ میں ہیں۔ ایسی سنتوں میں دائیں ہاتھ سے کھانا ، کلمہ پڑھنا، اپنی جہت سےکھانا اور کھانے میں عیب نہ نکالنا وغیرہ سنتیں شامل ہیں۔

حوالہ جات

الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني - (ج 1 / ص 156) "وقال ابن عابدين: إن المشروعات أربعة أقسام: فرض وواجب وستة ونفل فما كان فعله أولى من تركه مع منع الترك إن ثبت بدليل قطعي ففرض أو بظني فواجب وبلا منع الترك إن كان مما واظب عليه الرسول صلى الله عليه وسلم أو الخلفاء الراشدون من بعده فسنة" الموسوعة الفقهية الكويتية - (ج 26 / ص 241) سنن الزوائد : وهي التي لا يتعلق بتركها كراهة ولا إساءة ، لأن النبي صلى الله عليه وسلم فعلها على سبيل العادة ، فإقامتها حسنة ، كسير النبي صلى الله عليه وسلم في لباسه وقيامه ، وقعوده وأكله ، ونحو ذلك . الموسوعة الفقهية الكويتية - (ج 26 / ص 252) وصرح الحنفية : أن تارك السنن الرواتب يستوجب إساءة وكراهية . وفسر ابن عابدين استيجاب الإساءة بالتضليل واللوم . وقال صاحب كشف الأسرار : الإساءة دون الكراهة . وقال ابن نجيم : الإساءة أفحش من الكراهة . وفي التلويح : ترك السنة المؤكدة قريب من الحرام .
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔