021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عقد مضاربت ختم کرنے کی صورت میں مال مضاربت کی تقسیم کاطریقہ
..مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

سوال:زید نے عمرو کونو لاکھ روپے مضاربت پر دیے چند سال کاروبار چلتا رہا ۔کاروبار کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اس میں کچھ سامان ہے،کچھ قرض ہیں جو وصول ہونے ہیں اور ایک لاکھ نقد موجود ہے ۔دونوں فریقین اس معاملہ کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتے عمرو کا کہنا ہے کہ زید اپنے دیے ہوئے راٴس المال سے زیادہ یعنی گیارہ لاکھ نقد مجھ سے لے لے اور کاروبار میرے حوالے کر دے۔ کاروبا ر میں جو قرض ہےوہ عمرو خود وصول کرتا رہےزید اس پر راضی ہے کیا اس طرح سے کاروبار کو ختم کرنا شرعاً جائز ہے؟ اگر نہیں تو کیا صورت ہو سکتی ہے؟

o

سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہو گا کہ مضاربت کے اس معاملے میں نفع ہو ا ہے یا نقصان ، اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ کاروبار میں موجود نقداور سامان کی موجودہ مارکیٹ ویلیواوروہ قرض جو وصول ہونا ہے سب کو جمع کیا جائے اگر یہ سب نو لاکھ سےکم ہوں تو کاروبار میں نقصان ہوا، اگر نو لاکھ ہوں تو نہ نقصان نہ نفع اور اگر نو لاکھ سے زیادہ ہوئے تو نفع ہوا۔ پہلی اور دوسری صورت میں ساراکاروبار زیدرب المال کی ملک ہے معاملہ ختم کرنے پر عمرو باہمی رضامندی سے )نقوداور قرض کے مجموعے سے زیادہ ( کسی بھی قیمت پرسارا کاروبار خرید سکتا ہے۔ تیسری صورت اگر کاروبار میں نفع ہو تو عمرو بھی )نفع میں شراکت کے بقدر( کاروبار کا مالک ہے،لہذا کاروبارمیں زید کا حصہ باہمی رضامندی سے)زید کے حصہ میں آنے والے نقد اور دین سے زیادہ (کسی بھی قیمت پرعمرو خرید سکتا ہے۔

حوالہ جات

(الشروط الصغیرللطحاوی:731/2) الا ان یشاء المضارب ان یعطی رب المال راس مالہ و حصتہ من الربح و یحبس العروض بنفسہ فلا یکون لرب المال الامتناع عنہ )فقہ البیوع(1/366 : ان بیع الدیون فی ھذہ الحالة لیس مقصوداً، وانما دخلت فی البیع تبعاً،و قد یجوز تبعاً ما لا یجوز اصلاً۔ قال الامام الکرخی رحمہ اللہ تعالی: "الاصل انہ قد یثبت الشیء تبعاً وحکما ،وان کان یبطل مقصوداً" (المبسوط للسرخسي : 22/ 72) وإذا اشترى المضارب بمال المضاربة متاعا، وفيه فضل أو لا فضل فيه، فأراد المضارب أن يمسكه حتى يجد به ربحا كثيرا، وأراد رب المال أن يبيعه فإن كان لا فضل فيه، أجبر المضارب على أن يبيعه، أو يعطيه رب المال برأس ماله؛ لأنه لا حق للمضارب في المال في الحال۔۔۔۔ إلا أن للمضارب هنا أن يعطي رب المال ثلاثة أرباع المتاع برأس ماله، وحصته من الربح، ويمسك ربع المتاع، وحصته من الربح، وليس لرب المال أن يأبى ذلك عليه؛ لأن الربح حق۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔