021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فجرکی نماز  پڑھنےکا افضل وقت
71641نماز کا بیاناوقاتِ نمازکا بیان

سوال

مروجہ نقشہ جات کے مطابق فجر کی نماز کا جو آخری وقت لکھا ہوتا ہے یعنی جس کے بعد مکروہ وقت شروع ہوجاتا ہے،اس وقت سے کتنا پہلے فجر کی نماز کی جماعت ہونی چاہیے؟ نیز اگر جماعت ختم ہونے کے بعد ابھی مکروہ وقت میں دس ،پندرہ منٹ رہ رے ہوں تو یہ نماز افضل وقت میں شمار ہوگی ؟

o

فجر کی نماز میں مستحب یہ ہے کہ اتنی تاخیر سے شروع کی جائے کہ تاریکی چھٹ کر کسی قدر روشنی نمودار ہوجائے، اور طلوع آفتاب سے اتنا پہلے نماز مکمل کر لی جائے کہ اگر کسی وجہ سے پڑھی گئی نماز لوٹانا پڑے ،تو طہارت حاصل کرکےسنت قراءت کی رعایت کےساتھ وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے اسے لوٹایا جا سکے ۔

دس پندرہ منٹ میں بظاہر سنت قراءت  کی رعایت کے ساتھ نماز کا اعادہ ممکن نہیں ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ طلوع آفتاب سے آدھا گھنٹہ ،پچیس منٹ پہلے نماز مکمل کرلی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 366)

(والمستحب) للرجل (الابتداء) في الفجر (بإسفار والختم به) هو المختار بحيث يرتل أربعين آية ثم يعيده بطهارة لو فسد،(قوله: بإسفاره) أي في وقت ظهور النور وانكشاف الظلمة، سمي به لأنه يسفر: أي يكشف عن الأشياء خلافا للأئمة الثلاثة، لقوله - عليه الصلاة والسلام - «أسفروا بالفجر فإنه أعظم للأجر» رواه الترمذي وحسنه. وروى الطحاوي بإسناد صحيح " ما اجتمع أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - على شيء ما اجتمعوا على التنوير بالفجر " وتمامه في شرح المنية وغيرها.

فجر کی نماز میں مستحب یہ ہے کہ اتنی تاخیر سے شروع کی جائے کہ تاریکی چھٹ کر کسی قدر روشنی نمودار ہوجائے، اور طلوع آفتاب سے اتنا پہلے نماز مکمل کر لی جائے کہ اگر کسی وجہ سے پڑھی گئی نماز لوٹانا پڑے ،تو طہارت حاصل کرکےسنت قراءت کی رعایت کےساتھ وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے اسے لوٹایا جا سکے ۔

دس پندرہ منٹ میں بظاہر سنت قراءت  کی رعایت کے ساتھ نماز کا اعادہ ممکن نہیں ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ طلوع آفتاب سے آدھا گھنٹہ ،پچیس منٹ پہلے نماز مکمل کرلی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 366)

(والمستحب) للرجل (الابتداء) في الفجر (بإسفار والختم به) هو المختار بحيث يرتل أربعين آية ثم يعيده بطهارة لو فسد،(قوله: بإسفاره) أي في وقت ظهور النور وانكشاف الظلمة، سمي به لأنه يسفر: أي يكشف عن الأشياء خلافا للأئمة الثلاثة، لقوله - عليه الصلاة والسلام - «أسفروا بالفجر فإنه أعظم للأجر» رواه الترمذي وحسنه. وروى الطحاوي بإسناد صحيح " ما اجتمع أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - على شيء ما اجتمعوا على التنوير بالفجر " وتمامه في شرح المنية وغيرها.

فجر کی نماز میں مستحب یہ ہے کہ اتنی تاخیر سے شروع کی جائے کہ تاریکی چھٹ کر کسی قدر روشنی نمودار ہوجائے، اور طلوع آفتاب سے اتنا پہلے نماز مکمل کر لی جائے کہ اگر کسی وجہ سے پڑھی گئی نماز لوٹانا پڑے ،تو طہارت حاصل کرکےسنت قراءت کی رعایت کےساتھ وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے اسے لوٹایا جا سکے ۔

دس پندرہ منٹ میں بظاہر سنت قراءت  کی رعایت کے ساتھ نماز کا اعادہ ممکن نہیں ہے اس لیے بہتر یہ ہے کہ طلوع آفتاب سے آدھا گھنٹہ ،پچیس منٹ پہلے نماز مکمل کرلی جائے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 366)
(والمستحب) للرجل (الابتداء) في الفجر (بإسفار والختم به) هو المختار بحيث يرتل أربعين آية ثم يعيده بطهارة لو فسد،(قوله: بإسفاره) أي في وقت ظهور النور وانكشاف الظلمة، سمي به لأنه يسفر: أي يكشف عن الأشياء خلافا للأئمة الثلاثة، لقوله - عليه الصلاة والسلام - «أسفروا بالفجر فإنه أعظم للأجر» رواه الترمذي وحسنه. وروى الطحاوي بإسناد صحيح " ما اجتمع أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - على شيء ما اجتمعوا على التنوير بالفجر " وتمامه في شرح المنية وغيرها.

     وقاراحمد

 دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

۲۶جمادی الثانی ۱۴۴۲

n

مجیب

وقاراحمد بن اجبر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔