021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدت کے دوران والدہ کا بیٹے کے نکاح میں شرکت کے لیے نکلنا
70430طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

ایک عورت گھر میں تنہا عدت میں ہے،یعنی اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے،ایک ہی بیٹا ہے،گھر خدمت کرنے کے لیے کوئی بھی نہیں ہے تو انہوں نے ارادہ کیا ہے کہ بیٹے کی شادی کرلیں،رشتہ پہلے سے طے کیا ہوا ہے،لڑکی والے بھی راضی ہیں،شادی بالکل سادگی سے ہوگی،لڑکے والے دس افراد لے کر جائیں گے اور لڑکی کو لے آئیں گے،کیا لڑکے کی والدہ جو عدت میں ہے وہ نکاح کے دن مکمل پردے میں دوپہر کے وقت لڑکی کے گھر جاسکتی ہے،کیونکہ ایک ہی بیٹا ہے اور ان کی شدید خواہش ہے؟

o

عدت کے دوران عورت کے لیے شدید مجبوری کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں،نہ دن کے وقت اور نہ رات کے وقت،چونکہ مذکورہ صورت میں ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے،اس لیے اس عورت کا بیٹے کے نکاح میں شرکت کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔

ماں کا دل رکھنے کے لیے بیٹے اور لڑکی والوں کو چاہیے کے نکاح لڑکی والوں کے ہاں کرنے کے بجائے لڑکے کے گھر کردیں،اس طرح ماں کی خواہش بھی پوری ہوجائے گی اور گناہ کا ارتکاب بھی نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 536):
"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه".
 
"البحر الرائق " (4/ 167):
"(قوله وتعتدان في بيت وجبت فيه إلا أن تخرج أو ينهدم) أي معتدة الطلاق والموت يعتدان في المنزل المضاف إليهما بالسكنى وقت الطلاق والموت ولا يخرجان منه إلا لضرورة لما تلوناه من الآية والبيت المضاف إليها في الآية ما تسكنه كما قدمناه سواء كان الزوج ساكنا معها أو لم يكن كذا في البدائع".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

16/ربیع الاول1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔