021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد اوروالدہ سے پہلے مرنے والی بیٹی کے حصے کا حکم
11291میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہماری والدہ اور والد دونوں کا انتقال ہوچکا ہے،والدہ کا2007 میں اور والد کا 1992 میں ہوا تھا،جبکہ ہماری والدہ کے والد  اور والدہ  کا انتقال ہماری والدہ کے بعد ہوا تھاجوکہ ہمارے نانا نانی تھے،ہمارے نانا نانی کے ہماری والدہ کو ملاکر تین بھائی اور پانچ بہنیں تھیں،جن میں سے دو خالاؤں کا انتقال نانا نانی کے انتقال کے بعد ہوا تھا،ہمارے نانا،نانی کی جائیداد کی تقسیم ہورہی ہے،ان کی جائیداد تقریبا دو کروڑ ہے اور ہمارے ماموں اور خالاؤں نے کہا ہے کہ ہم لوگوں کا ان کی جائیداد میں کوئی حصہ نہیں بنتا اور اس کے علاوہ ہمارے ساتھ تعلق بھی خراب رکھے ہوئے ہیں،ان کےبچے ہم سے بدتہذیبی کرتے ہیں،حالانکہ ہم سے چھوٹے ہیں،ہمارے تینوں ماموں شروع سے باہر سعودیہ عرب میں رہےتو نانا نانی کی ذمہ داری ہمارے اوپر تھیں  اور خالاؤں کی شادی ہوچکی تھی،سب اپنے گھر کی ہوگئیں تھیں،ہماری والدہ بڑی تھی،اس لیے ہم تمام خالاؤں،ماموں کے بچوں سے بڑے تھے،ہم لوگوں کو نانا نانی کی جائیداد سے بے دخل کردیا،ہماری والدہ جو کہ ایک بیوہ خاتون تھی ہمارے والد کا انتقال ہمارے بچپن میں ہی ہوگیا تھا،ہماری والدہ نے شروع ہی سے تکلیف اٹھائی،اب کچھ کرنے کا وقت آیا تو ہماری والدہ کا انتقال ہوگیا اور اب ہم لوگوں کے ساتھ والدہ کے بہن بھائی یہ سلوک کررہے ہیں، ہمارے لیے یہ بات تکلیف کا باعث ہے ہماری والدہ جو کہ ایک ٹیچر تھی،شادی سے پہلے ہی پڑھارہی تھی،پہلے اپنے گھر والوں کے لیے پھر اپنے بچوں کے لیے، ہماری والدہ نے شادی سے پہلے اپنے گھر والوں کے مدد کی،اپنے بھائیوں کو باہر یعنی سعوی عرب بھجوایا،اب یہ لوگ اس قابل ہوگئے کہ ہم لوگوں کو ہی بے دخل کردیا،ابھی حال ہی میں نانا نانی کا ایک گھر فروخت ہوا،جس کا ہمیں پتہ بھی نہیں لگنے دیا،ہمارے ماموں وغیرہ کے پاس اپنی جائیدادیں ہیں،وہ لوگ صاحب حیثیت ہیں،جبکہ ہمارا کرائے کا گھر ہے،یہ لوگ جائیداد  نہ دینے کی خاطر گھریلو فسادات پھیلارہے ہیں،ہماری بہنوں کے سسرال جاکر طلاق کی دھمکیاں دیتے ہیں،اگر آپ لوگوں کو مزید معلومات کرنی ہو تو ہمارے کچھ رشتہ دار اور پڑوسی ہیں جو ان باتوں کے گواہ ہیں،وہ آپ کو حقیقت بتادیں گے،برائے مہربانی اس مسئلے کا شرعی حل بتادیں،ہمیں ان لوگوں سے کوئی امید نہیں ہے،صرف اللہ پر بھروسہ ہے،ہمارا حق ہم لوگوں کو دلوایا جائے۔

o

میراث میں صرف ان ورثا کو حصہ ملتا ہے جو میت کے انتقال کے وقت زندہ ہوں، جن ورثاکا میت سے پہلے انتقال ہوچکا ہو،میراث میں ان کا حصہ نہیں ہوتا،چونکہ آپ کی والدہ کا انتقال آپ کے نانا اور نانی سے پہلے ہوگیا تھا،اس لیے آپ کی والدہ کا آپ کے نانا اور نانی کی میراث میں حصہ نہیں بنتا۔

تاہم چونکہ آپ کی مرحوم والدہ نے روزگار کے سلسلے میں ان (آپ کے ماموؤں) کی مدد کی اور انہیں باہر بھجوایا،اس لیے اخلاق اور مروءت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آپ بہن بھائیوں کو اپنی خوشی سے کچھ نہ کچھ دے دیں،خاص کر جب آپ ضرورت مند بھی ہیں،لیکن اگر وہ نہ دینا چاہیں تو آپ لوگ قانونی لحاظ سے انہیں مجبور نہیں کرسکتے۔

حوالہ جات

"البحر الرائق " (8/ 577):
قال – رحمهﷲ - (ولا توارث بين الغرقى والحرقى إلا إذا علم ترتيب الموت) أي إذا مات جماعة في الغرق أو الحرق ولا يدرى أيهم مات أولا جعلوا كأنهم ماتوا جميعا فيكون مال كل واحد منهم لورثته ولا يرث بعضهم بعضا إلا إذا عرف ترتيب موتهم فيرث المتأخر من المتقدم وهو قول أبي بكر وعمر وزيد وأحد الروايتين عن علي - رضي ﷲ عنه - وإنما كان كذلك؛ لأن الإرث يبنى على اليقين بسبب الاستحقاق وشرطه وهو حياة الوارث بعد موت المورث ولم يثبت ذلك فلا يرث بالشك".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

13/ربیع الثانی1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔