021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زیر ناف بال کاٹنے کی مدت
70963پاکی کے مسائلمعذور کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اگر زیر ناف بال ایک ماہ یا چالیس دن سے بڑھ جائیں تو کیا اس سے نماز ہوجاتی ہے؟اور اگر اس جگہ زخم ہو اور بال نہ کاٹ سکتے ہوں تو کیا نماز ہو جائے گی؟

o

زیر ناف  بال ہر ہفتے ىا پندرہ دن میں اتار لینے چاہیے۔ حدیث شریف میں چالیس دن سے زیادہ عرصے تک نہ اتارنے کی صورت میں وعید آئی ہے،  لہذا اتنی تاخیر نہ کرنی چاہیے۔ اگر بلاعذرچالیس دن سے زیادہ ہو جائیں اور بال نہ اتارے گئے ہوں تو بھی نماز ہوجائے گی لیکن اس تاخیر کا گناہ ہوگا ۔اور اگر معقول عذر جیسے زخم وغیرہ کی وجہ سے نہ اتار سکے تو گناہ  نہ ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ : ومما ورد في صحيح مسلم قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: ((إذا دخل العشر وأراد بعضكم أن يضحي فلا يأخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا)) ، فهذا محمول على الندب دون الوجوب بالإجماع، فظهر قوله ولا يجب التأخير إلا أن نفي الوجوب لا ينافي الاستحباب، فيكون مستحبا إلا إن استلزم الزيادة على وقت إباحة التأخير، ونهايته ما دون الأربعين فلا يباح فوقها .
(رد المحتار علی الدر المختار:2/181 )
قال جماعۃ من العلماء: الأفضل أن يقلم أظفاره ويحفي شاربه ويحلق عانته وينظف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة، فإن لم يفعل ففي كل خمسة عشر يوما، ولا يعذر في تركه وراء الأربعين ،فالأسبوع هو الأفضل، والخمسة عشر الأوسط، والأربعون الأبعد، ولا عذر فيما وراء الأربعين، ويستحق الوعيد كذا في القنية.(الفتاوی الہندیۃ:5/357)
رواہ الامام ابو داود رحمہ اللہ عن أنس بن مالك رضی اللہ عنہ قال: وقت لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حلق العانة وتقليم الأظفار وقص الشارب ونتف الإبط أربعين يوما مرة.
(سنن أبی داود ، کتاب الترجل،باب فی أخذ الشارب،رقم الحدیث ـ4200)
قال العلامہ شمس الأئمة السرخسی رحمہ اللہ:وما كان أرفق بالناس فالأخذ به أولى؛ لأن الحرج مدفوع. (المبسوط:11/25)
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ: لأن الحرج مدفوع بالنص وهو ظاهر إطلاق المتون.(رد المحتار علی الدر المختار:1/234)

سعد خان                 

دار الافتاءجامعہ الرشید کراچی      

   22/جمادی الاولی/1442ھ

n

مجیب

سعد خان بن ناصر خان

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔