021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خطبہ،بیان اور تقریر سے پہلے سلام کرنے کا حکم
71234جائز و ناجائزامور کا بیانسلام اورچھینک کا جواب دینے کے آداب

سوال

خطبہ،بیان اور تقریر سے پہلے سلام کرنے کا حکم کیا ہے؟

o

شوافع وحنابلہ کے نزدیک امام وخطیب کو منبر پر بیٹھنے کے بعد سلام کرنا چاہئے اور ان کی دلیل حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر چڑھتے تو سلام کرتے، جبکہ جمہورحنفیہ کےنزدیک

 یہ موقع سلام نہیں، اس لیے کہ خطیب کے منبر پر بیٹھنے کے بعد سکوت لازم ہے جبکہ سلام کی صورت میں جواب اس حکم کے منافی ہے۔اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں، جبکہ احناف میں سے بھی بعض نے اس موقع پر سلام کی اجازت دی ہے ،لہذا بہتر تو یہ ہے کہ عمومی طور پر توخطبہ سے پہلےسلام نہ کرے، البتہ اول ملاقات ہوخواہ کسی نئی جگہ خطبہ دے رہا ہو یا کہ کسی خاص موقع  کی مناسبت سے معمول کے نمازیوں کے علاوہ بھی نمازی شامل ہوں جن میں سے بعض سے ملاقات نہ ہوئی ہو تو حرج نہیں،البتہ بعض معاصر اہل علم کے نزدیک یہ عمل چونکہ نبی علیہ السلام کے علاوہ  خلفاء راشدین حضرت ابو بکر اورحضرت عمر اورحضرت عثمان  اور حضرت عمر بن عبد العزیزرضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے ،لہذا اس کی مشروعیت اور استحباب کا انکار درست نہیں اور یہ حضرات فقہ حنفی میں اس کی نفی کو سنن خطبہ کے بطور پر نفی پر محمول کرتے ہیں۔لہذا اس رائے کے مطابق اس سلام کا جواب دینا بھی درست ہے۔(شمائل کبری معروف بہ اسوہ حسنہ از مفتی محمدارشاد قاسمی صاحب:حصہ چہارم،ص۵۰۹)

عام بیان اور تقریر سے قبل بھی سلام کسی نص سے ثابت نہیں،لہذا بطور سنت کے تو نہیں کہنا چاہئے ،لیکن پہلی ملاقات ہویا سامعین میں سے بعض سے پہلی ملاقات ہو تو کہہ سکتا ہے ،لیکن التزام یا مستقل سنت یا ضروری سمجھنا درست نہیں۔

حاصل یہ کہ اصل مسئلہ مختلف فیہ ہے،دونوں طرف دلائل موجود ہیں،لہذا اس بارے میں تشدد اور سختی درست نہیں۔

حوالہ جات

مصنف ابن أبي شيبة (1/ 449)
الإمام إذا جلس على المنبر يسلم
حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة، قال: حدثنا مجالد، عن الشعبي، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صعد المنبر يوم الجمعة، استقبل الناس بوجهه فقال: «السلام عليكم، ويحمد الله ويثني عليه، ويقرأ سورة، ثم يجلس، ثم يقوم فيخطب، ثم ينزل» وكان أبو بكر وعمر يفعلانه "
حدثنا غسان بن مضر، عن سعيد بن يزيد، عن أبي نضرة، قال: «كان عثمان قد كبر فإذا صعد المنبر، سلم فأطال قدر ما يقرأ إنسان أم الكتاب»
حدثنا إسماعيل بن عياش، عن عمرو بن مهاجر، «أن عمر بن عبد العزيز كان إذا استوى على المنبر، سلم على الناس، وردوا عليه»
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 150)
ومن السنة جلوسه في مخدعه عن يمين المنبر ولبس السواد وترك السلام من خروجه إلى دخوله في الصلاة. وقال الشافعي: إذا استوى على المنبر سلم مجتبى
 (قوله وترك السلام) ومن الغريب ما في السراج أنه يستحب للإمام إذا صعد المنبر وأقبل على الناس أن يسلم عليهم لأنه استدبرهم في صعوده. اهـ. بحر.
قلت: وعبارته في الجوهرة ويروى أنه لا بأس به لأنه استدبرهم في صعوده
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 520)
ولا يسلم الخطيب على القوم إذا استوى على المنبر" لأنه يلجئهم إلى ما نهوا عنه والمروي من سلامه عندنا غير مقبول
قوله: "والمروي من سلامه" أي الإمام حين يستقر على أعلى المنبر كما فعله صلى الله عليه وسلم قوله: "غير مقبول" لما قال البيهقي أنه ليس بقوي وقال عبد الحق في الأحكام الكبرى هو مرسل وهو ليس بحجة عند الشافعي رضي الله عنه أي فكيف يستدل به عنده وقوله عندنا متعلق بمقبول أو متعلق بقوله والمروي فإن الحدادي وجماعة من مشايخنا قالوا: انه يسلم
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 159)
والسنة في حقه الطهارة والقيام والاستقبال بوجهه للقوم وترك السلام من خروجه إلى دخوله في الصلاة وترك الكلام، وقال الشافعي إذا استوى على المنبر سلم على القوم وقوله - صلى الله عليه وسلم - «إذا خرج الإمام فلا صلاة، ولا كلام» يبطل ذلك

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۲جمادی الثانیۃ ۱۴۴۲ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔