021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پانی کی چوری اورباری فروخت کرنے کاحکم
71740جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہمارا علاقہ ایف آر جانی خیل اینڈ بکا خیل جو کہ بنوں سے جنوب مغرب کی طرف واقع ہے اور برطانوی دورِحکومت کے اعداد و شمار کےمطابق ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ مردوعورت اور بچوں کے بغیر یہ شمارتھی۔اب 2017 کی مردم شماری کے دوران جانی خیل قوم کی ٹوٹل آبادی نوے ہزار(90000) ہے۔ اور قوم بکا خیل کی ایک لاکھ دس ہزار ہے، قوم جانی خیل کی ذیلی شاخیں (48) اورقوم بکا خیل کی ذیلی شاخیں (70) ہیں۔ دونوں قوموں کی زمین کا مجموعی رقبہ تقریباً چالیس لاکھ کنال ہے۔ ان دونوں قوموں کی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے ایک چشمہ ہے جسکا پانی لوگ پینےبھی ہیں اور جانوروں کو پلانے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ چشمہ قدیم زمانے 1962ء سے بہتا ہو ا آرہا ہے اور قدیم زمانے میں اس پر تقسیم ہوئی ہے جس میں جانی خیل قوم کی تقسیم کا طریقہ درج ذیل ہے اس چشمہ کے پانی کو 500 حصوں پر تقسیم کیا گیاہے، ہر حصہ 30منٹ کا ہوتا ہے جس کو ہماری زبان میں ڈاڈئی بولتے ہیں۔ ہرایک اپنی باری میں پانی استعمال کر کے زمین اور تالاب وغیرہ بھرلیتاہے، سب سے پہلے کون زمین سیراب کرےگا اور تالاب کون بھرےگا؟ اس پر قرعہ اندازی ہوتی ہے۔جس کا نام پہلے قرعہ میں نکلے اس کو پہلے زمین سیراب کرنے کیلئے باری دی جاتی ہےاوربعد والے کو بعدمیں،لیکن ٹائم کے حساب کے مطابق،پہلے کے بعدپھر دوسرےکواورتیسرے کوباری دی جاتی ہےالخ، جب ایک مرتبہ سب کی باری ختم ہو جاتی ہے پھر دوبارہ لوٹ کر آتی ہے۔ پانی کا حصہ جسکو ہم ڈاڈئی کہتے ہیں پیسوں پر بھی بکتا ہے اور جب کوئی اس کو خرید لیتا ہے تو ہمیشہ کیلئے ہرسال اس خریدنے والے کو 30منٹ پانی ہر باری میں ملتا ہے یعنی پانی کا بہاؤ ملتا ہے۔ پانی کا حصہ جس کو ڈاڈئی کہتے ہیں ہمارے علاقے میں زمین کے تابع ہو کر بھی بکتا ہے اور کبھی بغیر زمین کے بھی بکتا ہے جس کی قیمت تقریباً پندرہ ہزار سےتیس ہزار تک ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کو زیادہ پانی درکار ہوتا ہے کیونکہ اپنی باری پر ملنے ولا پانی ان کے زمینوں کے لیے ناکافی ہوتاہےاس سے وہ اپنے پورے کھیت کو سیراب نہیں کر سکتے تو ایسی حالت میں وہ پانی منٹوں اور گھنٹوں کے حساب سے خریدتے ہیں۔ اس چشمے کے پانی کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہوتا ہے، حفاظت کاطریقہ یہ ہوتا ہے کہ جس آدمی کی باری شروع ہو جاتی ہے اس کے گھر سے کچھ افراد کھیتوں کی طرف نکل جاتے ہیں،ان کو سیراب کرنے کیلئے اور کچھ افراد نکل کر اس چشمے کی ابتداء سے لیکر اپنے کھیتوں تک کے راستے کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ کوئی پانی کو چوری نہ کرسکے یا کنارہ کاٹ کر کوئی اپنی زمین کوہماری باری میں سیراب نہ کرے، یہ حفاظتی پہرہ جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا پانی بھی زیادہ مقدار میں ملتا ہے۔ اگر حفاظت میں کسی بھی وقت غفلت برتی جائے تو پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے اور وجہ یہ ہوتی ہے کہ حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے راستے میں ہر آدمی کنارے وغیرہ کو کاٹ کر اپنی کھیت کی طرف لے جاتا ہے،اللہ تعالیٰ کا تو خوف ہوتا نہیں کسی میں۔ اس طرح پانی بیچنا، خریدنا، تبدیل کرنا، ہبہ کرنا اجارہ پر دینا ہمارے علاقے میں  یہ کام عرف کا درجہ رکھتے ہیں اور ہر آدمی اس میں مبتلا ہے کیونکہ کوئی بھی بغیر بدل یا پیسے  واجارہ کے پانی دینے کیلئے تیار نہیں  ہوتا، بعض اوقات کسی کے تالاب میں پانی خشک ہو جاتا ہے تو وہ بیچارہ دوسرے بڑے تالابوں سے پانی پینے اور وضوء کرنے کیلئے لاتے ہیں۔ پہلے زمانے میں یہ پانی صرف آباد زمینوں پر تقسیم کیا گیا تھا بعدمیں غیر آباد زمینوں کو آباد کرنا شروع ہوگیا ٹریکٹروں کا دور آگیا لہٰذا اسی وجہ سے ابھی پانی پہلے کی بہ نسبت کم پڑتا ہے۔مذکورہ بالا تفصیلی بیان کی روشنی میں درج ذیل امورکے جوابات مطلوب ہیں :

نمبر ۱:۔ پانی کا حصہ یعنی ڈاڈئی وغیرہ بیچنا، ہبہ کرنا،اجارہ وغیرہ پر دینا درست ہےیانہیں؟ جبکہ ہمارے علاقے میں اسکو مال تصور کیاجاتاہے۔

          نمبر ۲:۔اس بڑے علاقے میں افراد کی عرف شرعاً معتبر ہوگا یا نہیں یعنی عرفِ خاص معتبر ہوگا یا نہیں؟

نمبر۳:۔ ہمارے علاقے کے لوگ پینے کیلئے اور وضو ء کیلئے پانی تالابوں سے لیتے ہیں  اگر کسی کا تالاب خشک  ہو جائے اور وہ مجبوراً رات کے دو تین بجے چپکے سے کسی دوسرے کے باری میں پانی چوری کرکے اپنے تالاب کو بھر لے کیا اس مجبوری کی صورت میں پانی چوری کرنا اس کےلیے جائز ہوگا یا نہیں؟

 

o

(١)۔ پانی کی باری فروخت کرنے کی اگرچہ بعض متاخرین فقہاء حنفیہ نے عرف کی وجہ سے اجازت دی ہے مگرحنفیہ کے ظاہرالروایة اورمفتی بہ قول کے مطابق غرر اورجہالت کی وجہ سے اس کی بیع جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ احتمال موجود ہے کہ اس چشمہ  سے آنے والے کاریز میں باری کی پوری مدت میں پانی  سرے سے آئےہی نہ اورہونے کی صورت میں بھی  یہ احتمال  موجود ہےکہ مخصوص دنوں میں کم زیادہ ہوتا رہےجس سے جھگڑے پیداہوسکتے ہیں ، اس لیے عام حالات میں تو پانی کی باری  کی بیع جائز نہیں ہے ،البتہ اگرکوئی خاص جگہ ایسی ہو کہ جہاں پر چشمہ سے آنے والے کاریز  کے اندرپانی ایک خاص  مقدارمیں ہر وقت موجود رہتاہوجس سے غرراورجہالت ختم ہوجائے توایسی جگہ پانی کی باری چند متعین دنوں کےلیے بیچنا جائزہوگا۔

بعض متاخرین حنفیہ نے لکھاہے کہ جن حقوق کی بیع جائز نہیں ہےجیسے کہ حق شرب(پانی کی باری کی بیع) توان کا عوض لینا بطریق بیع تو جائزنہیں،لیکن بطریقِ صلح ان کا عوض لینا جائز ہے۔علامہ خالد اتاسی رحمہ اللہ علیہ مال کے بدلہ میں وظائف سے دستبرداری کا مسئلہ ذکرکرنے کے بعدلکھتے ہیں :

أقول: وعلى ما ذكروه من جواز الاعتياض عن الحقوق المجردة بمال ينبغي أن يجوز الاعتياض عن حق التعلي، وعن حق الشرب، وعن حق المسيل بمال، لأن هذه الحقوق لم تثبت لأصحابها لأجل دفع الضرر عنهم، بل ثبتت لهم ابتداء بحق شرعي. فصاحب حق العلو إذا انهدم علوه، قالوا: إن له حق إعادته كما كان جبرا عن صاحب السفل. فإذا نزل عنه لغيره بمال معلوم ينبغي أن يجوز ذلك على وجه الفراغ والصلح، لا على وجه البيع، كما جاز النزول عن الوظائف ونحوها، لا سيما إذا كان صاحب حق العلو فقيرا قد عجز عن إعادة علوه، فلو لم يجز ذلك له على الوجه الذي ذكرناه، يتضرر. فليتأمل وليحمد، والله سبحانه أعلم) (شرح المجلة للأتاسي: 2/121، قبيل المادة 217) .                          لہذاسوال میں مذکور صورت میں ضرورت کے وقت بیع کے بجائے صلح کا معاملہ کیاجائے۔

(۲ )۔ باری لگاکرپانی کی تقسیم شرعاًدرست ہے اورجہاں تک پانی کے بیع اورہبہ کےحوالے سے آپ کے علاقے کےعرف  کا تعلق ہے تو وہ تب معتبر ہوگا جب پانی کی بیع میں غرر اورجہالت نہ ہوورنہ معتبر نہیں ہوگا،جیسےکہ  پہلے سوال کے جواب میں تفصیل سے یہ بات آچکی ہے۔

مسئولہ صورت میں پانی میں اجارہ نہیں ہوسکتا،کیونکہ اجارہ تو عین کو باقی رکھ کر اس سے انتفاع کرنےسے متحقق ہوتاہے جبکہ پانی سے انتفاع کے لیے اس کا عین خرچ کرناپڑتاہے لہذا اس میں بیع اورہبہ تو ہوسکتےہیں مگراجارہ نہیں ہوسکتا۔

(3)۔ پانی کی چوری جائزنہیں ہے، چاہے مملوکہ حوض سے کی جائے یا نالے سے کسی اورکی باری میں کی جائے،اس لئے کہ مملوکہ حوض میں تو پانی مملوک ہے اورکسی کی ملک میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے،اورنالے کاپانی اگرچہ فی الحال مملوک نہیں مگر باری والےکا اس پر حق ہے اورچوری سے اس کی حق تلفی ہوگی جوجائزنہیں،نیز جب سب کے اتفاق سےقدیم زمانے سےباری مقررہےتویہ ایک قسم کا عہد ہے جس کی پاسداری شرعاً ضروری ہے،چوری سے یہ عہد ٹوٹےگاجو صحیح نہیں، لہذا نالے سےبھی پانی کی  چوری جائز نہیں،ضرورت ہوتو باری والے سے بات کی جائے اوراس کی جازت سے  پانی  کے حوالے سے اپنی ضرورت پوری کی جائے ۔باری والے کو بھی چاہیے کہ اگرپانی اس کے پاس اپنی ضرورت سے زائد ہوتو مطالبہ کرنے والے کو دینے میں بخل سے کام نہ لے،اس سے اس کو بہت ثواب ملے گا،نیزکل کو اس کو بھی پانی کی ضرورت پڑٕسکتی ہے تب  اِس شریک سےپانی کا مطالبہ کرنااس کے لیے ذرا آسان ہوگا۔

حوالہ جات

وفی البحوث فی قضایا فقھیة معاصرة من ص 93   الی ص97  ج1
اختلفت أقوال الفقهاء في بيع حق الشرب أيضا، فظاهر الرواية في مذهب الأحناف أنه لا يجوز بيع الشرب، ثم جوزه كثير من المشايخ بناء على العرف والمذكور في رد المحتار وغيره أن الفتوى على عدم الجواز، ولكن الذي يظهر بالنظر الدقيق أن الذين منعوا من جواز هذا البيع، مع جريان العرف بذلك، إنما منعوه للغرر والجهالة، لا لكونه ليس مالا يقول الإمام السرخسي رحمه الله تعالى: (بيع الشرب فاسد، فإنه من حقوق المبيع بمنزلة الأوصاف، فلا يفرد بالبيع ثم هو مجهول في نفسه غير مقدور التسليم، لأن البائع لا يدري أيجري الماء أم لا؟ وليس في وسعه إجراؤه. قال " وكان شيخنا الإمام يحكي عن أستاذه أنه كان يفتي بجواز بيع الشرب بدون الأرض، ويقول: فيه عرف ظاهر في ديارنا بنسف، فإنهم يبيعون الماء " فللعرف الظاهر كان يفتي بجوازه، ولكن العرف إنما يعتبر فيما لا نص بخلافه، والنهي عن بيع الغرر نص بخلاف هذا العرف، فلا يعتبر) (مبسوط السرخسي:14/135، و136) . فعلل السرخسي رحمه الله عدم الجواز بأمرين: أنه من حقوق المبيع، فلا يفرد بالبيع، والثاني: أن فيه غررا وجهالة. ولما استدل المجوزون بالعرف الظاهر عارضه بالأمر الثاني فحسب، وذكر أن العرف لا يصلح أن يجوز به الغرر المنهي عنه بالنص، ولم يقل إن العرف لا يصلح أن يجوز به بيع الحقوق. وقد صرح بذلك ابن همام رحمه الله حيث قال: " ثم بتقدير أنه حظ من الماء فهو مجهول المقدار، فلا يجوز بيعه، وهذا وجه منع مشايخ بخارى بيعه مفردا " (فتح القدير: 5/205.) .وعبارة البابرتي أصرح، حيث يقول: (وإنما لم يجز بيع الشرب وحده في ظاهر الرواية للجهالة، لا باعتبار أنه ليس بمال) (العناية بهامش الفتح: 5/204) ثم إن السرخسي رحمه الله ذكر هذه المسألة مرة أخرى في كتاب المزارعة بأبسط مما ههنا، وذكر في الأخير قول المشايخ المتأخرين الذين أجازوا بيع الشرب للعرف، ولم ينتقد قولهم بشيء، فقال: " وبعض المتأخرين من مشايخنا رحمهم الله أفتى أن يبيع الشرب وإن لم يكن معه أرض للعادة الظاهرة فيه في بعض البلدان، وهذه عادة معروفة بنسف، قالوا: المأجورالاستصناع للتعامل وإن كان القياس يأباه، فكذلك بيع الشرب بدون الأرض).وما قاله الحنفية في بيع الشرب يتحصل منه في مسألة بيع الحقوق عين ما تحصل من مسألة بيع حق المرور وحق التسييل، وذلك أن الحق إن كان متعلقا بعين من الأعيان يجوز بيعه إذا لم يكن هناك مانع آخر كالجهالة والغرر وغيرهما. ثم ذكر بعض المتأخرين من الحنفية أن الحقوق التي لا يجوز بيعها، مثل حق التعلي وحق التسييل، وحق الشرب، إنما لا يجوز الاعتياض عنها بطريق البيع، ولكن يجوز الاعتياض عنها بطريق الصلح، يقول العلامة خالد الأتاسي رحمه الله بعد ذكر مسألة النزول عن الوظائف بمال: " أقول: وعلى ما ذكروه من جواز الاعتياض عن الحقوق المجردة بمال ينبغي أن يجوز الاعتياض عن حق التعلي، وعن حق الشرب، وعن حق المسيل بمال، لأن هذه الحقوق لم تثبت لأصحابها لأجل دفع الضرر عنهم، بل ثبتت لهم ابتداء بحق شرعي. فصاحب حق العلو إذا انهدم علوه، قالوا: إن له حق إعادته كما كان جبرا عن صاحب السفل. فإذا نزل عنه لغيره بمال معلوم ينبغي أن يجوز ذلك على وجه الفراغ والصلح، لا على وجه البيع، كما جاز النزول عن الوظائف ونحوها، لا سيما إذا كان صاحب حق العلو فقيرا قد عجز عن إعادة علوه، فلو لم يجز ذلك له على الوجه الذي ذكرناه، يتضرر. فليتأمل وليحمد، والله سبحانه أعلم) .فهذا محصل ما وجدته من كلام الحنفية في مسألة بيع المنافع والحقوق المتعلقة بالأعيان..... إن الحقوق التي لا تتعلق بالأعيان، مثل حق التعلي، لا يجوز بيعها عند الحنفية، ولكن يجوز الاعتياض عنها بطريق الصلح على ما ذكره بعضهم.
وفی المبسوط لشمس الدين السرخسي - (ج 17 / ص 319)
وقسمة الماء بين الشركاءجائزة بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس يفعلون ذلك فاقرهم عليه
والناس تعاملوه من لدن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا من غير نكير منكر وهو قسمة تجرى باعتبار الحق دون الملك إذا الماء في النهر غير مملوك لاحد .
دليل جوازقسمة الماء بالمهايأة:ما حكى الله عز وجل في كتابه في قصة صالح مع قومه([293]): (وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاء قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ)[28: القمر].و قوله تعالى: (قَالَ هَذِهِ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ)[155: الشعراء].ووجه الدلالة: أن الآيتين تدلان على قسمة الماء بين الناقة وقوم صالح لكل نوبة من الشرب وهذا شرع من قبلنا وشرع من قبلنا شرع لنا.وفی أحكام القرآن للكيا الهراسي(م ت 504 هجرية ( – فی شرح سورة القمر تحت قوله تعالى: (وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْماءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ    (الآية/ 28(يدل على جواز المهايأةعلى الماء. )راجع حقوق الارتفاق المتعلقة بالمياه في الشريعة الإسلامية - دراسة فقهية مقارنة لدکتور جابر إسماعيل الحجاحجة / كلية الدراسات الفقهية - جامعة آل البيتإبراهيم أحمد أبو العدس / وزارة الأوقاف والشؤون والمقدسات الإسلامية – الأردن(
وفی البحوث فی قضایا فقھیة معاصرة (1/93)
الذين منعوا من جواز هذا البيع، مع جريان العرف بذلك، إنما منعوه للغرر والجهالة، لا لكونه ليس مالا يقول الإمام السرخسي رحمه الله تعالى: (بيع الشرب فاسد، فإنه من حقوق المبيع بمنزلة الأوصاف، فلا يفرد بالبيع ثم هو مجهول في نفسه غير مقدور التسليم، لأن البائع لا يدري أيجري الماء أم لا؟ وليس في وسعه إجراؤه. قال " وكان شيخنا الإمام يحكي عن أستاذه أنه كان يفتي بجواز بيع الشرب بدون الأرض، ويقول: فيه عرف ظاهر في ديارنا بنسف، فإنهم يبيعون الماء " فللعرف الظاهر كان يفتي بجوازه، ولكن العرف إنما يعتبر فيما لا نص بخلافه، والنهي عن بيع الغرر نص بخلاف هذا العرف، فلا يعتبر) (مبسوط السرخسي:14/135، و136)
الدر المختار للحصفكي - (ج 5 / ص 184)
(و) بيع ....(المراعي) أي الكلا (وإجارتها)..... وأما بطلان إجارتها فلانها على استهلاك عين.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 13 / ص 219)
لا يجوز بيع الكلأ وإجارته،.....وأما الاجارة فلانها عقدت على استهلاك عين مباح، ولوعقدت على استهلاك عين مملوكة بأن استأجر بقرة ليشرب لبنها لا يجوزفهذا أولى.
قال النبي صلى الله عليه وسلم:( المسلمون شركاء في ثلاث: في الماء والكلأ والنار)؟.قال صاحب عون المعبود: المراد المياه التي لم تحدث باستنباط أحدٍ وسعيه كماء القني والآبار، ولم يحرز في إناءٍ أو برْكةٍ أو جدولٍ مأخوذ من النهر ... وماء السماء والعيون والأنهار التي لا تُملك، فالماء إذا أحرزه الإنسان في إنائه وملكه يجوز بيعه وكذا غيره.( عون المعبود شرح سنن أبي داود 7/470)
وفی الموسوعة الفقهية الكويتية:
الماء وإن كان مباحاً في الأصل، فإن المباح يملك بالاستيلاء إذا لم يكن مملوكاً للغير كالحطب والحشيش...] الموسوعة الفقهية الكويتية25/371-376 بتصرف)
سرقة الماء ينطبق عليها مفهوم السرقة عند الفقهاء، فالسرقة عندهم هي أخذ المال من حرزه خفية. وهذا ينطبق على سارق الماء ، فهو يأخذ الماء خفية من حرزه. فالماء ملكٌ لصاحبها سواء أكان البلدية أو الشركة أو غيرهما، وهو مال متقومٌ شرعاً، وهو مالٌ له حرزٌ معروفٌ عرفاً، فتحرم سرقته أو التعدي عليه، والأدلة على تحريم ذلك كثيرة منها قوله تعالى:{وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ} سورة المائدة الآية 38.
وقوله تعالى:{وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ}سورة البقرة الآية 188.
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:( لعن الله السارق يسرق البيضة فتقطع يده ويسرق الحبل فتقطع يده ) رواه البخاري ومسلم. وعن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن) رواه البخاري.
وعن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم في مجلس فقال:(بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئاً ولا تسرقوا ولا تزنوا) رواه البخاري ومسلم. وغير ذلك من الأحاديث.
ويضاف إلى ما سبق أنه يجب الوفاء بالعقود، حيث إن ربط البيوت وغيرها مع الجهة التي تزودها بالماء ، هو عقدٌ شرعيٌ، والوفاء به فرض، ويحرم شرعاً مخالفة هذا الاتفاق،لعموم قوله تعالى:{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ}سورة المائدة الآية1،ولقول النبي صلى الله عليه وسلم:(المسلمون على شروطهم إلا شرطاً حرَّم حلالاً أو أحلَّ حراماً) رواه أبو داود والترمذي وقال:حسن صحيح، ورواه البخاري تعليقاً بصيغة الجزم لكنه بدون الاستثناء، ورواه كذلك الحاكم وأبو داود عن أبي هريرة بلفظ (المسلمون عند شروطهم) أي بدون الاستثناء.
ولا بد أن يُعلم أن سارق الماء يعتبر من آكلي أموال الناس بالباطل، ومن خائني الأمانات، وأن ذلك المال الذي لم يدفعه ثمناً للماء ما هو إلا سحت، قال تعالى:{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا} سورة النساء الآية58، وقال:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} سورة النساء الآية 29، وقوله تعالى:{ لوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ} سورة المائدة الآية 63. قال أهل التفسير في قوله تعالى:{أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ} أي الحرام، وسمي المال الحرام سحتاً، لأنه يسحت الطاعات أي يذهبها ويستأصلها. ﴿انظر تفسير القرطبي 6/183 ﴾وقد صح في الأثر من قول عبد الله بن مسعود رضي الله عنه:( لا تكونوا إمعة، تقولون إن أحسن الناس أحسنا، وإن ظلموا ظلمنا، ولكن وطنوا أنفسكم إن أحسن الناس أن تحسنوا، وإن أساءوا فلا تظلموا)https://www.facebook.com/jwu.org/posts/468298713229228/
وفی سنن النسائي الكبرى:
عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((ثلاثة لا يُكلِّمهم الله يوم القيامة ولا يُزكِّيهم ولهم عذاب أليم؛ رجل بخلَ فضلَ ماء بالطريق، يمنع ابن السبيل منه، ورجل بايَعَ إماما للدنيا إن أعطاه ما يريد وفَّى له، وإن لم يُعطِه لم يَفِ، ورجل ساوم رجلاً على سلعته بعد العصر فحلف بالله: لقد أعطي بها كذا وكذا، فصدَّقه الآخر. (سنن النسائي الكبرى: (3: 492)، رقم: (6020)
 

  سیدحکیم شاہ عفی عنہ

  دارالافتاء جامعۃ الرشید

   1/7/1442ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔