021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسافر طالب علم کی نماز کا مسئلہ {گھر سے 100کلومیٹر دور مدرسہ میں طالب علم قصر کرےگایااتمام؟}
72286نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک طالب علم اپنے شہر سے تقریباً ایک سو کلو میٹر دور دوسرے شہر میں پڑھتا ہے اور ہر ہفتے ایک دن کے لیے اپنے گھر آتا ہے۔ کیا وہ اس دوسرے شہر میں قصر نماز پڑھے گا؟

o

اگر ایک باربھی اس طالب علم نے پندرہ دن یا اس سے زیادہ کی نیت سے دوسرے شہر میں قیام کر لیا تو پوری نماز پڑھے گا۔ اگرچہ اس کے بعد ہر ہفتے گھر بھی آتا رہے۔ جب وہاں سے اقامت ختم کرکے اپنا سارا سامان لے کر واپس آجائے تو اس کے بعد اگر کبھی اس شہر پندرہ دن سے کم دنوں کے لیے جائے گا تو قصر کرے گا۔

اگر ایک مرتبہ بھی پندرہ دن وہاں قیام  نہیں کیا تو قصر نماز پڑھے گا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی: (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته، أو تأهله، أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل، يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه ولم يذكر وطن السكنى، وهو ما نوى فيه أقل من نصف شهر لعدم فائدته.
وقال تحتہ العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی: قوله: (أو توطنه) أي عزم على القرار فيه، وعدم الارتحال، وإن لم يتأهل. (ردالمحتار: 131/2)
وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی: يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه.
وقال تحتہ العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی: (قوله ويبطل وطن الإقامة) يسمى أيضا الوطن المستعار والحادث وهو ما خرج إليه بنية إقامة نصف شهر سواء كان بينه وبين الأصلي مسيرة السفر أو لا. (ردالمحتار: 132/2)

محمد عبداللہ بن عبدالرشید

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

25/ رجب المرجب/ 1442ھ

n

مجیب

محمد عبد اللہ بن عبد الرشید

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔