021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
التحیات کی تحقیق{کیامعراج پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو بات ہوئی وہ التحیات ہے؟}
72224حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

التحیات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو بات ہوئی وہ التحیات ہے، کیا یہ قابل بیان ہے یا نہیں؟

 

o

التحیات کے بارے میں ذکر کردہ واقعے کے حوالے سے کوئی حدیث تو نہیں ملی، البتہ مفسرین میں سے علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر روح المعانی جبکہ شارحین حدیث میں سے علامہ عینی نے شرح سنن ابو داود اور ملا علی قاری نے مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں اس واقعے کا ذکر کیا ہے، نیز سیرت اور فقہ کی بعض کتابوں میں بھی اس واقعے کو ذکر کیا گیا ہے۔ تکملۃ فتح الملہم شرح صحیح مسلم میں مرقاۃ کے حوالے سے اس واقعے کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے "قلت: لم اجد لھذہ القصۃ اسنادا" (اس واقعہ/قصہ کی مجھے کوئی سند نہیں ملی)۔ لہذا یہ قابل بیان نہیں ہے، اس میں احتیاط ضروری ہے۔

حوالہ جات

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (2/ 732)
قال ابن الملك: روي: أنه صلى الله عليه وسلم لما عرج به أثنى على الله تعالى بهذه الكلمات فقال الله تعالى: «السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، فقال عليه السلام: السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، فقال جبريل: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» اه
تفسير الألوسي = روح المعاني (8/ 525)
ونبينا صلّى الله عليه وسلّم حين قيل له هناك السّلام عليك أيها النبي قال: السّلام علينا وعلى عباد الله الصالحين.
روح البيان (5/ 121)
وروى- انه عليه السلام عرج من السماء السابعة الى السدرة على جناح جبريل ثم منها على الرفرف وهو بساط عظيم قال الشيخ عبد الوهاب الشعراني هو نظير المحفة عندنا ونادى جبريل من خلفه يا محمد ان الله يثنى عليك فاسمع وأطع ولا يهولنك كلامه فبدأ عليه السلام بالثناء وهو قوله (التحيات لله والصلوات والطيبات) اى العبادات القولية والبدنية والمالية فقال تعالى (السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته) فعمم عليه السلام سلام الحق فقال (السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين) فقال جبريل (اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله) وتابعه جميع الملائكة.
فتح الملہم (ج 3، ص 314)، دار الاحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان
وفی المرقاۃ: "قال ابن الملك: روي أنه صلى الله عليه وسلم لما عرج به...الخ". قلت: لم اجد لھذہ القصۃ اسنادا، وقد صرح فی الدر المختار انہ یقصد بالفاظ التشھد الانشاء لا الاخبار والحکایۃ. واللہ اعلم.

ناصر خان مندوخیل

دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی

29/07/1442 ھ

n

مجیب

ناصر خان بن نذیر خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔