021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیاقرآن مجید کی تلاوت سنناواجب ہے؟
72528نماز کا بیاناذان و اقامت کے مسائل

سوال

سوال:علماء کرام اس مسئلےکےبارےمیں کیافرماتےہیں کہ اگرکوئی آدمی قرآن مجید کی تلاوت جہراکررہاہوتوباقی ساتھیوں پرسماعت واجب ہوتی ہےیانہیں اووہ تلاوت مسجدسےباہرکلاس میں یاویسےکسی مجلس میں ہواوراگرواجب ہےتواس پرسننےوالابھی گناہگارٹھہرےگا۔

جب حفظ قرآن کی کلاس میں جب بچہ سبق سنارہاہوتاہے تواس کی آوازباقی بچوں تک  بھی پہنچ رہی ہوتی ہےتووہاں پرکیاحکم ہے؟

 

o

نمازکےاندرخاموش ہوکرتلاوت سنناواجب ہےاورنمازسےباہرتلاوت کےبارےمیں دوقول ہیں،ایک قول تویہی ہےکہ جس طرح نمازکےاندرتلاوت سنناواجب ہےاسی طرح نماز سےباہربھی خاموش رہ کرسنناواجب ہے۔

دوسراقول یہ ہےکہ نمازسےباہرتلاوت سننااورخاموش رہنامستحب ہےواجب نہیں،متاخرین فقہاء کرام نےآسانی اورسہولت کےلیےاسی قول کوترجیح دی ہے،حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالی نےامدادالفتاوی59/4 میں لکھاہےکہ"میں آسانی کےلیےاسی قول  کواختیارکرتاہوں"

اگرکہیں تلاوت ہورہی ہواورخاموش رہ کرتلاوت سننےمیں حرج نہ ہوتوبہتریہ ہےکہ خاموشی سےتلاوت سنی جائے،ہاں تلاوت کرنےوالےکواس کاخیال کرناچاہیےکہ عام مجلس  جہاں لوگ دوسرےکاموں میں مشغول ہوں وہاں تلاوت جہرانہ کرے،بلکہ سرا(خاموشی سے)کرےتاکہ لوگوں کوحرج نہ ہو۔

حفظ قرآن کےدوران جوبچےتلاوت کررہےہوتےہیں،اس کاحکم بھی یہی ہےکہ ایسی صورت حال میں خاموشی سےسننا واجب نہیں ہوتا،لہذااگرآوازپہنچ بھی رہی ہوتب بھی کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

" تفسير المنار 9/552 - 553 .
وحكى ابن المنذر الإجماع على عدم وجوب الاستماع والإنصات في غير الصلاة والخطبة وذلك أن إيجابهما على كل من يسمع أحداً يقرأ فيه حرج عظيم لأنه يقتضي أن يترك له المشتغل بالعلم علمه والمشتغل بالحكم حكمه ، والمتبايعان مساومتهما وتعاقدهما وكل ذي شغلٍ شغله ۔
"أحكام القرآن للجصاص"1 / 267:
وروى ثابت بن عجلان عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قوله تعالى: {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا} قال: "المؤمن في سعة من الاستماع إليه إلا في صلاة مفروضةالخ
"الفتاوى الهندية " 42 / 457:
لا يقرأ جهرا عند المشتغلين بالأعمال الخ

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

01/شعبان 1442 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔