021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منہ میں چھالوں کی وجہ سےدل میں  تلاوت کرنے کاحکم
73092نماز کا بیانقراءت کے واجب ہونے اور قراء ت میں غلطی کرنے کا بیان

سوال

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ منہ میں کبھی کبھاراتنےزیادہ چھالےپڑجاتےہیں کہ نمازمیں الفاظ اداء نہیں کرسکتا،دل ہی دل میں الفاظ پڑھ لیتاہوں۔

کیامجبوری کی وجہ سےالفاظ کےبغیرنمازاداءہوسکتی ہےیااعادہ واجب ہے؟

 

o

دل میں پڑھنےسےنمازنہیں ہوتی،زبان سےالفاظ اداء کرناضروری ہے،صورت مسئولہ میں جتناممکن ہوسکےزبان سےہی الفاظ اداء کیےجائیں(اگرچہ تھوڑی بہت مشقت ہو)۔اب تک جتنی نمازیں اس طرح الفاظ کےبغیرصرف دل میں تلاوت کرکےپڑھی ہیں،ان کااعادہ بھی واجب ہوگا۔

حوالہ جات

"رد المحتار" 4 / 161( قوله وأدنى الجهر إسماع غيره إلخ ) اعلم أنهم اختلفوا في حدوجودالقراءة على ثلاثة أقوال : فشرط الهندواني والفضلي لوجودها خروج صوت يصل إلى أذنه وبه قال الشافعي ۔وشرط بشر المريسي وأحمد خروج الصوت من الفم وإن لم يصل إلى أذنه ، لكن بشرط كونه مسموعا في الجملة ، حتى لو أدنى أحد صماخه إلى فيه يسمع ۔ولم يشترط الكرخي وأبو بكر البلخي السماع ، واكتفيا بتصحيح الحروف ۔۔۔۔وذكر أن كلا من قولي الهندواني والكرخي مصححان ، وأن ما قاله الهندواني أصح وأرجح لاعتماد أكثر علمائنا عليه ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

26/شعبان 1442 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔