021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کےکہنے پرطلاق کی نیت وارادےکےبغیرتین مرتبہ کہا”میں تمہیں طلاق دیتاہوں”
73973طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

سوال:میرانام نعیم الظفربن علیم الظفرہےاورمیری بیوی کانام سحرنعیم بنت عبدالرشیدصدیقی ہے۔

ہماری شادی 30مارچ 2012کوہوئی تھی۔

پچھلے9سالوں میں میری بیوی سےاکثرتلخ کلامی ہوجاتی،جس پروہ ہمیشہ مجھ سےطلاق کامطالبہ کرتی رہتی تھیں۔

پھر27جولائی 2021کورات 4بج کر 25 منٹ پرمیری بیوی مجھ سےطلاق کامطالبہ کرنےلگی کہ آپ مجھے چھوڑدیں،جب میں نےانکارکیاتوکہنےلگی کہ اگرآپ مجھے ابھی اسی وقت طلاق نہیں دوگےتومیں اچانک کہیں چلی جاوں گی،اوربیٹی کوبھی چھوڑجاؤں گی،پھرتم میرےاباکوجواب دیتےرہناکہ ان کی بیٹی کہاں گئ،یہ بات چیت سن کرمیں چپ ہوگیا،پھرمیں نےکہاجاؤصبح بات کریں گےجبکہ ہمارےدرمیان کوئی جھگڑابھی نہیں ہواتھا،مگروہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں اکثرطلاق کامطالبہ شروع کردیتی تھی،پھراس نےکہاکہ آپ ابھی مجھے طلاق نہیں دوگے،تومیں ابھی اپنےہاتھ کی نس کاٹ لوں گی،اوراس بات پربضدرہی کہ مجھے طلاق دوورنہ میں اپنی جان لےلوں گی۔

میں اللہ کوحاضرناظرجان کرحلفیہ کہتاہوں کہ درج ذیل الفاظ میں نےاپنی بیوی کی جان بچانےکےلیےادا کیے،میرااپنی بیوی کوطلاق دینےکاکوئی ارادہ نہیں تھااورنہ ہی ایسی کوئی طلاق دینےکی نیت تھی،اس وقت میں نےدل میں ضروراللہ کوگواہ بنایاتھاکہ اےمیرےاللہ یہ طلاق کےالفاظ میں اپنی نیت اورطلاق کےارادےسےاداء نہیں کررہاہوں، صرف اس کی جان بچانےکےلیےبول رہاہوں،اب میراگھرٹوٹنےسےتوہی بچانےوالاہے۔

اس کےبعدمیں نےایک بارکہاکہ" میں تمہیں طلاق دیتاہوں"

پھراس نےکہاکہ ایک بارنہیں 2باراورکہوپھرمیں نے2دفعہ یہی الفاظ پھرکہہ دیے۔

جب کہ اللہ گواہ ہےکہ میرےدل میں طلاق دینےکی کوئی نیت اورارادہ نہیں تھا،اورنہ ہے۔

مفتی صاحب آپ مجھےبتائیں کہ یہ طلاقیں ہوئی یانہیں؟

مگرمیری بیوی عدت میں بیٹھی ہے اوروہ کہتی ہےکہ طلاق ہوگئی ہے،اورمجھ سےپردہ کرنےلگی ہے،البتہ فتوی کےلیےرضامندہے۔برائےمہربانی قرآن وسنت سےمیری راہنمائی فرمائیں،اورمجھےفتوی عنایت فرمائیں۔

 

o

مذکورہ بالاالفاظ طلاق کےمعنی اداکرنےکےلیےچونکہ صریح الفاظ کےطورپراستعمال ہوتےہیں،اس لیےان الفاظ میں اگرنیت نہ بھی ہوتوطلاق واقع ہوجاتی ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ تین دفعہ یہ الفاظ کہےگئےہیں،اس لیےطلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہے،اس کےبعدبغیرحلالہ کےدوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،عورت کاعدت گزارناشرعادرست ہے،عورت عدت گزارنےکےبعدکہیں اورشادی کرسکتی ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار"10 /  500:
باب الصريح ( صريحه ما لم يستعمل إلا فيه ) ولو بالفارسية ( كطلقتك وأنت طالق ومطلقة )
"رد المحتار"11 /  01:
( قوله ولو بالفارسية ) فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية ۔۔۔۔۔
"ھدایۃ " 2 /378:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ الخ لاتحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحاصحیحاویدخل بہاثم یطلقہاأویموت عنہا۔
"صحيح البخاري '7 / 439 :حدثنا محمد حدثنا أبو معاوية حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت طلق رجل امرأته فتزوجت زوجا غيره فطلقها وكانت معه مثل الهدبة فلم تصل منه إلى شيء تريده فلم يلبث أن طلقها فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله إن زوجي طلقني وإني تزوجت زوجا غيره فدخل بي ولم يكن معه إلا مثل الهدبة فلم يقربني إلا هنة واحدة لم يصل مني إلى شيء فأحل لزوجي الأول فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تحلين لزوجك الأول حتى يذوق الآخر عسيلتك وتذوقي عسيلته۔
"رد المحتار" 10 /  456:( ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ) ولو تقديرا بدائع ، ليدخل السكران ( ولو عبدا أو مكرها ) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق۔۔
"رد المحتار" 10 / 457:( قوله فإن طلاقه صحيح ) أي طلاق المكره۔
"الهداية في شرح بداية المبتدي"1/ 224: وطلاق المكره واقع " خلافا للشافعي رحمه الله۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

18/محرم الحرام 1443 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔