021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھریلومسائل کی وجہ سے والدین سے الگ منزل میں رہائش کا مطالبہ کرنا
74075ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

(2)کیا موجودہ گھر میں ایک علیحدہ پورشن کی درخواست جہاں میں اپنی مرضی سے پرسکون اور بغیر کسی کے دخل اندازی کے جیسی چاہوں زندگی گزارسکوں کا مطالبہ غیر شرعی ہے؟

(3)کیا مندرجہ بالا تفصیل کی بنیاد پر اس وقت بھی مجھ پر والدین کی اطاعت لازم ہے کہ وہ جو چاہے میرے بارے میں فیصلہ کریں،جس کو چاہیں میری زندگی میں شامل کریں یا نہ کریں،یا جسے چاہے میری زندگی میں مداخلت کی اجازت دیں اور میری کسی بھی بات کو تمام بھائیوں میں پھیلائیں۔

o

(2،3)والدین کو چاہیے اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف اور برابری کا خیال رکھیں،بغیر کسی معقول وجہ کے دانستہ طور پر بعض کو بعض پر فوقیت اور ترجیح نہ دیں،نہ چھوٹوں کو بڑوں پر اور نہ لڑکوں کو لڑکیوں پر،کیونکہ اس کی وجہ سے اولاد کے درمیان حسد اور دشمنی کا جذبات پیدا ہوں گے اور خود والدین کے بارے میں بھی منفی تاثر دل میں پیدا ہوگا جو والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کے بجائے نافرمانی کا سبب بنے گا۔

ایک روایت میں آتا ہے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے اپنا کچھ مال عنایت کیا، میری والدہ نے کہا کہ میں اس وقت تک اس پر راضی نہیں ہوں گی جب تک تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنا لو،چنانچہ میرے والد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ آپ اس کو مجھے دیئے گئے ہدیہ پر گواہ بنائیں، رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ: "کیا تم نے اپنے تمام لڑکوں کو اسی طرح ہدیہ دیا ہے؟"میرےوالدنےکہا:"نہیں"رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: "اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے بارے میں عدل سے کام لو"چنانچہ میرے والد نے وہ ہدیہ مجھ سے واپس لے لیا۔

مذکورہ صورت میں چونکہ آپ نے خود والدین کو ساتھ رکھنے کی حامی بھری تھی،اس لیے اب آپ کے لیے بہتر تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ آپ والدین کو خود سے جدا کریں،والدین کو اپنے ساتھ رکھیں،کیونکہ ان کی خدمت کرنا اور انہیں راضی رکھنا آپ کے لیے دنیا و آخرت دونوں کے لحاظ سے باعث سعادت ہےاور انہیں اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کرلیں کہ ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے آپ کو جو شکایات ہیں وہ ان کا ازالہ کردیں،یعنی بقیہ بھائیوں اور ان کی اولاد کی وقت بے وقت آمد و رفت پر پابندی لگادیں اور آپ کی نجی زندگی سے متعلق باتوں کو بقیہ بھائیوں میں نہ پھیلانے کا اہتمام کریں،والدین کا بھی  شرعی اور اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ اس حوالے سے آپ سے تعاون کریں۔

اگر والدین اس حوالے سے آپ کے ساتھ تعاون پر آمادہ نہ ہوں تو پھر آپ علیحدہ پورشن کا مطالبہ کرسکتے ہیں،بشرطیکہ وہ آپ کو علیحدہ پورشن دینے کی استطاعت رکھتے ہوں،اگر وہ آپ کو علیحدہ پورشن دینے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو پھر آپ اپنے لیے علیحدہ رہائش کا بندوبست کرسکتے ہیں اور والدین کو آپ کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہوگا،البتہ علیحدگی کی صورت میں بھی آپ کے ذمے حتی الامکان ان کی راحت اور خدمت کا خیال رکھنا لازم ہے۔

حوالہ جات

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق ": (ج 20 / ص 110) :
"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم، كذا في المحيط.
 وفي فتاوى وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة, ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث, هذا خير من تركه؛ لأن فيه إعانة على المعصية، ولو كان ولده فاسقا لا يعطي له أكثر من قوته".
"صحيح مسلم "(3/ 1243):
"حدثني النعمان بن بشير، أن أمه بنت رواحة، سألت أباه بعض الموهبة من ماله لابنها، فالتوى بها سنة ثم بدا له، فقالت: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم على ما وهبت لابني، فأخذ أبي بيدي وأنا يومئذ غلام، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، إن أم هذا بنت رواحة أعجبها أن أشهدك على الذي وهبت لابنها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا بشير ‍ ألك ولد سوى هذا؟» قال: نعم، فقال: «أكلهم وهبت له مثل هذا؟» قال: لا، قال: «فلا تشهدني إذا، فإني لا أشهد على جور».

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

04/صفر1443ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔