021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ کی مقدار اور والد کی وفات کے بعد شروع کردہ کاروبار میں اختلاف
74103میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص ملک رحیم الدین 2000ء میں فوت ہوگئے۔ اس کے 5 بیٹے (ساجد رحیم، عمر فاروق، خالد رحیم، آصف رحیم، طارق رحیم)، 2 بیٹیاں اور بیوہ تھی۔ ان کا تیل اور کھل کا کاروبار تھا۔   

بقول خالد رحیم:

 والد صاحب کامالِ تجارت تقریباً2 لاکھ 30 ہزار روپے کا تھا، اور ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے نقد رقم تھی۔ اس کے بعد کاروبار چلتا رہا۔ 2003ء میں خالدرحیم  نے دوسری دکان میں    پی۔سی۔او ، کانے، بانس ، موڑھے اور ڈیکوریشن کا کام شروع کیا۔ میں نے قرض لے کر کاروبار شروع کیا، والد کے کھل اور تیل کے کاروبار سے کچھ نہیں لیا، اور 2005 میں اپنے ذاتی کاروبار سے رقم لے کر 10مرلہ کا پلاٹ لیا اور پراپرٹی کا کام شروع کیا۔ اس کو تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا۔ پھر اس کو بیچ کر 50 لاکھ میں دکان خریدی گئی اور اس کو بھی تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا۔ اس دکان کو 97 لاکھ میں بیچا گیا۔ اور یہ ساری پراپرٹی میری ذاتی ملکیت تھی، صر  ف نام کروانے کی حد تک آصف اور طارق کا نام شامل کیا تھا۔

بقول عمرفاروق:

 والد صاحب کامال  تجارت تقریباً13   لاکھ روپے اور نقدرقم 2 لاکھ روپے تھی۔ جبکہ والد صاحب کے کاروبارد کی رقم سے خالد رحیم نے دوسری دکان میں پی۔سی۔او، کانے، بانس، موڑھے اور ڈیکوریشن کامشترکہ کام شروع کیا  ۔پھر والد کے کاروبارسے رقم نکال کر   10 مرلہ کا پلاٹ خریدا۔ اس کو تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا ۔پھر اس کو بیچ کر 50 لاکھ میں دکان خریدی گئی اور اس کو بھی تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا۔اور اس دکان کو 97لاکھ میں بیچا گیا۔مزید پراپرٹی کا کاروبار کیا گیا۔

سرسوں کے تیل کوہلو والا کام اب بھی اُسی طرح موجود ہےاور آصف کی بیوہ کے پاس موجود ہے۔ لہذا 10 مرلہ پلاٹ اور دکان اور اس کے آگے پراپرٹی کے کاروبار میں سب بہن بھائی شریک ہوں گے؟ یا والد نے وفات کے وقت جو رقم اور مال چھوڑا ہے، اس میں سب بیٹے اور بیٹیاں وارث ہوں گے اور جو اس میں مزید 10 مرلہ کا پلاٹ، دکان اور پراپرٹی کی ترقی ہوئی ہے، اس کے مالک کاروبار کرنے والے بیٹے ہی ہیں؟

o

صورتِ مسئولہ میں والد صاحب نے تیل کوہلو کے کاروبار (جو سوال کے مطابق  اب بھی آصف کی بیوہ کے پاس موجود ہے) سمیت جو کچھ چھوٹا بڑا ساز و سامان، نقد رقم، اور جائیداد وغیرہ چھوڑا ہے، وہ سب والد صاحب کا ترکہ ہے جو ان کے تمام ورثا میں تقسیم ہوگا۔ البتہ اگر کسی وارث نے والد صاحب کے ترکہ میں سے اپنا پورا یا کوئی خاص حصہ کسی دوسرے وارث کو بیچا ہو تو اب وہ حصہ اسے نہیں ملے گا، وہ حصہ اس وارث کو ملے گا جس نے اس سے خریدا ہوگا۔

جہاں تک 10 مرلہ پلاٹ، دکان اور آگے پراپرٹی کے کاروبار کا تعلق ہے تو اس بارے میں خالد رحیم اور عمر فاروق کا الگ الگ موقف سوال میں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن ایک تو ان دونوں کا والد صاحب کے مالِ تجارت اور ترکہ کی نقد رقم میں بڑا اختلاف ہے اور  سوال میں کسی کے موقف کا کوئی ثبوت یا قرائن مذکور نہیں، نہ ہی دوسرے ورثا کا موقف لکھا گیا ہے۔ دوسرا خالد رحیم نے جو نیا کاروبار شروع کیا، وہ عمر فاروق کے بقول والد صاحب کی تجارت کی رقم سے مشترکہ طور پر شروع کیا گیا، لیکن سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں ہے کہ کون کون اس کاروبار میں شرکت کے دعویدار ہیں، کاروبار کی ابتدا کیسے ہوئی، اور پھر آگے عملا کس طرح چلتا رہا؟ کون اس میں کیا کام کرتا رہا؟ نیز اس میں بھی دوسرے ورثا کا موقف بھی نہیں لکھا گیا، نہ ہی کسی کے دعویٰ کا کوئی ثبوت یا تفصیل۔

 اس لیے اس سوال کا حتمی جواب لکھنا مشکل ہے۔ ہمارا مشورہ یہ ہے کہ فریقین کسی مستند مفتی صاحب کے پاس جا کر ان کے سامنے ساری تفصیلات اور تمام ورثا کا موقف  وضاحت کے ساتھ رکھ دیں اور بالمشافہہ مسئلہ حل کرادیں۔

 

حوالہ جات

.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  6/صفر المظفر/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔