021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سو سال سے زیادہ قدیم قبرستان کو جنازگاہ و عیدگاہ میں تبدیل کرنا
74447وقف کے مسائلقبرستان کے مسائل

سوال

ہمارے گاؤں میں سوا سال سے بھی زیادہ کا ایک قدیم قبرستان تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے اس قبرستان کو ختم کر کے اس جگہ پر جناز گاہ و عید گاہ بنالی۔ کیا ایسا کرنا جائز تھا؟ کیا قبرستان کو کبھی بھی قدیم ہونے کی وجہ سے ختم کیا جا سکتا ہے؟

o

اگر کسی قدیم وقف قبرستان کی قبریں بوسیدہ ہوجائیں یعنی اس میں مدفون مردوں کے مٹی ہوجانے کا غالب گمان حاصل ہو، اور اس میں مزید نئی اموات کی تدفین کسی وجہ سے مشکل ہو یا اس کی ضرورت باقی نہ رہے اور لوگ وہاں مردے دفنانا چھوڑدیں تو ایسی صورت میں اسے کسی اور وقف میں تبدیل کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، لیکن اگر ایسی صورتِ حال نہ ہو تو اس جگہ کو قبرستان ہی باقی رکھنا ضروری ہے۔

لہٰذا اگر سوال میں ذکر کردہ قبرستان میں مدفون اموات غالب گمان کے مطابق مٹی ہو چکے تھے اور مزید اس قبرستان میں اموات کی تدفین مشکل تھی یا لوگوں نے وہاں مردے دفنانا چھوڑ دیا تھا اور اس کی ضرورت نہیں رہی تھی تو گاؤں والوں کا وہاں جناز گاہ اور عید گاہ بنانا درست تھا، ورنہ نہیں۔

(امداد المفتین:2/655۔ احسن الفتاوی:6/409۔  کفایت المفتی:7/123۔ فتاویٰ محمودیہ:15/354)

حوالہ جات

عمدة القاري (6/ 473):
فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا؛ وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد؛ لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد.
رد المحتار (2/ 245):
إذا بلي الميت وصار ترابا يجوز زرعه والبناء عليه، ومقتضاه جواز المشي فوقه.
الفتاوى الهندية (2/ 470):
وسئل هو (أی القاضي الإمام شمس الأئمة محمود الأوزجندي) أيضا عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره هل يجوز زرعها واستغلالها؟ (1) قال: لا، ولها حكم المقبرة، كذا في المحيط.
حاشیة الفتاوى الهندية (2/ 470):
(1) قوله (قال: لا) هذا لا ینافی ما قاله الزیلعی فی باب الجنائز من أن المیت إذا بلی و صار ترابا جاز زرعه و البناء علیه اه؛ لأن المانع هنا کون المحل موقوفا علی الدفن، فلا یجوز استعماله فی غیره، فلیتأمل و لیحرر، اه، مصححه.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 7/ربیع الثانی /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔