021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عددی چیزوں کی گنتی کا حکم
74557خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں عموما فوٹو کاپی کراتا ہوں، کبھی زیادہ ہوتی ہے اس لیے کہ دکاندار گنتا ہے اور نہ ہی میں، کبھی کہتا ہوں کہ گھر جا کر گن لوں گا، پھر کبھی نہیں بھی گنتا، اس کا کیا حکم ہے؟ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دکاندار گنتا ہے تو الگ عدد آتا ہے اور میں گنتا ہوں تو الگ عدد،ایسی صورت میں جب تک تسلی نہ ہوجائے اس وقت تک استعمال کرنا جائز ہوگا؟

o

فوٹو کاپی عددی چیز ہے اس کی گنتی ضروری ہے۔ اگر کاپی کی تعداد مجہول ہو تو پھر پیسوں کی ادائیگی بھی مجہول ہوگی، جس کی وجہ سے معاملہ فاسد ہوتا ہے۔ لہذا یا تو گن کر تسلی کر لی جائے یا کم از کم قابل ادا رقم پر اتفاق کر لیا جائے تو یہ معاملہ اجرت میں کمی بیشی کر کے درست ہوجائے گا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ:(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة. فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع۔ (بدائع الصنائع:5/156) حوالہ نمبر: /4314069 فتویٰ نمبر: سائل: اسامہ اسماعیل مجیب: عبدالمنعم بن سونا مفتی : شہباز علی مفتی: فیصل احمد مفتی: مفتی: کتاب : خرید و فروخت کے احکام باب: خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل تاریخ: 2021-11-20

عبدالمنعم بن سونا

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

1443.4.13

n

مجیب

عبدالمنعم بن سونا

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔