021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خاتون کے لیے ملازمت کا حکم
74548جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

موجودہ زمانے میں مہنگائی زیادہ ہونے کی وجہ سے صرف مرد کی آمدنی سے بچوں کی بنیادی ضرورتیں پوری نہ ہوں یا گھر کا خرچہ چلانا ممکن نہ ہو تو اس کو عذر بنا کر عورت نوکری کرسکتی ہے؟ اگر اجازت ہے تو پردے اور شعبے کے حوالے اس کی کیا شرائط ہیں؟

o

واضح رہے  کہ عام حالات میں شریعت نے عورت کو گھر کی چار دیواری میں رہنے کی ترغیب دی ہے، یہی اس کی فطرت ہے، اورا سی میں اس کی عزت و آبرو ہے کہ وہ گھر کے اندر کے کام انجام دے اور اپنے بچوں کی تربیت کا فریضہ سر انجام دے اور بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلے، خصوصاً اس زمانے میں جب کہ ہر طرف فتنوں کا سیلاب امڈا ہوا ہے اور بےحیائی وبے پردگی کا دور دورہ ہے، اور مردوں عورتوں کا بے باکانہ اختلاط عام ہے۔  

لیکن اگر معاشی مجبوریاں اور ضروریات ہوں تو پھر انہیں چاہیے کہ گھر پر ہی دست کاری وغیرہ کو ذریعۂ معاش بنائے۔ گھر سے  باہر ملازمت کرنے کی صورت میں مذکورہ بالا غیر شرعی امور سے خود کو بچانا نہایت دشوار ہے۔

البتہ اگر گھر پر کام کرنے کی کوئی صورت نہ ہو تو پھر خاتون مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ کوئی جائز ملازمت کرسکتی ہے:

(1)۔۔۔ راستے میں آتے جاتے ہوئے اور دورانِ ملازمت مکمل شرعی پردے کا اہتمام کرے۔

 (2)۔۔۔ بناؤ سنگھار نہ کرے اور خوشبو نہ لگائے۔

(3)۔۔۔ راستے میں آتے جاتے ہوئے اور دورانِ ملازمت نامحرم کے سامنے بلاضرورت آنے اور بات

چیت سے حتی الامکان اجتناب کرے۔ اور جب بات چیت کرنے کی ضرورت ہو تو حتی الامکان آواز کی نزاکت ولطافت کو ختم کرے اور کسی قسم کی بداخلاقی کے بغیر بتکلف پھیکے انداز میں بات چیت کرے۔

(4)۔۔۔ شادی شدہ ہونے کی صورت میں شوہر کی اجازت ہو، اور غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں ولی یعنی والد وغیرہ کی اجازت ہو۔

(5)۔۔۔ معصوم بچوں اور اہلِ خانہ کے شرعی حقوق پامال نہ ہوں۔

 (باستفادةٍ من فتاوی عثمانی:4/237-238)

حوالہ جات

القرآن الکریم:
{وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [النور: 31].
{يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا} [الأحزاب: 32].
{ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [الأحزاب: 59].
أحکام القرآن-للتهانوی-( ٣/٤٧١):
وبالجملة فاتفقت مذاهب الفقهاء وجمهور الأمة علی أنه لايجوز للنساء الشواب کشف الوجوه والأکف بين الأجانب،  ويستثنی منه العجائز لقوله تعالیٰ:"القواعد من النساء"، الآية، والضرورات مستثناة فی الجميع بالإجماع. فلم يبق للحجاب المشروع إلا الدرجتان الأوليتان: الأولیٰ القرار فی البيوت وحجاب الأشخاص، وهو الأصل المطلوب. والثانية خروجهن لحوائجهن مستترات بالبراقع والجلابيب وهو الرخصة للحاجة. ولاشک أن کلتا الدرجتين منه مشروعتان، غير أن الغرض من الحجاب لما کان سد ذرائع الفتنة وفی خروجهن من البيوت ولو للحوائج والضرورات کان مظنة فتنة شرط عليهن الله ورسوله
صلی الله عليه وسلم شروطاً يجب عليهن التزامها عند الخروج:
1.أن یترکن الطیب ولباس الزینة عند الخروج، بل یخرجن وهن تفلات، کما مر فی کثیر من روایات الحدیث مما ذکرنا.
2.أن لايتحلين حلية فيها جرس يصوت بنفسه، کما فی حديث رقم .42
3.أن لايضربن بأرجلهن ليصوت الخلخال وأمثاله من حليهن، کما هو منصوص القرآن.
4.أن لا يتبخترن فی المشية کيلا تکون سبباً للفتنة، کما مر فی حديث رقم  .
5.أن لا تمشین فی وسط الطریق بل حواشیها، کما فی حدیث رقم 15.
6.أن يدنين عليهن من جلابیبهن بحیث لایظهر شئ منهن إلا عیناً واحدةً لرؤیة الطریق، کما مر من تفسیر ابن عباس لهذه الآیة.
7.أن لایخرجن إلا بإذن أزواجهن، کما فی حدیث رقم 38 .
8.أن لایتکلمن أحداً إلا بإذن أزواجهن، کما فی حدیث رقم.
9.وإذا تکلمن أحداً من الأجانب عند الضرورة فلایخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبه مرض، کما هو منصوص الکتاب.
10.وأن يغضضن أبصارهن عن الأجانب عند الخروج.
11.أن لایلجن فی مزاحم الرجال، کمایستفاد من حدیث ابن عمر رضی الله عنه، لو ترکنا هذا الباب للنساء(رقم25).
فهذه أحد عشر شرطاً وأمثالها یجب علی المرأة التزامها عند خروجها من البیت للحوائج والضروریات، فحیث فقدت الشروط منعن من الخروج أصلاً.
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (1 / 337):
إن الشريعة لم تأذن للمرأة بالخروج من دارها إلا لحاجة ملحة، وقد ألزم أباها وزوجها بأن يكفل لها بجميع حاجاتها المالية………..أما إذا كانت المرأة ليس لها زوج أو أب، أو غيرهما من أقاربهاالذين يكفلون لها بالمعيشة، وليس عندها من المال ما يسد حاجتها، فحينئذ يجوز لها أن تخرج للاكتساب بقدر الضرورة، ملتزمة بأحكام الحجاب.  

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

14/ربیع الثانی /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔