021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ادھار ثمن کی وجہ سے مبیع روکنا اور قیمت کی ادائیگی میں تاخیر
74518خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

خدیجۃ الکبریٰ نے مجھ (ساجد حسین) سے 2019/09/19 کو ایک مکان خریدا جس کی قیمت 22 لاکھ طے پائی۔ 22 لاکھ میں سے 168000  لاکھ نقد ادائیگی پر میں نے مکان کا انتقال خدیجۃ الکبریٰ کے نام کردیا۔ معاہدہ میں  طے ہوا کہ خدیجۃ الکبریٰ بقیہ زرِ بیع میں سے 150000 روپے مؤرخہ 2019/10/20 کو ادا کرنے کی پابند ہے، اس کے بعد باقی 370000 روپے مؤرخہ 2020/3/30 کو ادا کرنے کی پابند ہے۔ معاہدہ میں یہ بھی طے ہوا کہ جب خدیجۃ الکبریٰ بقیہ 520000 رقم ادا کرے گی، تو اس کے بعد میں اسے مکان کا قبضہ دینے کا پابند ہوگا۔ معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے پر فریقین قانونی کاروائی کا حق رکھتے ہیں۔ چونکہ مکان کا قبضہ بقیہ رقم کی ادائیگی پر دینا تھا، اس لیے وہ مکان میرے قبضہ اور تصرف میں رہا، ابھی تک اس میں میں رہ رہا ہوں۔   

بقیہ رقم کی ادائیگی کی مدت آنے پر خدیجۃ الکبری نے مجھے ایک پائی بھی نہیں دی تو میں نے معاہدے کے تحت اپنی بقیہ رقم کا سوال کیا، اس نے مزید دو ماہ کی مہلت مانگی، اس نے کہا کرونا کی وجہ سے میرے حالات ٹھیک نہیں ہیں، لیکن وہ دو ماہ گزرنے کے بعد بھی کچھ نہیں دیا۔ میں نے پھر اس سے اس رقم کا سوال کیا تو اس نے رقم کی ادائیگی سے صاف انکار کیا، ٹال مٹول کرتے کرتے چھ ماہ مزید گزر گئے۔

اس کے بعدمیں نے ایک جگہ پلاٹ خریدنا چاہا جس کی نقد قیمت تین لاکھ پچاس ہزار روپے تھی، اور قسطوں پر چار لاکھ قیمت تھی۔ میں نے خدیجۃ الکبری کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا اور اسے بتایا کہ میرے حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں، اگر آپ میرے پیسوں میں سے مجھے قسط دیں گے تو میں یہ پلاٹ خرید لوں گا، ورنہ نہیں خریدوں گا۔اس نے وعدہ کیا کہ آپ قسطوں پر پلاٹ لیں، میں پابندی سے ہر مہینے کی قسط ادا کروں گی۔ میں نے قسطوں پر پلاٹ پچاس ہزار روپے مہنگا لیا، پلاٹ کے مالک سے ماہانہ 15 ہزار قسط کا ایگریمنٹ کیا۔ خدیجۃ الکبریٰ نے مجھے 10 ہزار ماہانہ دینے کا وعدہ کیا۔ اس نے دو ماہ تو پابندی سے رقم ادا کی، لیکن تیسرے مہینے قسط ادا کرنے سے انکار کردیا۔ اب چھ ماہ مزید گزر گئے۔  

میں نے جس سے پلاٹ خریدا تھا، اس نے بتایا تھا کہ 3 ماہ کی قسطیں ادا نہ کرنے پر معاملہ ختم ہوگا، ہم نہ آپ کو پلاٹ دیں گے، نہ ادا کردہ رقم واپس کریں گے۔ چنانچہ 6 ماہ کی قسطیں ادا نہ کرنے کی وجہ سے انہوں نے پلاٹ کا معاملہ ختم کر کے پلاٹ بھی واپس لیا، اور میرے ایک لاکھ ایڈوانس اور دو ماہ کی قسطوں کے 30 ہزار روپے بھی ضبط کرلیے۔ اس طرح مجھے 1 لاکھ 30 ہزار روپے کا مزید نقصان ہوا۔  

جب میں عدالت جانے لگا تو خدیجۃ الکبریٰ نے مجھ سے کہا کہ آپ مکان خالی کریں، ہم اس کو بیچ کر آپ کی باقی رقم ادا کردیں گے۔ میں نے کہا میں ایسا نہیں کر سکتا، ہمارا ایگریمنٹ اس بات پر ہوا تھا کہ پہلے آپ مجھے یہ بقیہ رقم دیں گے پھر میں آپ کو مکان کا قبضہ دوں گا۔ اس کے بعدمیں نے عدالت رجوع کیا اور کیس دائر کیا۔ اس کے بعد اس نے رقم ادا کرنے کا کہا، لیکن میں نے رقم لینے سے انکار کیا اور کہا کہ اب شریعت اور عدالت جو فیصلہ کرے گی، میں اس کا پابند ہوں گا۔

خدیجۃ الکبریٰ نے بھی میرے خلاف یہ کیس دائر کیا کہ یہ میرے مکان میں رہ رہا ہے اور ابھی تک کوئی کرایہ نہیں دیا، یعنی وہ مکان جو میں نے اس کو بیچا ہے اور ابھی تک قبضہ نہیں دیا، بلکہ میرے استعمال میں ہے۔  مہربانی فرماکر شریعت کی رو سے اس مسئلہ کا جواب دے دیں۔ معاہدہ کی کاپی منسلک ہے۔

o

اس سوال کے جواب سے پہلے بطورِ تمہید یہ بات سمجھنا ضروری کہ خرید و فروخت کے معاملے میں اگر مبیع (جو چیز بیچی جا رہی ہو) کی مکمل یا کچھ قیمت ادھار طے ہوجائے تو ادھار قیمت کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے بائع (فروخت کنندہ) مشتری (خریدار) سے کوئی  چیز رہن (سیکورٹی) کے طور پر لے سکتا ہے۔ لیکن مشتری کو قبضہ دینے سے پہلے وہی مبیع اپنے پاس روکنا جائز نہیں، البتہ اگر وہ مشتری کو ایک دفعہ مبیع کا قبضہ دیدے تو پھر وہی مبیع بھی اس سے رہن کے طور پر واپس لے سکتا ہے۔    

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے اپنا مکان خدیجۃ الکبریٰ کو بائیس لاکھ روپے میں بیچا، اور 1680000 روپے نقد وصول کر کے بقیہ 520000 دو ادھار قسطوں میں ادا کرنے کے لیے اسے متعین وقت دیا تو اس کے بعد آپ کا خدیجۃ الکبریٰ کو مکان کا قبضہ نہ دینا اور قبضہ دینے کے لیے بقیہ رقم کی ادائیگی کی شرط لگانا درست نہیں تھا، نہ ہی آپ کے لیے اس مکان میں رہنا جائز تھا۔ آپ پر لازم تھا کہ مکان خدیجۃ الکبریٰ کے حوالہ کرتے۔ چونکہ آپ نے ایسا نہیں کیا، اس لیے اس معاملے میں یہ پہلی غلطی آپ سے ہوئی ہے۔ البتہ جب تک خدیجۃ الکبریٰ نے آپ سے کرایہ کا مطالبہ نہیں کیا، اس وقت تک کا کرایہ آپ پر لازم نہیں، لیکن جب سے اس نے کرایہ کا مطالبہ شروع کیا ہے اس کے بعد سے آپ پر اس مکان کی اجرتِ مثل (یعنی اس علاقے میں اس جیسے مکان کا عام طور سے جو کرایہ رائج ہو) واجب ہے۔

یہ تو مکان کا قبضہ نہ دینے اور اس کے کرایہ کے حکم کا بیان تھا۔ جہاں تک آپ کی بقیہ ادھار قیمت کا تعلق ہے تو جب معاہدے میں بقیہ قیمت کی ادائیگی کی ایک تاریخ متعین کی گئی تھی تو مقررہ تاریخ آنے پر خدیجۃ الکبریٰ کے ذمے معاہدہ کے مطابق بقیہ رقم کی ادائیگی لازم تھی، اس کا بلا وجہ ٹال مٹول کرنا درست نہیں تھا۔ البتہ اگر واقعۃ کورونا کی وجہ سے اس کے حالات ٹھیک نہیں تھے اور وہ ادائیگی پر قادر نہیں تھی تو پھر اس کا مہلت مانگنا درست تھا۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس صورتِ حال کی ذمہ داری آپ دونوں پر آتی ہے۔ اب آپ کے ذمہ لازم ہے کہ آپ خدیجۃ الکبریٰ کو مکان کا قبضہ فوری طور پر دیدے، اور اس کے ذمے لازم ہے کہ وہ بقیہ پانچ لاکھ روپے (کیونکہ بیس ہزار روپے وہ دو قسطوں میں دے چکی ہے) آپ کو فوری طور پر ادا کردے۔  

آپ سے پلاٹ میں ضبط ہونے والی ایک لاکھ تیس ہزار روپے کا حکم اولاً یہ ہے کہ پلاٹ کے مالکان کے لیے یہ رقم ضبط کرنا جائز نہیں، ان پر لازم ہےکہ یہ رقم آپ کو واپس کردے۔ لیکن اگر وہ یہ رقم واپس نہیں کرتے تو آپ خدیجۃ الکبریٰ سے اس کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔ اگرچہ خدیجۃ الکبریٰ پر اپنے وعدہ کی پاسداری کرتے ہوئے بقیہ رقم بر وقت آپ کو دینا لازم تھا، لیکن اس کے حق میں بھی شرعی عذر موجود ہے، اور وہ آپ کا اکثر قیمت وصول کرنے اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لیے بیع میں ادھار وقت مقرر کرنے کے باوجود ابھی تک اسے مکان کا قبضہ نہ دینا اور خود اسے استعمال کرنا ہے۔ نیز اگر خدیجۃ الکبریٰ واقعۃً کورونا کی وجہ سے مالی حالت کمزور ہونے کی وجہ سے ادائیگی نہ کرسکی تھی تو یہ اس کے حق میں دوسرا شرعی عذر سمجھا جائے گا۔

حوالہ جات

توثیق الدیون علی المذاهب الفقهیة الأربعة (200-199):
 إن کان البیع حالا، فللبائع أن یحبس المبیع إلی أن یستوفی الثمن، و المبیع فی هذه الحالة  لیس مرهونا، بل هو محبوس بالثمن، فإن هلك بید البائع هلك بالثمن، بمعنی أنه لا یجب علی المشتری أن یدفع الثمن. أما إن کان البیع مؤجلا، فیجوز أن یکون المبیع مرهونا، و لکن یشترط لجوازه عند الحنفیة أن یقبضه المشتری، ثم یرده إلی البائع لیکون رهنا لدیه لتوثیق الثمن المؤجل، و لا یجوز ذلك قبل قبض المشتری؛ لأنه فی معنی حبس المبیع لاستیفاء الثمن، و ذلك لا یجوز فی البیوع المؤجلة. أما إذا رهنه المشتری بعد قبضه، فإنه یأخذ حکم الرهن فی جمیع الأمور، فإن هلك بید البائع بدون تعد منه یضمن عند الحنفیة الأقل من قیمته و من الدین. و هذا هو الفرق بین حبس المبیع لاستیفاء الثمن فی البیوع الحالة و رهنه عند البائع فی البیوع المؤجلة.   
المجلة (ص: 51):
 مادة 250: يعتبر ابتداء مدة الأجل  والقسط المذكورين في عقد البيع من وقت تسليم المبيع، مثلًا لو بيع متاع على أن ثمنه مؤجل  إلى سنة فحبسه البائع  عنده سنة ثم سلمه للمشتري أعتبر أول السنة التي هي الأجل من يوم التسليم، فليس للبائع حينئذ أن يطالبه بالثمن إلى مضي سنة من وقت التسليم وسنتين من حين العقد.
شرح المجلة للأتاسی (2/ 170-169):
(شرح المادة 250): و لو کان فی البیع خیار فمذ سقوط الخیار عنده؛ لأن ذلك وقت استقرار البیع، و ذلك تحصیلا لفائدة التاجیل، و هی التصرف فی المبیع و إیفاء الثمن من ربح مثلا (در مختار).  أشار بقوله "إلی سنة" إلی أن هذا الحکم فیما إذا کانت السنة منکرة، و مثلها الشهر و الشهران و هکذا. أما لو کانت معینة کسنة کذا و مثله إلی رمضان مثلا فلا؛ لکونه لما عین تعین حقه فیما عینه، فلا یثبت فی غیره. و أشار بقوله "فحبسه البایع" إلی أن هذا الحکم فیما إذا کان منع التسلیم من جهة البایع، أما لو ترك المشتری التسلیم مع تمکنه منه فلا، بل من وقت البیع و التأجیل؛ لأن التقصیر منه حینئذ (أفاده فی الدر و حواشیه).  ثم إن قوله فی أول المادة "المذکورین فی عقد البیع" و قوله فی المثال "علی أن ثمنه مؤجل الخ" یفید أن الحکم لیس کذلك فیما إذا باعه بثمن حال ثم أجله سنة، بل تعتبر من وقت التأجیل و إن أخر البایع تسلیم المبیع، و هو الذی یظهر و إن لم أره صریحا؛ لأنه لما اشتری حالا فقد رضی بإیفاء الثمن من ماله لا من ربح المبیع، تأمل.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 198):
(شرح المادة 250): هذا يكون أولا : إذا لم يخصص الأجل بوقت مخصوص . ثانيا : إذا كان عدم تسليم المبيع ناشئا عن حبس البائع للمبيع ومنعه . ثالثا : إذا كان البيع لازما أي ليس فيه خيار الشرط. فإذا وجدت هذه الشروط الثلاثة ابتدأ مدة الأجل منذ تسليم المبيع؛ لأن فائدة التأجيل تسهيل التصرف في المبيع للمشتري؛ ليؤدي الثمن من ربحه، فللحصول على هذه  الفائدة يجب اعتبار مدة الأجل منذ تسليم المبيع .
إيضاح القيولة : وإنما قيل إذا كان الأجل غير مخصص بوقت؛ لأن مدة التأجيل إذا خصصت بوقت مخصوص، کأن یقال: إن الأجل هو سنة 1331 إلی شهر رجب، و کان الأجل مخصصا على هذا الوجه وحبس البائع المبيع في يده سنة ثم سلمه إلى المشتري بعدئذ فليس للمشتری أن يؤخر دفع الثمن سنة أخرى اعتبارا من تاريخ التسليم بل عليه أداء الثمن إلى البائع فورا ( طحاوي ).
المجلة (ص: 111):
مادة 596: لو استعمل أحد مالا بدون إذن صاحبه فهو من قبيل الغاصب لا يلزمه ضمان منافعه، ولكن إن كان مال وقف أو مال صغير فحينئذ يلزمه ضمان المنفعة أي أجر المثل بكل حال. وإن كان معدا للاستغلال يلزمه ضمان المنفعة يعني أجر المثل إذا لم يكن بتأويل ملك  أو عقد، مثلا لو سكن أحد في دار آخر مدة بدون عقد  إجارة  لا تلزمه الأجرة، لكن إن كانت الدار وقفا أو مال صغير فعلى كل حال يعني إن كان ثمة تأويل ملك أو عقد أو لم يكن يلزم أجر مثل المدة التي سكنها، وكذلك إن كانت دار كراء ولم يكن ثمة تأويل ملك أو عقد يلزم أجر المثل، وكذا لو استعمل أحد دابة الكراء بدون أذن صاحبها يلزم أجر المثل.
شرح المجلة للأتاسی (2/697):
شرح المادة (596): …………………..شرطوا لوجوب الأجر فیه أربعة شروط:
 الأول أن لا یستعمله بتأویل ملك، کبیت معد للإستغلال سکنه أحد الشرکاء فیه، و کحانوت ورثه من أبیه ثم استحقه آخر. الثانی: أن لا یستعمله بتأویل عقد ینبئ عن عدم التزامه الأجرة، کبیت الرهن المعد للإجارة إذا سکنه المرتهن ثم بان للغیر، و کحانوت اشتراه و استعمله مدة ثم استحقه آخر. و الظاهر أن من هذا ما إذا اشتری دابة معدة للکراء و استعملها مدة ثم ردها بخیار عیب ظهر له بعد ذلك.الثالث: أن یکون للمستعمل علم بکونه معدا للاستغلال، حتی لو اختلفا فی العلم و عدمه فالقول للمشتعمل بیمینه؛ لأنه منکر، و الآخر مدعٍ، إلا إذا کان إعداده للاستغلال ظاهرا مشهورا کالخان و الحمام فلا یصدق و الأجر واجب علیه. الرابع أن لا یکون المستعمل مشهورا بالغصب.
فلو فقد شرط من هذه الشروط الأربعة، لا یلزم المستعمل أجر لظهور أنه باستعماله لم یکن ملتزما للأجر. و هذا کله إذا لم یطالبه المالك بالأجر، و إلا فیجب و لو لم یکن معدا للاستغلال.
فقه البیوع (1/89):
الذی یتلخص من القرآن والسنة أن الوعد إذا کان جازماً یجب الوفاء به دیانةً، ویأثم الإنسان بالإخلاف فیه، إلا إذا کان لعذر مقبول.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 15/ربیع الثانی/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔