021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح کےوقت دس ہزارمہر مقررہوابعدمیں بیوی نے سونےکامطالبہ کیاتوکونسامہرلازم ہوگا؟
74585نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!کیافرماتےہیں علماء کرام ومفتیان عظام درج ذیل مسئلہ کےبارےمیں کہ زیداورزینب کانکاح ہوا،عقدنکاح کےوقت دونوں کےدرمیان ایک مہرجودس ہزار روپےتھامقررہوا،اوردونوں اس پرراضی ہوگئے،لیکن دس مہینےبعدبیوی نے پانچ تولےسونےکامطالبہ کیااوریہ مطالبہ مہرکاتھایعنی بیوی اس کومہرسمجھ کرمانگ رہی تھی توشوہر نےناراضگی سےبچنےکےلیےیہ پانچ تولہ سونامان لیالیکن پھردونوں کےدرمیان جدائی ہوگئی،اب مسئلہ یہ معلوم کرناہےکہ شوہرپرمہرکونسالازم ہوگا؟وہ پہلادس ہزارجوعقدنکاح کےوقت ہواتھایادوسرپانچ تولہ سوناجودس مہینوں کےبعدمقررہواتھا؟

 

o

اگرواقعتانکاح کےوقت مہردس ہزارہی طےہوا،پانچ تولہ سونانکاح کےوقت طےنہیں کیاگیااورنہ مہرمیں اضافہ کیاگیا،بلکہ محض بعدمیں بیوی کےاصرارپرناراضگی سےبچنےکےلیےشوہرنےدینےکاوعدہ کیا،چنانچہ وعدہ کرتےوقت شوہرکی طرف سےیہ وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ مہرکےطورپرہوں گےتوایسےمیں شوہرپرشرعانکاح کےوقت طےشدہ مہر(دس ہزارروپے)ہی دینالازم ہوگا۔          

حوالہ جات

"الدر المختار للحصفكي"3 / 122:
(وما فرض) بتراضيهما أو بفرض قاض مهر المثل (بعد العقد) الخالي عن المهر (أو زيد) على ما سمى فإنها تلزمه بشرط قبولها في المجلس۔ 

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

15/ربیع الثانی  1443 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔