021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرآنی آیات دیوار پر لگانے کا حکم
74757جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

آج کل ایک عام رواج بن گیا ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں قرآن کریم کی آیات یا سورتوں کے  کتبے گھروں کی دیواروں پر لگا رہے ہیں ،یہ عمل کس قدر صحیح ہے؟کیوں کہ قرآن کریم کی آیات یا سورتوں کے کتبے لگانا ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن کریم کو آپ نے کھول کر رکھ دیا ہے، اور اس کو پڑھنے والا کوئی نہیں ہے ،اس کے صفحات اڑ رہے ہیں اور اس کی بے ادبی ہو رہی ہے ، اس لیے کہ گھروں میں گانے بجانے بھی ہو رہے ہیں اور دوسری طرف قرآن کریم کے کتبے لگے ہوتے ہیں ،اگر لگانا ہی ہے تو اسے پڑھیں ۔

o

یہ کتبےعموما لگانے والے نیک نیتی ہی سے لگاتے ہیں اور بعض لوگ اُن کو پڑھتے بھی  ہیں، لہذا اگر بے ادبی کا احتمال نہ ہو، تو برکت کے لیے گھر کی دیوار پر قرآنی آیات کے کتبے لگانا جائز ہے، اسےعرفاً بھی بے ادبی نہیں سمجھا جاتا،لیکن اگر کہیں بے ادبی کا احتمال ہو،  یعنی وہاں اگر صفائی کا بالکل خیال نہ رکھا جائےاور وہ جگہ حشرات کی آمدورفت کا  راستہ بن جائے تو ایسی مقدس چیزیں وہاں سے ہٹالیں ۔جو مثال آپ نے قرآن پاک کی دی ہے اس پر قیاس کرنا درست نہیں دونوں میں بہت فرق ہے۔گانا بجانا  تو مستقلاً ناجائز وحرام ہے، جس کا ترک بہرحال مسلمانوں پر واجب ہے۔

حوالہ جات

و فی الفتاوى الهندية:ولو كتب القرآن على الحيطان والجدران بعضهم قالوا: يرجى أن يجوز، ‌وبعضهم ‌كرهوا ‌ذلك ‌مخافة ‌السقوط تحت أقدام الناس، كذا في فتاوى قاضي خان.
( الفتاوى الهندية:5/323)
قال العلامۃ ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ: وفي النهاية وليس بمستحسن كتابة القرآن على المحاريب والجدران لما يخاف من سقوط الكتابة وأن توطأ.( البحر الرائق:2/40)
وقال العلامۃالحصکفی رحمۃ اللہ علیہ: قلت: وظاهر انتفاء الكراهة بمجرد تعظيمه وحفظه علق أو لا زين به أو لا، وهل ما يكتب على المراوح وجدر الجوامع كذا يحرر.
وعلق علیہ ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ: أقول: في فتح القدير: وتكره كتابة القرآن وأسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش .(ردالمحتار:1/179)

محمد طلحہ شیخوپوری

دار الافتاء ،جامعۃ الرشید،کراچی

1جمادی الاولی /1443ھ

n

مجیب

محمد طلحہ بن محمد اسلم شیخوپوری

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔