021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگرمیں فلاں کام کروں توجب بھی شادی ہوئی،میری بیوی کو”ایک دفعہ طلاق”
74779طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

سوال:السلام علیکم  مفتی صاحب میری ابھی شادی نہیں ہوئی،صرف منگنی ہوئی ہےمیں نےخودسےاقرارکیاتھاکہ اگرمیں فلاں کام کروں توجب بھی شادی ہوئی(کیونکہ ابھی شادی کی تاریخ طےنہیں ہوئی،اس لیےکہنےکامقصدتھاکہ جب کبھی مستقبل میں ہوئی)توشادی کےبعدمیری بیوی کوایک دفعہ طلاق ہوگی،کچھ دن بعدمیں نےاپنےاقرارمیں اضافےکی نیت سےکہاکہ اگریہ دوسرافلاں کام کروں تب بھی ایک دفعہ ہوجائےگی،(ایک دفعہ کالفظ خصوصی طورپردوبارہ استعمال کرنےکامقصدخودکودونوں صورتوں میں شادی کےبعد ایک ہی طلاق تک محدود رکھناتھا،یعنی دونوں میں سےکوئی ایک ہوجائےتب ایک طلاق ہوگی یہ مقصودتھا،میری شادی یالڑکی سےکوئی مسئلہ نہیں تھا،بس خودکوخلاف ورزی کی صورت میں شادی کےبعد سزاکےطورپرایک طلاق کےحق سےمحروم کرناتھا۔

سوال نمبر1 :کیاواقعتاکوئی طلاق ہوگئی ہے؟

سوال نمبر2:اگردونوں کاموں کی خلاف ورزی ہوجائےتوطلاق کتنی واقع ہوں گی؟

مفتی صاحب میری عمر22سال ہے،خودکوگناہ سےبچنےکےلیےکہا،کبھی کبھی توخودکشی کاخیال آجاتاہے،میں بہت زیادہ پریشان ہوں عجیب سےوہم اوروسوسےآرہےہیں،مہربانی کرکےمجھےجلدازجلدبتادیں۔جزاکم اللہ

تنقیح:سائل سےفون پرمعلوم کیاکہ کہ دونوں کاموں میں سےکوئی کام ہوگیاہےیانہیں(تاکہ کسی خاص صورت کاحکم لکھاجاسکے)توسائل نےکہاکہ میں شک میں مبتلاء ہوں کچھ کہہ نہیں سکتا،جب مزیدپوچھاتواس نےکہاایک کام آپ سمجھ لیں ہوگیاہے۔سائل کاکہناہےکہ اس کاتفصیلی حکم لکھ دیں تاکہ مجھےاطمینان ہوجائے۔

 

o

موجودہ صورت میں دونوں کاموں میں سےکوئی ایک کام کرلیااوراس کےبعدشادی کی تو بیوی کوایک دفعہ طلاق ہوجائےگی،ایک دفعہ یہ کام ہونےکی صورت میں نکاح کےبعدطلاق کاحکم پوراہوجائےگا،اس لیےاس کےبعددوبارہ اسی عورت سےیاکسی اورعورت سےنکاح کیاجاسکتاہے،ہاں اگردوسراکام بھی کرلےتواس کےبعدنکاح کی صورت میں طلاق واقع ہوجائےگی۔

اس کی ممکنہ طورپر چارصورتیں بنتی ہیں:

۱۔اگردونوں کام ایک ساتھ کرلیےپھرنکاح کیاتوتعلیق کےمختلف اورمتعددہونےکی وجہ سےاگرچہ دوطلاق واقع  ہونی چاہییں،لیکن جب ایک طلاق واقع ہوئی توغیرمدخول بہاہونےکی وجہ سےبیوی بائنہ ہوگئی اورنکاح ختم ہوگیا،اس کےبعددوسری طلاق کامحل نہ رہی،اس لیےصرف ایک طلاق واقع ہوگی،اوراس کےاس نکاح کی وجہ سےدونوں تعلیق پوری ہوجائیں گی،اس کےبعددوبارہ نکاح کی صورت میں مزیدکوئی طلاق واقع نہ ہوگی،البتہ اسی عورت سےدوبارہ نکاح کی صورت میں شوہرکومزیددوطلاق کااختیارہوگا۔

۲۔اوراگرایک کام کرلیا،جس کےبعدطلاق ہوگئی پھراسی عورت سےدوبارہ نکاح کرلیا،اس کےبعد دوسراکام کیاتواس کےبعدچونکہ دوبارہ نکاح نہیں پایاگیا،لہذاموجودہ بیوی پرمزیدکوئی طلاق نہ ہوگی،ہاں اگراس کےبعد دوبارہ نکاح کرےگاتوجس عورت سےنکاح کرےگااسی کوطلاق واقع ہوگی،نہ کہ پہلےوالی کو۔

۳۔اوراگرایک کام کرلیا،جس کےبعدطلاق ہوگئی،طلاق کےبعداس نےدوسراکام(جس سےطلاق کومعلق کیاگیاتھا) کیااب چاہےپہلی بیوی سےنکاح کرےیاکسی اورسےدوسری تعلیق کی وجہ سے طلاق واقع ہوجائےگی،اسی عورت سےنکاح کی صورت میں(دوسری طلاق واقع ہونےکےبعد)اس سےدوبارہ بھی نکاح کیاجاسکتاہے،لیکن اس کےبعدصرف ایک طلاق کااختیارہوگا۔

۴۔اگردونوں کام نہیں کیےاورنکاح کرلیاتوطلاق واقع نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ میں طلاق سےبچنےکی بہترصورت یہ ہےکہ  دونوں کام اگرناجائزہیں توان سےہمیشہ بچارہے،اوراگرجائزہیں تووہ کام کرنےسےپہلےشادی کرلے،اس کےبعداگرکوئی کام ہوبھی جاتاہےتوموجودہ بیوی کوطلاق واقع نہ ہوگی،ہاں اس کےبعداگرنکاح کیاتوپھرطلاق کامسئلہ ہوگا۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" 9 / 213:
إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته : إن دخلت الدار فأنت طالق۔
"بداية المبتدى في فقه الإمام أبي حنيفة" 1 /  72:
وألفاظ الشرط إن وإذا وإذاما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاط إذا وجد الشرط انحلت وانتهت اليمين إلا في كلمة كلما فإنها تقتضي تعميم الأفعال فإن تزوجها بعد ذلك وتكرر الشرط لم يقع شيء ولو دخلت على نفس التزوج بأن قال كلما تزوجت امرأة فهي طالق يحنث بكل مرة وإن كان بعد زوج آخر۔
"رد المحتار "11 /  326:
( وفيها ) كلها ( تنحل ) أي تبطل ( اليمين ) ببطلان التعليق ( إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث )۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

08/جمادی الاولی  1443 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔