021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت اور مشترکہ آمدن سے متعلق سوالات
74802میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے والد فیاض علی مرحوم نے پسماند گان میں ایک بیوہ ، چار بیٹے ریاض علی، الیاس علی، اشتیاق علی اور اعجاز علی اور ایک بیٹی زوجہ محمد مبین کو ترکہ میں ناظم آباد گراؤنڈ، ایک مکان، اور عثمان آباد میں  ۵۶ گز جگہ جس میں،۲۴ گز جگہ پگڑی کی ہےچھوڑی۔ہمارے والد کا ایک کارخانہ تھا ریاض علی اس میں کام کرتے ہوئے سعودی عرب چلے گئے الیاس علی والد کے ساتھ کارخانہ میں کام کرتے رہے ریاض علی سعودی عرب سے اپنی تنخواہ میں سے جو مناسب محسوس کرتے والد کو بغیر کسی شرط اور مقصد کے بھیجتے تھے اور جب سال چھٹی پر آتے نہ کسی بینک میں رقم چیک کرتے، نہ حساب کتاب مانگتے تھے۔والد پڑھے لکھے نہیں تھے اس لئے اکاؤنٹ الیاس علی کے نام تھا۔ سعودی عرب جانے کے ایک سال بعد والد نے دو بیٹوں اورایک بیٹی کی شادی کردی۔نو سال بعد ۱۹۸۶میں ریاض علی واپس آگئے۔

۱۹۸۰  میں والد نے کارخانے کی آمدنی سے حج کیاوالدہ اس وجہ سے حج پر نہ گئیں کہ بچوں کے پاس مکان نہیں ہے۔

۱۹۸۳  میں والد نے ناظم آباد میں ایک ۲۰۰ گز کا چاروں کا مکان خریدا اس میں ۴ دکانیں بھی تھیں، کچھ قرض وغیرہ بھی لیا، دکانوں کے ایڈوانس سے کچھ قرض اتارا۔ ریاض علی کے پاس سے آنے والی رقم کارخانے کی آمدن ،اور کرائے کو جمع کرکے ۱۹۸۵  میں مکان کو گراؤنڈ+ون تعمیر کرالیا۔ہاؤس بلڈنگ سے لون لیا اور اللہ کے فضل سے یہ بنا سود ادا کیا۔گراؤنڈ فلور کا مکان اور ۳ دکانیں کرائے پر دے دیں۔اس دوران ریاض علی نے کوئی تقاضہ نہیں کیا۔

۱۹۸۶ میں ریاض علی پاکستان واپس آگئے ۔چار سال والد صاحب حیات رہے، لیکن ریاض علی نے کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔والد کے انتقال کے کافی عرصے بعد ریاض علی نےالیاس علی سے حساب مانگاتو الیاس علی نے جواب دیاکہ آپ نے سعودی عرب سے جو کچھ بھی بھیجا ہے اپنے والد کو بھیجا ہے اس لئے آپ کو ان سے حساب لینا تھا میں حساب دینے کا پابند نہیں ہوں ، ریاض علی نے سعودی عرب میں رہتے ہوئے ایک مرتبہ والد کو خط لکھا کہ آپ سے حساب مانگو اس وقت سے پہلے مجھے موت آجائے زندگی میں ریاض علی نے الیاس علی سے دوبارہ حساب کا مسئلہ نہیں اٹھایا ۔

ریاض علی نےوالدہ سے زیادہ کمانے کی بنیاد پر ناظم آباد کے مکان میں زیادہ حصہ طلب کیا ،مکان والدہ کے نام تھا لیکن والدہ مکمل اختیارات نہیں رکھتی تھیں نہ والد کی زندگی میں نہ بعد میں۔ اختیارا ت والد کے ہی پاس تھے لیکن والدہ نے ریاض علی کے کہنے پر اسکو گرائونڈ فلور اورتین دکانیںدے دیں ، فرسٹ فلور اشتیاق علی اور اعجاز علی کو اور چھت الیاس علی کو دےدی۔اشتیاق علی اور اعجاز علی کوسیکنڈفلور کی تعمیر کی لاگت کا تیسرا حصہ الیاس علی کو دینے کا کہا لیکن بیٹی زوجہ محمد مبین کو محروم کردیا۔

۲۰۰۰ءمیں والدہ کا انتقال ہوجاتا ہے  اور ریاض علی پھر تقسیم سے انکار کردیتے ہیں کہ میرے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں اس لئےمیں چھت (سیکنڈفلور)پر رہائش اختیار کروں گااور گراؤنڈ فلور کرایہ پر دونگا  ورنہ اسکو فروخت کرکے آدھے پیسے مجھے دو ، جب لڑائی جھگڑا بہت بڑھ گیا اور ریاض علی ڈنڈا لیکر بیٹھ گئے کہ آج الیاس کو ماردوں گا۔ رشتہ دار جمع کئے تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ تم سب فروخت کرکے رقم تقسیم کردو ہمارا کاروبار بھی ختم ہوگیا اس صورت میں ہم رقم کھا پی کر روڈپر آجاتے یہ بات سوچ کر میں (الیاس علی) نے ریاض بھائی سے کہا کہ فروخت کرنے کے علاوہ کوئی حل سوچو۔

بھائی ریاض علی نے اس کے جواب میں کہا کہ تم ناظم آباد کے مکان سے دستبردار ہوجاؤ ،میں نے یہ سوچ کر انکی بات مانی کہ ابھی غصے میں ہیں مالی حالات بھی خراب ہیں بہتر ہونگے تو کوئی بہتر صورت نکل آئے گی ۔ اس معاملے کے دوران ان کو شریعت کی طرف رجوع ہونے کا کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ کون شریعت پر چل رہا ہے؟ جب میں نے کہا مجھے کیا دو گے تو انھوں نے کہا تم عثمان آباد کی جگہ لےلو ، اور ہمارے یعنی ریاض علی، اشتیاق علی اور اعجاز علی کے حصے اپنے پاس رکھ لینا اور اس میں سے بہن کو حصہ دیدینا، اس وقت اشتیاق علی اور بہن بھی موجود تھی بہن بھی خاموش رہی، یہ سب زبانی ہوا، کسی قسم کی کوئی تحریر وغیرہ نہیں بنائی گئی، میں ۳ یا ۴ سال ناظم آباد کے مکان میں رہا ، عثمان آباد کی جگہ کو میں نے استعمال میں لیا اور اس کے کرایہ کا حساب لگا کر نواں حصہ بہن کو دیتا رہا ۔ ۲۰۰۵ءمیں ناظم آباد کا مکان چھوڑ کر دوسری جگہ شفٹ ہوگیا اسی دوران میرا شریعت سے معلومات حاصل کرنے کی طرف بالکل دھیان نہیں گیا۔

ناظم آباد کا مکان والدہ کے نام ہے اس دوران ہمارے نام ٹرانسفر کرانے کے متعلق بھی کوئی بات نہیں ہوئی۔ میرے ذہن میں یہ بات بار بار آتی رہی کہ ریاض بھائی نے بہن کو ناظم آباد سے محروم کردیا جو غلط ہے لیکن مجھے بھی علماء سے معلوم کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ جولائی ۲۰۱۸ء میں ریاض بھائی کا ہارٹ فیل ہوگیا، لیکن اپنے انتقال کے ۶ ماہ پہلے انہوں نے مجھے کہا کہ تم اب پیپر بناؤ جس میں تحریر ہو کہ یہ مکان میرے(ریاض علی)کے پیسوں سے بنا ہے وہ اسلئے کہ ہمارے بہن اور بہنوئی جب حصہ مانگیں گے تو ان سے کہہ دونگا کہ یہ مکان تو میری رقم سے بنا ہے لیکن میں نے کوئی تحریر نہیں دی اور اشتیاق اور اعجار کو بتا دیا کہ میں نے کسی کو کسی قسم کی کوئی تحریر نہیں لکھی ہے  میرے انتقال کرجانے کی صورت میں میرے نام سے کوئی تحریر آئے تو وہ جعلی ہوگی، ریاض بھائی کے بیٹے عابد علی نےان کےانتقال کے بعد اپنے والد کے حصے میں تعین کا مطالبہ کیا تو میں نے( الیاس علی) نے کہا کہ اس تقسیم میں غلطی کی ہوئی ہے، پہلے اسے درست کرلو پھر تمہارے والد کے حصے کا تعین ہوسکتا ہے ۔

عابد علی نے مفتی حضرات سے رابطہ کیا تو مفتی صاحب نے مجھے بلایا ، تو میں نے عابد علی کے کہنے پر ان کے گھر میں بیٹھ کر ایک تحریر لکھی، جس کے مندرجات درست ہونے کی تصدیق اشتیاق علی ، اعجاز علی اور عابد علی نے کی ۔والدہ عابد علی نے اعتراض کیاکہ میں (الیاس علی)نے اپنے آپ کو بچالیا، اس کے علاوہ کوئی ٹھوس بات نہیں۔

مفتی صاحب نے زبانی صورت حال کو واضح کیا اور عابد علی اپنی والدہ کے ہمنواہ ہوگیا  ،لیکن ایک مجلس میں اس سے بات کی تو زوجہ مبین (پھوپھی) کو ۹ لاکھ دینے پر راضی ہوگیا اس شرط کے ساتھ کہ میری والدہ کو خبر نہ ہو۔ اشتیاق علی کے سامنے یہ بات ہوئی لیکن سارے معاملے کو شریعت کے مطابق حل کرنے پر اشتیاق علی ، اعجاز علی اور عابد علی راضی نا ہوئے ۔ والدہ عابد علی کو خبر ہونے کے بعد انہوں نے کسی قسم کی کوئی رقم دینے سے انکار کردیا بلکہ یہ کہاکہ الیاس علی اپنے پاس سے رقم دے، کیونکہ ان کا بیٹا بیرون ملک میں کام کرتا ہے، کسی بھی شرعی حکم کے ماننے سے انکار کردیااور ہر قسم کے تعلقات ختم کردیے۔

الیاس علی نے اس موقف پر اشتیاق علی ، اعجاز علی اور عابد علی کے اتفاق سے فتویٰ نمبر (۱۱۰۵ ) ۳۱   اکتوبر ۲۰۱۸ءکو جامعہ بنوری ٹاؤن سے لیا اور ایک فتویٰ دارلعلوم کراچی سے دسمبر ۲۰۱۸ کو حاصل کیا ۔ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ ریاض بھائی کے لواحقین کے پاس بھیجا تو انھوں نے ماننے سے انکار کردیا کہ ہم اپنے والد کے فیصلے کو مانتے ہیں شریعت کے احکامات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اشتیاق علی اور اعجاز علی بھی شریعت کے حکم پر آنے کے لئے تیار نہیں ہیں  ان کا کہنا ہے کہ آپ (الیاس علی) نے اٹھارا سال اس فیصلے کو قبول رکھا تو آج بھی اس کو قبول رکھیں۔

بہن زوجہ محمد مبین خاموش رہی ان کو تینوں طرف سے یہی تعاون کی ضرورت ہے بہنوں کا شرعی حق مانگنے کو بہت برا تصور کرتے ہیں ۔

الیاس علی کا موقف ہے شہر کے کسی بڑے مدرسے میں چلو وہاں مفتی حضرات بیٹھتے ہیں، تمام فریق اپنا موقف بیان کریں  وہ جس کے حق میں فیصلہ کردیں ہم اسکو تسلیم کرلیں گے، کیونکہ ان کا فیصلہ شریعت کے مطابق ہوگا  اور وہ کسی کے رشتے دار بھی نہیں ہیں ۔

ریاض بھائی کے بچوں اور بیوہ کا کہنا ہے کہ تم ہمارے والد کی زندگی میں با ت کرتے اب ہم شرعی حکم پر نہیں آتے یا دین سے ناواقف رشتےداروں سے فیصلہ کرانے کے لئے متفق ہیں۔ ریاض بھائی کا بیٹا لوگوں سے فون پر بات کرتا ہے اپنے والد کے سعودیہ عرب کے قیام اور کمائی کی بات کرتا ہے پھر  اس کی ایک ویڈیو بنا کر دلیل دیتا ہے کہ میرے والد نے بہت کمایا جبکہ ہمارے والد فیاض علی کے کارخانے کی آمدنی بھی مناسب تھی ہم انکم ٹیکس بھی ادا کرتے تھے عثمان آباد والی زمین بھی والد کے نام ہے ۔ اور ناظم آباد کا مکان والدہ کے نام ہے ایک اندازے کے مطابق عثمان آبادکی زمین ۵۰ لاکھ کی ہے اور ناظم آباد کا مکان ۵ کروڑ کا ہے ۔

مفتی صاحب اس ساری تفصیل کے بعدمیرے چند سوالوں کا قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں اور اس مسئلے کا کوئی حل پیش فرمائیں۔

سوال نمبر ۱: ریاض علی مرحوم کے اہل خانہ  الیاس علی سے اپنے والد کے سعودی عرب قیام کے دوران بھیجی ہوئی رقم اور ان کے والد سے الگ ہوکر کام کرنے کےدوران کی کمائی کا حساب مانگتے ہیں ان کو اس کا حق ہے ؟

سوال نمبر ۲: والد صاحب کے چھوڑے ہوئے ترکہ کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اس میں ریاض بھائی کا حصہ کتنا بنتا ہے ؟

سوال نمبر ۳: الیاس علی کا ناظم آباد کے مکان پر کتنا حق ہے؟

سوال نمبر۴: کیا ریاض بھائی کو زیادہ کمائی کی بنیاد بنا کر زیادہ حصہ مانگنے کا حق تھا جب کہ والد صاحب کو اپنی تنخواہ کا حصہ اپنی مرضی سے کسی شرط کے بغیر دیا  اور ان کی زندگی میں کوئی سوال نہیں کیا ۔ والدہ نے جس طرح تقسیم کی اور بیٹی کو محروم کیا تو اس تقسیم سے ریاض بھائی نے جوزیادہ حق لیا ان کے لئے حلال ہے یا حرام، اگر حرام ہے تو ایسا ہی حرام ہے جیسا کہ خنزیز حرام ہے؟

سوال نمبر۵: ریاض علی کے ڈنڈے کے زور پر کئے ہوئے فیصلے کی کیا حیثیت ہے اور یہ کتنا بڑا گناہ ہے اور اس گنا ہ کے ساتھ جانے والوں کا کیا انجام ہوگا؟

سوال نمبر ۶: غصب کے مال کو استعمال کرنے والے نمازی بھی ہیں حاجی صاحب بھی ہیں بڑی بڑی قربانی بھی کرتے ہیں تو ان کی عبادات کا کیا ہوگا؟کیا ان سے آخرت میں سوال نہیں کیا جائے گا؟

سوال نمبر ۷: حق کو ادا کئے بغیر کیا معاف کروانے سے معاف ہوجاتا ہے؟

 سوال نمبر۸:صاحب حیثیت کا غریب سے معاف کروانے کا کیا حکم  ہوگا؟

سوال نمبر۹:کسی بھی مرد یا عورت کا اپنا شرعی حق وصول کرنا اپنے استعمال میں لانااپنی اولاد کے سپرد کرنا اللہ تعالی کو پسند ہے یا اپنے بہن بھائیوں کے پاس چھوڑنا پسند ہے؟ آخرت میں اولاد کے سوال کا سامنا تونہیں کرنا پڑیگا؟

سوال نمبر۱۰: اپنے حق کو حاصل کرنے کیلئے عدالت میں جانا کیسا ہے؟

سوال نمبر ۱۱: مرحوم کے اہل خانہ پر کیا فرض نہیں بنتا کہ معاملہ شریعت کے مطابق حل کرلیں یا طے کرلیں؟

دنیا کے تھوڑے سے فائدہ کے خاطر شرائط عائد کرنا کہ (الیاس علی) ہمارے والد کے سعودیہ عرب سے آنے والی رقم کا حساب دیں اور ہمارےوالد صاحب سے الگ ہو کر کاروبار کیا اس کا حساب دیں پھر ہم وراثت کی تقسیم پر بات کریں گے ۔اپنے والد کے غلط فیصلے پر بضد ہونا حقیقت سے نگاہ چرانا اللہ تعالی کے واضح شرعی احکام کو نہ ماننا کیا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا نہیں ؟صرف اس گھمنڈ میں کہ قبضہ انکے پاس ہے کاغذات انکے پاس ہیں۔

وضاحت: الف: سائل نے فون پر بتایا کہ ریاض علی کے سعودی عرب میں کام کے دوران تمام بھائی مشترکہ رہتے تھے، اس وقت سب کی آمدن اور کھانا پینا سب مشترکہ تھا، والد گھر کے اخراجات وغیرہ چلاتے تھے، نیز ریاض علی نے ہمارے علم کے مطابق والد صاحب کو کوئی بڑی رقم نہیں بھیجی۔

ب: والدہ نے ریاض علی کو باقاعدہ تقسیم کرکے زیادہ حصہ نہیں دیا تھا، بلکہ مجموعی پراپرٹی میں سے اس کو باقی ورثاء سے زیادہ دیا اور بیٹی کو محروم کر دیا۔    

ج: ناظم آباد والے مکان سے میں نے وقتی طور پر دستبرداری کا اظہار کیا تھا اور صرف یہ شرط لگائی تھی کہ وہ اس مکان کو نہیں بیچیں گے، وہ مکان اب بھی انہیں کے پاس ہے۔مقصد یہ تھا کہ جب حالات بہتر ہوں گے تو بات چیت کر لیں گے۔      

o

سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ فرمائیں:

  1. سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق چونکہ ریاض علی کے سعودیہ میں کام کے دوران  تمام بھائی مشترکہ رہتے تھے، کھانا پینا اور دیگر اخراجات مشترکہ آمدن سے ادا کیے جارہے تھے اور والد صاحب سمیت تمام بھائی اپنی حیثیت کے مطابق مال کما رہے تھے، اس لیے ایسی صورتِ حال میں ریاض علی نے جو رقم اپنے والد مرحوم کو بھیجی تھی وہ سب مشترکہ آمدن میں شمار کی جائے گی اور والد صاحب کے گھرکے تمام اخراجات چلانے کے پیشِ نظر اس کو والد کی معاونت شمار کیا جائےگا،  البتہ اگر انہوں نے بڑی مقدار میں کوئی رقم بھیجی ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس رقم کے قرض ہونے کا گواہوں یا تحریر کے ذریعہ کوئی ثبوت ہو تو وہ قرض سمجھی جائے گی، ورنہ وہ بھی مشترکہ آمدن میں شمار ہو گی اور سب شرکاء  کااس میں حصہ ہوگا۔

البتہ ریاض علی مرحوم نےسعودیہ سے جتنی رقم اپنے والد صاحب کو بھیجی تھی وہ زندگی میں والد صاحب سے اس کے لین دین کا حساب کر سکتے تھے، لیکن والد کی وفات کے بعد ان کواپنے بھائیوں سے حساب لینے کا حق نہیں تھا، اسی طرح اب ان کے بعد ان کی اولاد کواپنے والدمرحوم کی سعودی عرب کی کمائی کا حساب لینے کا شرعاً کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق ریاض علی نے رقم اپنے والد کو دی تھی، کتنی رقم دی تھی ؟ اس کا بھائیوں کو کوئی علم نہیں ہے۔

  1. آپ کے والد صاحب مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں ،البتہ اگر کسی نے بطور تبرع ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد مرحوم کا  وہ قرض  ادا کیا جائے  جس کی ادئیگی مرحوم کے ذمہ  واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ  میں سے ایک تہائی(3/1) تک اس پر عمل کیا جائے۔اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے   اس کوبہتر(72) حصوں میں  برابرتقسیم کرکے  مرحوم کی بیوی کو نو (9) حصے، ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کوسات(7) حصے دیے جائیں، فيصدی لحاظ سے ہر وارث كے حصہ کی تفصیل ذیل کے  نقشہ میں  ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

وارث

    عددی حصہ

فيصدی حصہ

1

بیوی

9

12.5%

2

بیٹا

14

19.444%

3

بیٹا

14

19.444%

4

بیٹا

14

19.444%

5

بیٹا

14

19.444%

6

بیٹی

7

9.722%

 نیزریاض علی مرحوم اپنے والد کے ترکہ میں سے دیگر بھائیوں کے برابر ہی حق دار تھے، جس کی تفصیل پیچھے ذکر کی گئی ہے، لہذا ان کاوالدہ یا اپنے بھائیوں سے اپنے شرعی حصہ سے زیادہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں تھا۔

  1. وراثت ایک شرعی حق ہے، جو آدمی کی وفات کے بعد خود بخود اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور یہ جبری حق ہے،اس لیے یہ حق معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا، نیز فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول لکھا ہے کہ عین چیز سے برأت یعنی دست بردار ہونے کا شرعا اعتبار نہیں، بلکہ وہ چیز بدستور دستبردار ہونے والے کی ملکیت میں باقی رہتی ہے، جیسے کسی شخص نے کوئی چیز مثلا گھڑی وغیرہ بطور ودیعت (امانت) رکھی اور پھر ودیعت رکھنے والے نے کہا کہ میں اس گھڑی سے دستبردار ہوتا ہوں تو اس كےصرف یہ کہنے سے دوسرا شخص اس گھڑی کا مالک نہیں بنے گا، بلکہ وہ گھڑی ودیعت رکھنے والے کی ملکیت سمجھی جائے گی، البتہ اگر یہ شخص یوں کہے کہ میں نے اس گھڑی کا آپ کو مالک بنا دیا تو اس صورت میں دوسرا شخص اس گھڑی کا مالک بن جائے گا اور یہ ہدیہ شمار ہوگا، لہذا ناظم آباد کے مکان سے آپ کا دستبرداری کا اظہار کر نا شرعاً معتبر نہیں، بلکہ آپ بدستور اپنے والد کے اس مکان میں اپنے شرعی حصہ کے مطابق حق دار ہیں۔
  2. جیسا کہ سوال نمبر ایک کے جواب میں تفصیل گزر چکی ہے کہ ریاض علی کو والد صاحب کی وفات کے بعد ان کے ترکہ سے زیادہ حصہ مانگنے کا حق حاصل نہیں تھا، لہذا زیادہ حق کے مطالبہ کے نتیجہ میں انہوں نے والدہ سے جو زیادہ حصہ لیا ہے وہ ان کے لیے حلال نہیں، بلکہ  ان کی اولاد پر لازم ہے کہ اوپر ذکر کی گئی تقسیم کے مطابق جتنا حصہ انہوں نے زیادہ لیا ہے وہ دیگر ورثاء کو واپس کریں اور مرحوم فیاض علی کی بیٹی کا جتنا حصہ بنتا ہے وہ حصہ اس کے سپرد کریں، بصورتِ دیگر ریاض علی کے تمام ورثاء  سخت گناہ گار ہوں گے۔
  3. کسی کا ناجائزطورپر حق دبانے پر قرآن وسنت میں سخت وعیدیں آئی ہیں، ڈنڈے کے زور پر کسی کا حق غصب کرنا کبیرہ گناہ ہے، جس کی تلافی صاحبِ حق کا حق ادا کرنے یا اس کے معاف کرنے کی صورت میں ہو سکتی ہے، ان دو صورتوں کے علاوہ کسی كا  دبایا ہوا مالی حق انسان کے ذمہ سےساقط نہیں ہوتا اور وہ حق  دنیا اور آخرت میں بہت بڑے وبال کا باعث ہوتا ہے،  لہذا اس حق کی تلافی ریاض علی کے ورثاء کو ضرورکرنی چاہیے، تاکہ ان کے والد آخرت میں اللہ کے ہاں نجات پا سکیں۔
  4. ہر عبادت کا ثواب اورہر گناہ کا وبال علیحدہ علیحدہ ہے، جو شخص جتنی عبادت کرتا ہے اس کو اس کی عبادت کا اجروثواب ضرور ملے گا، البتہ اس کے ساتھ اس نے جتنے گناہ کیے ہوں گے ان کے بارے میں بھی باز پرس ضرور ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ اگر چاہیں تو اس کومعاف کر دیں اور چاہیں تو اس کو اس کے گناہوں کے سبب عذاب میں مبتلا فرمائیں گے۔(العیاذ باللہ) لہذا کسی کا مال ناحق استعمال کرنے کا گناہ اپنی جگہ پر ہے، مگر اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ عبادات کا اجر ضائع نہیں  کرتے۔ البتہ دنیا میں دبایا گیا مالی حق انصاف کے تقاضے کے پیشِ نظر قیامت کے دن ضرور ادا کرنا پڑے گا اور اس دن مالی حق کی ادائیگی نیکیوں کی صورت میں ہو گی، اگر اس شخص کے پاس نیکیاں کم اوراس کے ذمہ میں لوگوں کے ضائع کیے ہوئے مالی حقوق زیادہ ہوئے تو اس صورت میں حدیثِ پاک میں تصریح کے مطابق اس کے پاس نیکیاں ختم ہونے کے بعد لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے ان کے گناہ اس کے ذمہ ڈالے جائیں گے اور پھر ان گناہوں کے نتیجہ میں اس کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔(العیاذ باللہ)
  5. اس کا جواب سوال نمبر۵ کے جواب میں گزر چکا ہے۔
  6. حدیثِ پاک میں آیا ہے کہ کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی اور خوشنودی کے بغیر حلال نہیں ہے، لہذا کسی غریب آدمی سے اس کا حق معاف کروانے کے لیے اس پر زور اور زبردستی کرنا ہرگز جائز نہیں، زبردستی اور مجبوراً غریب آدمی کے معاف کرنے سے اس کا حق معاف نہیں ہو تا، بلکہ بدستور وہ حق معاف کروانے والے ذمہ  کےواجب رہتا ہے، جس کی ادائیگی اس پر لازم ہو تی ہے۔
  7. کسی بھی شخص کا اپنا شرعی حق وصول کرنا بلا شبہ جائز ہے اور اس حق کو اپنے استعمال میں لانے یا اپنی اولاد کے پاس چھوڑ جانے میں بھی کوئی حرج نہیں، بلکہ غریب اولاد کے پاس اپنا مال چھوڑ کر جانا باعثِ ثواب ہے۔ جہاں تک بہن بھائیوں کا تعلق ہے تو اپنی ہمت کے مطابق ان کا بھی تعاون کرنا چاہیے، خصوصاً جب بہن بھائی غریب اور اولاد صاحبِ ثروت ہوتو ایسی صورت میں بہن بھائیوں کا تعاون کرنا زیادہ بہتر ہے، البتہ اپنا اولاد کو چھوڑ کر اپنا تمام مال بہن بھائیوں کو دینا درست نہیں، کیونکہ اولاد شرعی نقطہٴنظر سے وراثت کی مستحق ہوتی ہے اور کسی بھی وارث کو محروم کرکے کل جائیداد غیرِوارث کو دینا شرعاً جائز نہیں۔

یہ حکم عام حالات سے متعلق ہے، جہاں تک مذکورہ صورتِ حال کا تعلق ہے تو اس میں چونکہ آپ کے بھتیجے وغیرہ آپ کے حصے پر قابض ہیں، ایسی صورت میں قطع رحمی اور لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپس میں صلح کا معاملہ کر لیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر رشتہ داری کو بچانے کے لیے صلح کرنے پر آپ کو بہت اجر وثواب ملے گا۔

  1.  کسی بھی جائز طریقہ سے اپنا شرعی حق وصول کرنے کی شرعاً اجازت ہے، لہذا اپنا حق وصول کرنے کے لیے عدالتی کاروائی کرنا درست ہے۔
  2. مرحوم کے ورثاء پر لازم ہے کہ وہ اپنے دادا کی وراثت کو شریعت کے اصولوں کے مطابق تقسیم کریں، جس کا جتنا حق بنتا ہے اس کے سپرد کریں، بلاوجہ چند روزہ زندگی کی خاطر دوسرے ورثاء کا حق نہ دبائیں، جب تک دوسرے ورثاء کے مال پر ناجائز قبضہ رہے گا، اس وقت تک کبیرہ گناہ کے مرتکب ہونے کی وجہ سے مال میں بے برکتی، گھر میں بے سکونی رہے گی اور پھر دنیا میں تلافی نہ کی گئی تو وفات کے بعد آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہے، لہذا اپنی اور اپنے والد کی آخرت سنوارنے کے لیے ان کے ورثاء پر لازم ہے کہ ہر وارث کو ان کا حق دیں یا کم از کم ان کے ساتھ بیٹھ کر آپس میں صلح کا معاملہ کر لیں۔

نیزریاض علی کے ورثاء کا یہ کہنا کہ ہم کسی شریعت کو نہیں مانتے، انتہائی خطرناک گفتگو ہے، اس سے آدمی کا ایمان ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، لہذا ان پر لازم ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کریں اور آئندہ کے لیے اس طرح کے جملے زبان پر لانے سے مکمل اجتناب کریں۔

حوالہ جات

  القرآن الکریم : [النساء/11]:
يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۔
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن۔
صحيح مسلم (3/ 1231) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يأخذ أحد شبرا من الأرض بغير حقه، إلا طوقه الله إلى سبع أرضين يوم القيامة»
صحيح مسلم (4/ 1997) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «أتدرون ما المفلس؟» قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع، فقال: «إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة، وصيام، وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه، ثم طرح في النار»
السنن الكبرى للبيهقي (8/ 316) دار الكتب العلمية، بيروت:
 عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال رجل مسلم لأخيه , إلا ما أعطاه بطيب نفسه " لفظ حديث التيمي وفي رواية الرقاشي: " لا يحل مال امرئ , يعني مسلما , إلا بطيب من نفسه "
فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 442) دار الفكر،بيروت:
قلت: الكلام في الصلح عن أعيان التركة، والإبراء عن الأعيان باطل على ما صرحوا به۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 398) دار إحياء الكتب العربية:
(صالح على بعض ما يدعيه لم يصح) يعني إذا ادعى رجل على آخر دارا فصالحه على قطعة منها لم يصح الصلح وهو على دعواه في الباقي لأن الصلح إذا كان على بعض المدعى كان استيفاء لبعض الحق وإسقاطا للبعض، والإسقاط لا يرد على العين بل هو مخصوص بالدين حتى إذا مات واحد وترك ميراثا فبرئ بعض الورثة عن نصيبه لم يجز لكونه براءة عن الأعيان (إلا بزيادة شيء في البدل أو الإبراء عن دعوى الباقي) هذا ما قالوا من الحيلة في جواز الصلح على بعض المدعى وهو أن يزيد على بدل الصلح دوما مثلا ليكون مستوفيا بعض حقه وأخذ العوض عن البعض أو يلحق به ذكر البراءة عن دعوى الباقي لأن الإبراء عن دعوى العين جائز۔
        
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 94) دار المعرفة،بيروت:
(سئل) في إخوة خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدة حصلوا بسعيهم وكسبهم أموالا فهل تكون الأموال المذكورة مشتركة بينهم أخماسا؟
(الجواب) : ما حصله الإخوة الخمسة بسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماسا۔
شرح المجلة لخالد الأتاسي (ج:4ص:320) مكتبة رشيدية:
قال في الفتاوى الخيرية قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيئ ثم اجتمع لهما قال يكون كله للأب إذا كان الإبن في عياله هو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط: منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق  لهما وكون الابن في عيال أبيه، فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب۔
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 230) دار الكتب العلمية، بيروت:
 استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له استأجر شيئا لينتفع به خارج المصر فانتفع به في المصر، فإن كان ثوبا وجب الأجر وإن كان دابة لا.
رد المحتار (4/ 325) دار الفكر-بيروت :
قوله ( وما حصلاه معاً، الخ ) يعني ثم خلطاه وباعه فيقسم الثمن على كيل أو وزن ما لكل منهما وإن لم يكن وزنيا ولا كيليا قسم على قيمة ما كان لكل منهما وإن لم يعرف مقدار ما كان لكل منهما صدق كل واحد منهما إلى النصف لأنهما استويا في الاكتساب وكأن المكتسب في أيديهمافالظاهر أنه بينهما نصفان والظاهر يشهد له في ذلك فيقبل قوله ولا يصدق على الزيادة على النصف إلا ببينة لأنه يدعي خلاف الظاهر ا هـ فتح
مطلب اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية:
تنبيه: يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز فأجاب بأنه بينهما سوية، وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية ولو اختلفوا في العمل والرأي ا هـ
تنقيح الفتاوى الحامدية (4/ 420):
في الفتاوى الخيرية: سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته؟ أجاب: هي للابن، تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه . وأما قول علمائنا "أب
وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله" فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط: منها: (1) اتحاد الصنعة (2)وعدم مال سابق لهما (3)وكون الابن في عيال أبيه، فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب، وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم " لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يصنع"۔
 
فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك اهـ. ...... وأجاب أيضا عن سؤال آخر بقوله: إن ثبت كون ابنه وأخويه عائلة عليه، وأمرهم في جميع ما يفعلونه إليه، وهم معينون له فالمال كله له والقول قوله فيما لديه بيمينه، وليتق الله فالجزاء أمامه وبين يديه، وإن لم يكونوا بهذا الوصف بل كان كل مستقلا بنفسه واشتركوا في الأعمال فهو بين الأربعة سوية بلا إشكال، وإن كان ابنه فقط هو المعين والإخوة الثلاثة بأنفسهم مستقلين فهو بينهم أثلاثاً بيقين، والحكم دائر مع علته بإجماع أهل الدين الحاملين لحكمته.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

17/جمادی الاولیٰ 1443ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔