021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیلی اوروزنی اشیاء
74906خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

سوال:کیافرماتےہیں علماءکرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ کونسی چیزیں کیلی ہیں اورکونسی اشیاء وزنی؟مثلا وزن والی اشیاء سونا،چاندی،نمک،خرما،پیاز،آلو،گندم،جو،بھوساوغیرہ یہ چیزیں کلواورمن کےحساب سےفروخت ہوتی ہیں۔پس کیلی کی تعریف کیاہے،اوران میں کونسی چیزیں شامل ہیں؟

 

o

اشیاءکےکیلی یاوزنی ہونےکاتعلق عرف سےہے،لہذاعرف میں جن چیزوں کی خریدوفروخت وزن کےاعتبارسےہوتی ہے،وہ وزنی شمارہوں گی اورجن چیزوں کی خریدفروخت عام پیمانوں کےذریعہ ماپ کرکی جاتی ہووہ کیلی شمارہوں گی،نیزیہ بھی ممکن ہےکہ ایک چیزایک مارکیٹ میں وزن کےذریعہ بیچی جاتی ہے،لیکن وہی چیزدوسری مارکیٹ میں پیمانےکےذریعہ بیچی جاتی ہو،اس لیےہرعلاقےکےعرف کےمطابق وزنی یاکیلی ہونےکاحکم لگایاجائےگا۔

حوالہ جات

"المبسوط للسرخسي" 12 / 247:
الأصل أن ماعرف كونه مكيلاعلى عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو مكيل أبدا وإن اعتاد الناس بيعه وزنا وما عرف كونه موزونا في ذلك الوقت فهو موزون أبدا وما لم يعلم كيف كان يعتبر فيه عرف الناس في كل موضع إن تعارفوا فيه الكيل والوزن جميعا فهو مكيل وموزون وعن أبي يوسف أن المعتبر في جميع الأشياء العرف لأنه إنما كان مكيلا في ذلك الوقت أو موزونا في ذلك الوقت باعتبار العرف لا بنص فيه من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكنا نقول تقرير رسول الله صلى الله عليه وسلم إياهم على ما تعارفوه في ذلك الشيء بمنزلة النص منه فلا يتغير بالعرف لأن العرف لا يعارض النص۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

17/جمادی الاولی   1443 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔