021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نابالغ بچے کی کفالت اور اس کے مال کی حفاظت کا حقدار کون ہو گا ؟
75231میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ایک بندہ ۲۰۱۰ ء میں فوت ہوا اور میت کی دو بیویاں تھیں۔ پہلی بیوی سے میت کے دو لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں ۔ دوسری بیوی سے دو لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہیں جبکہ یہ دو لڑکے میت کے فوت ہونے کے وقت نابالغ تھے اور ان کی پرورش میت کی پہلی بیوی کے بڑے لڑکے نے کی ہے۔ میت کے فوت ہوتے وقت ملکیت میں دو گاڑیاں ، ایک ٹرک، ایک عدد  چار ایکڑ زمین اور ایک  دوسری زمین   ہے جس پر میت کی اولاد  رہائش  پزیر ہے جو ۱۰۰۰ فٹ ہے۔ ایک زمین اور ہے جو میت کے بھائیوں میں ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ، گھر کی حفاظت کے لئے ایک پسٹل، ایک   کلاشن اور ایک بندوق ہے۔ سوال یہ ہے کہ میت کی دوسری بیوی کا ایک لڑکا  ابھی تک نابالغ ہے اس کا کفیل کون  بنے گا؟ اس کا حصّہ سنبھالنے کے لئے کس کو دیا  جائے گا؟

o

واضح رہے کہ باپ کی وفات کے بعد  اگر نابالغ  بچے کی ملکیت میں اتنا  مال موجود  ہو جس سے اس کا خرچہ برداشت کیا  جا سکتا ہو  تو اس کا ولی بچے کے اپنے مال سے  اعتدال کے ساتھ اس  پر خرچ  کرے گا اور  اگر نابالغ بچے  کی ملکیت میں کوئی مال نہ ہو تو اس کی  کفالت کی ذمہ داری اس کے ان  قریبی رشتہ داروں    پر  ہو گی  جو اس کے وارث بنتے ہیں۔ چنانچہ  اس صورت میں نابالغ لڑکے کی کفالت اس کے دادا کے ذمہ ہو گی، اگر وہ موجود  نہ ہوں یا تنگ دست  ہوں تو  پھر اس  کی کفالت بڑے بھائی کے ذمہ ہو گی جو برسر روز گار   ہو۔ اگر وہ بھی نہ ہو تو پھر چچا  اس کی کفالت کریں  گے۔

نابالغ لڑکے کو اپنے باپ کی میراث میں جو مال ملا ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری با پ کے مقرر کردہ وصی کی ہو گی۔ اگر کسی کو مقرر نہ کیا گیا ہو تو پھر دادا  اس کے مال کی حفاظت کرے گا اور اگر وہ بھی نہ ہو تو اس کا مقرر کردہ وصی اور اگر دادا نے بھی کسی کو  مقرر نہ کیا ہو تو  پھر عدالت  جس کو مقرر کرے وہ حفاظت کرے گا۔ اگر عدالت کی طرف سے اس کا کوئی انتظام نہ ہو تو اس کے خاندان  یا برادری کے بڑے اور تجربہ کار افراد باہمی مشورہ سے تجویز کرلیں کہ بچوں کے  حق میں کیا صورت زیادہ مفید اور قابل اطمینان ہے کہ اس کا مال کس کے پاس رہنا چاہیے ۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 582):
قال: فإن مات الأب فالنفقة على الجد؛ لأنه قائم مقام الأب فإن كان للصغير أم وجد فالنفقة على الأم والجد على قدر ميراثهما أثلاثا بخلاف الأب في «ظاهر الرواية .
 والفرق: وهو أن إيصال النافلة بالجد بواسطة الأب كاتصاله بالأخ، ثم في الأخ والأم النفقة عليهما على قدر ميراثهما أثلاثا فكذا في الجد والأم، وروى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله أن النفقة كلها على الجد، وهذا أليق بمذهب أبي حنيفة رحمه الله في الميراث فإنه يلحق الجد بالأب مطلقا حتى قال: الجد أولى من الأخوة والأخوات۔
( العنایۃ علی الہدایۃ بأسفل شرح فتح القدیر(410,411/4):
مذہب الجمہور اِلی وجوب النفقۃ لسائر الفروع، وان نزلوا، لأن الولد یشمل الولد المباشر وما تفرع منہ، ولأن النفقۃ تجب عندہم بالجزئیۃ لا بالارث، و ولد الولد وان نزل بعض من جدہ، فوجبت النفقۃ علیہ، واِن لم یکن وارثاً منہ۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق (4/ 231):
وفي الخانية ‌صغير ‌مات ‌أبوه وله أم وجد أب الأب كانت النفقة عليهما أثلاثا الثلث على الأم والثلثان على جد الأب اهـ،وبه علم أن الجد ليس كالأب فيها و قال ابن عابدين رحمه الله تعالى في منحة: (قوله: وبه علم إلخ) قال الرملي قال في التتارخانية نقلا عن المحيط تجب عليهما أثلاثا بخلاف الأب في ظاهر الرواية وروى الحسن عن أبي حنيفة أن النفقة على الجد كلها وهو أليق بمذهب أبي حنيفة في الميراث فإنه يلحق الجد بالأب مطلقا حتى قال الجد أولى من الإخوة والأخوات. اهـ.
فعلى ما روى الحسن الجد كالأب فيها اهـ
حاشية ابن عابدين ، رد المحتار ط الحلبي(6/ 771):
لو مات وترك أولادا صغارا، ولا مال له وله أم وجد أبو الأب، فالنفقة عليهما أثلاثا الثلث على الأم، والثلثان على الجد ولو كان كالأب كان كلها عليه اهـ ح۔ أقول: وفي الخامسة نظر لما تقدم قبيل شهادة الأوصياء أن ‌الولاية ‌في ‌مال ‌الصغير لأبيه، ثم لوصي الأب، ثم للجد، ثم لوصيه، ثم للقاضي، ثم لوصيه فالجد يقوم مقام الأب عند عدم الأب، ووصيه فلم يخالف الجد فيها الأب تأمل۔

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۴،  جمادی الثانی  ۱۴۴۳ ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔