021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مونگ پھلی کی فصل کاٹنے سے پہلے اس کا بھوسہ بیچنے کا حکم
75408خرید و فروخت کے احکامزمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل

سوال

بعض اوقات اس طرح بھی ہوتا ہے کہ مونگ پھلی کے بھوسے کو کھڑی فصل میں ہی بیچ دیتے ہیں، یعنی ابھی فصل کٹی نہیں ہے، فصل کٹنے میں تقریبا ایک ماہ باقی ہے، اور کھیتی کا مالک اس فصل کے بھوسے کو آگے فروخت کردیتا ہے کہ جب فصل سے مونگ پھلی نکالیں گے تو بھوسے والا اپنا بھوسہ لے لے گا۔ کیا یہ درست ہے؟ یہ صورت یہاں عام ہے۔ اگر جائز نہیں تو کیا عرف اور عمومِ بلویٰ کی وجہ سے گنجائش ہوسکتی ہے؟ اگر نہیں تو اس کی متبادل جائز صورتیں تحریر فرمادیں۔

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ بھوسے سے مراد وہ گھاس نما سبزہ ہے جو زمین کے اوپر کھیت میں

ہوتا ہے اور اس کی جڑیں زمین میں ہوتی ہیں جن کے ساتھ مونگ پھلی کا دانہ ہوتا ہے۔ اس کی بیع اس طرح ہوتی ہے کہ جب بائع یعنی کھیت کا مالک اپنی مونگ پھلی زمین سے نکالے گا تو خریدار اپنا یہ بھوسہ (گھاس نما سبزہ) لے جائے گا، اور کچھ نہیں ہوتا۔  

o

فقہائے کرام رحمہم اللہ نے بھوسے کو "تذریہ" یعنی غلہ سے الگ کرنے سے پہلے معدوم کے بمنزلہ قرار دیا ہے، اور معدوم ہونے کی وجہ سے اس کی بیع و شرا کو ناجائز فرمایا ہے۔  لیکن صورتِ مسئولہ میں جس گھاس نما سبزے کو بھوسہ کہا گیا ہے، اسے گندم وغیرہ کے بھوسے پر قیاس کرنا درست معلوم نہیں ہوتا؛ کیونکہ زمین سے مونگ پھلی نکالنے اور اس سے الگ کرنے سے پہلے بھی اس کا مستقل وجود ہے جسے عرفا معدوم نہیں سمجھا جاتا؛ اس لیے اسے معدوم کے بمنزلہ قرار دینا مشکل ہے۔ برخلاف عام بھوسے کے کہ دانے سے الگ کرنے سے پہلے اس کا وجود نہ ہونے کے برابر ہوتاہے، اسی وجہ سے اسے معدوم کے بمنزلہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ گھاس نما سبزہ (بھوسہ) عام بھوسے کے بجائے درخت کی ٹہنیوں اور پتوں کے زیادہ مشابہ اور قریب معلوم ہوتا ہے، پھر اس کے کاٹنے کی جگہ تقریبا یقینی طور پر معلوم ہوتی ہے؛ اس لیے اس کی بیع جائز ہونی چاہیے۔ البتہ اگر اس کی بیع ایسے وقت میں ہو جب مونگ پھلی نکالنے میں ابھی وقت باقی ہو تو پھر اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوگا کہ بیع کے اندر اس کی تسلیم کو مونگ پھلی کی فصل کٹنے تک مؤجل نہ کیا جائے، کیونکہ عام بیع میں مبیع کو مؤجل کرنا جائز نہیں۔  

تاہم اگر مونگ پھلی نکالنے سے پہلے اس گھاس نما سبزے (بھوسے) کی بیع کے بجائے وعدۂ بیع کرلیا جائے، اور بیع زمین سے مونگ پھلی نکالنے کے بعد کی جائے تو اس طریقے سے بیع کے جواز پر کوئی اشکال نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 156):
( المادة 5 20 ) : بيع المعدوم باطل فيبطل بيع ثمرة لم تبرز أصلا . المعدوم إما أن يكون معدوما حقيقة أو معدوما عرفا، والمعدوم عرفا هو المتصل اتصالا خلقيا بغيره، وبيع المعدوم سواء أكان حقيقة أم عرفا باطل ( انظر شرح المادة 97 1 ) . مثال ذلك إذا باع رجل من آخر عنب كرمه وهو زهر، أو مهر فرسه وهو جنين، أو زرع أرضه قبل أن يبدو صلاحه أي ينفصل الثمر من الزهر وينعقد ولو صغيرا فالبيع باطل، وكذلك بيع حق التعلي؛ لأنه بيع معدوم، وكذلك بيع التبن و هو في السنبل قبل التذرية باطل؛ لأن التبن لا يكون من السنبل إلا بعد الدراس فبيعه قبل ذلك بيع للمعدوم.
النتف في الفتاوى (1/ 437):
وأحوال المبيع على سبعة أوجه: أولها أن يكون المبيع حاضرا معينا لهما، فالبيع فيه جائز بلا خلاف.  والثاني أن يكون المبيع غائبا وهو على وجهين:  أحدهما يقدر البائع على تسليمه ولا يحتاج أخذه إلى معالجة مثل الأمتعة والحيوانات وغيرها، والآخَر أ ن يقدر على تسليمه ولكن يحتاج أ خذه إلى معالجة مثل الثمار في رؤس الأ شجار والأغصان ونحو ذلك، والبيع في كلاهما جائز.
الدر المختار (5/ 62):
( و ) بيع ( الحمل ) أي الجنين وجزم في البحر ببطلانه كالنتاج ( وأمة إلا حملها ) لفساده بالشرط بخلاف هبة ووصية ( ولبن في ضرع ) وجزم البرجندي ببطلانه ( ولؤلؤ في صدف ) للغرر ( وصوف على ظهر غنم ) وجوزه الثاني ومالك،  وفي السراج لو سلم الصواب واللبن بعد العقد لم ينقلب صحيحا، و كذا كل ما اتصاله خلقي كجلد حيوان ونوى تمر وبن وبطيخ لما مر أنه معدوم عرفا. وإنما صححوا بيع الكراث وشجر الصفصاف وأوراق التوت بأغصانها للتعامل.  وفي القنية: باع أوراق توت لم تقطع قبلة بسنة جاز، وبسنتين لا؛ لأنه يشتبه موضع قطعه عرفا.
رد المحتار (5/ 63):
( وإنما صححوا الخ ) جواب عما استدل به أبو يوسف من جواز الصوف على ظهر الغنم كما في الكراث وقوائم الخلاف بالكسر وتخفيف اللام نوع من الصفصاف أي مع أنها تزيد والجواب كما في الزيلعي أنه أجيز في الكراث والقوائم للتعامل إذ لا نص فيه فلا يلحق به المنصوص عليه ا هـ
وأيضا فالقوائم تزيد من أعلاها أي فلا يحصل اختلاط المبيع بغيره، بخلاف الصوف، ويعرف ذلك بالخضاب كما أفاده الزيلعي،  وفي البحر من فصل فيما يدخل في البيع تبعا عن الظهيرية: اشترى رطبة من البقول أو قثاء أو شيئا ينمو ساعة فساعة لا يجوز كبيع الصوف، وبيع قوائم الخلاف يجوز وإن كان ينمو؛ لأن نموها من الأعلى، بخلاف الرطبات إلا الكراث للتعامل، وما لا تعامل فيه لا يجوز ا هـ.   
قلت: وقوله "للتعامل" علة لقوله إلا الكراث فقط، وإلا فكون قوائم الخلاف تنمو من الأعلى بخلاف الرطبات يفيد الجواز بلا حاجة إلى التعليل بالتعاملوذكر في البحر هنا عن الفضلي تصحيح عدم الجواز في قوائم الخلاف؛ لأنه وإن كان ينمو من أعلاه فموضع القطع مجهول كمن اشترى شجرة للقطع لا يجوز لجهالة موضع القطع، لكن في الفتح أن منهم من منع إذ لا بد للقطع من حفر الأرض، ومنهم من أجاز للتعامل، وفي الصغرى: القياس في بيع القوائم المنع لكن جاز للتعامل، وبيع الكراث يجوز وإن كان ينمو من أسفله للتعامل أيضا، وبه يحصل الجواب عما استدل به الفضلي على المنع في القوائم لمن تأمل،  نهر. قوله ( وشجر الصفصاف ) أي قوائم شجره أي أغصانه. قوله ( وفي القنية باع أوراق توت ) أي مع أغصانها.  قال في القنية اشترى أوراق التوت ولم يبين موضع القطع لكنه معلوم عرفا صح ولو ترك الأغصان له أن يقطعها في السنة الثانية ولو باع أوراق توت لم يقطع قبل بسنة يجوز وبسنتين لا يجوز لأنه بسنة يعلم موضع قطعها عرفا ا هـ.
الفتاوى الهندية (3/ 107):
اشترى أوراق التوت ولم يبين موضع القطع لكنه معلوم عرفا صح. …….. وبيع قوائم الخلاف يجوز وإن كانت تنمو ساعة فساعة، وبيع الكراث يجوز وإن كانت تنمو من الأسفل لمكان التعامل، فأما ما لا تعامل فيه وهو ينمو ساعة فساعة لا يجوز، كذا في الظهيرية …….. ولو باع أشجار البطاطيخ وأعار الأرض يجوز أيضا؛ إلا أن الإعارة لا تكون لازمة ويكون له أن يرجع، كذا في فتاوى قاضي خان.
جامع الفصولين (2/ 60):
"جص": بيع ورق التوت إن يخرج لم يجز، ولو باع الأغصان ليقطعها ثم أذن له في تركها فخرج الورق فهو له تبعاً،وفي موضع آخر يدخل أغصان الشجر في البيع؛ إذ لم يجز بيعها بالانفراد فيصير تبعاً للأصل، وقال بعضهم: كل شيء يزيد من نفسه كأغصان؛ فإنه يجوز بيعه بلا أصله، فلو كان يزيد من أصله لم يجز إفراده من أصله كشعر.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

13/جمادی الآخرۃ /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔