021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی بینکوں کیلئے گھروں کی قیمت لگانے کی خدمت دینا اور اس کی کمائی کا حکم
75707جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص امریکہ میں ایک ایجنسی چلاتا ہے جس کا کام گھر خریدنے اور بیچنے والے کیلئے گھر کی معقول قیمت کا اندازہ لگانا ہے۔ یہ شخص گھر کا محل وقوع، اس کے اندر سہولیات وغیرہ کا جائزہ لیتا ہے اور اس  کی معقول قیمت اپنے صارف کو مہیا کر دیتا ہے اور اس کام کی اجرت لیتا ہے۔ ویسے تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس صورت میں اس آمدنی کا کیا حکم ہو گا اگر یہ ایجنسی    کسی سودی بینک کیلئے اپنی یہ خدمات ادا کرے، کیونکہ بینک نے یہ گھر آگے کسی کو سودی قرضے پر دینا ہے۔ اس لحاظ سے کیا یہ آمدنی حرام ہو گی  یا اس سودی لین دین میں براہ راست شامل نہ ہونے کی وجہ  سے یہ آمدنی ٹھیک ہے؟

o

اگر اس بات کا یقین ہو کہ سودی بینک  گھر کی قیمت اسی لئے لگوا رہا  ہے کہ اس گھر کو آگے سودی قرضہ کے طور پر فروخت کرے  تو   اس صورت میں سودی بینک کیلئے گھر کی قیمت لگانا دراصل ان کے سودی کام  کے چلنے میں سبب بننا ہے اور جس طرح کسی حرام کام کا ارتکاب  ناجائز ہے، اسی طرح ایسے کام کیلئے سبب بننا بھی ناجائز ہے۔ چنانچہ آپ کے لئے ایسی صورت میں سودی بینک کیلئے یہ خدمت دینا اور اس سے حاصل شدہ  آمدنی دونوں مکروہ تحریمی اور ناجائز   ہیں۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي :(16/ 38)
وإذا ‌استأجر ‌الذمي ‌من ‌المسلم ‌بيتا ليبيع فيه الخمر لم يجز؛ لأنه معصية فلا ينعقد العقد عليه ولا أجر له عندهما، وعند أبي حنيفة - رحمه الله - يجوز والشافعي - رحمه الله - يجوز هذا العقد؛ لأن العقد يرد على منفعة البيت ولا يتعين عليه بيع الخمر فيه فله أن يبيع فيه شيئا آخر يجوز العقد لهذا، ولكنا نقول تصريحهما بالمقصود لا يجوز اعتبار معنى آخر فيه، وما صرحا به معصية.
الفتاوى الهندية :(4/ 449)
إذا استأجر ذمي دابة من مسلم أو سفينة لينقل عليها الخمر جاز في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقال صاحباه: لا يجوز. ولو استأجر المشركون مسلما ليحمل ميتا منهم إلى موضع يدفن فيه إن استأجروه لينقله إلى مقبرة البلدة جاز عند الكل، وإن استأجروه لينقل من بلد إلى بلد قال محمد - رحمه الله تعالى -: إنه إن لم يعلم الحمال أنه جيفة فله الأجر، وإن علم فلا أجر له وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان.
فقه البيوع، ط: مكتبه معارف القرآن كراتشي  :(185/1)
ثم السبب إن كان سبباً محركاً وداعياً إلى المعصية، فالتسبب فيه حرام، كالإعانة على المعصية بنص القـرآن، كقوله تعالى: ( ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله ﴾ [الأنعام: 109]، وقوله تعالى: (فلا تخضعن بالقول ﴾ [الأحزاب: ٣٢]،  وقوله تعالى: ( ولا تبرجن ) الآية [الأحزاب: 33].
وإن لم يكن محركاً وداعياً، بل موصلاً محضاً، و هو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحـداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنـة، وبيع الأمرد ممـن يعصي به، وإجارة البيـت ممن يبيع فيـه الخمر، أو يتخـذه كنيسـة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريماً بشـرط أن يعلم بـه البائع والمؤجر، من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذوراً، وإن علم وصرح كان داخلاً فـي الإعانة المحرمة، وإن كان سبباً بعيداً بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالتها الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فتكره تنزيهاً.

محمد انس جمیل

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

۲۴، جمادی الثانی  ۱۴۴۳ ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔