03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تحریری جبری طلاق اورزبانی صریح طلاق میں سرا متصل استثناء کا حکم
76468طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

عرض ہے کے تاریخ 5.2.2020 کو میرے سالے اور سسر میرے گھر سے میری بیگم کو جبرًا لے گئے تھےاور کورٹ جا پہنچےخلع کے لیے،پھر انہیں برادری کے بڑوں سے کہلوایا تو نہ مانے پھر ان کے ہاں  دو قرآن پاک اور اپنی 8 ماہ کی بیٹی لے گیا تو میرے سسر نے مجھے گالیاں دی پھر میں واپس آ گیا اور میں نے بھی وکیل کر کے کورٹ میں جواب جمع کروایا کے میں نے نہیں نکالا بیگم کو، باقی جو بھی شرطیں ہیں ان کی، کورٹ میں یا برادری میں، ان کو میں ماننے کے لیے تیار ہوں پھر کیس چلتے دو ماہ کے بعد pre trial date آئی تو اس سے دو دن پہلے میرے سالے کا بائیک ایکسیدنٹ ہوا کتے کیوجہ سے۔تو ان لوگوں نے میرے اوپر میرے گھر والوں کے اوپر n.c دو تھانوں سے کروا دی اور مجھے پریشر کیا گیاتو میں سمجھ گیا کے اب یہ طلاق لیں گےپھر میں نے وضو ء کیا اور قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا اور ویڈیو بنائی کہ میری طرف سے کوئی طلاق نہیں ہے اور نہ ہی راضی ہوں، اب جتنی بھی سائین کروائیں گے میں کر دوں گا مگر میری طرف سے وہ طلاق نہیں ہوگی،پھر وہ ویڈیو میں نے فیس بک،یوٹیوب اور واٹس اپ پر اپلوڈ کر دی،پھر رات کے 2سے اوپر ٹائم تھا میں  نیند میں سویا تھا چپلوں  سے مارا   ابو نے ،اور ویڈیو ڈیلیٹ کروائی سوشل میڈیا سے، اور کئی بار بولا کے لاتعلق کر دوں گا،پولیس میں  بند کروا دوں گا وغیرہ، اور پھر دوسرے دن مجھے لے گیا طلاق کروانے کے لیےپھر جو مجمع تھا پوچھنے والے نے اسٹامپ پیپر دیا اور بولا کے پڑھو اور سائین کرواور میں  نے بولا کے پڑھنا کیا ہے سائین کر دیتا ہوں کیونکہ مجھے اپنا حلف پورا کرنا تھا میں  نے سائین کر دی اور اپنا حلف پورا کیا،اس ٹائم بھی میری نہ نیت اور نہ ہی کوئی ارادا تھا طلاق کا،پھر انہوں نے بولا کہ اب زبان سے الفاظ ادا کروطلاق کےتاکہ  سب سنیں تیز آواز میں۔ تو میں خاموش رہا ،پھر انہوں نے غصے میں بولا ،تو میں نے لبوں میں بولا ان شاللہ طلاق۔انہوں نے کہا دوبارہ بولو، تو پھر میں نے ان کو گمراہ کرنے کے لیے بولا : تعلق تعلق تعلق۔

 پھر انھوں نے بولا دوبارہ بولو، تو میں خاموش تھا اور مجمع میں  کسی نے بولا کہ بس اب جائے۔ اور اسی نے میرے ابو کو بولا کہ:  تم نے کوشش نہیں کی ان اس کی دوسری شادی کرواؤ۔  تو میں وہاں سے نکل گیا اور گھر پہنچ کے اپنا حلف نامہ بنا کے رکھ دیااور طلاق نامہ میں نے نہیں لیا اور میرے پاس اب موجود بھی نہیں اور اس ٹائم میں نے نہیں پڑھا تھا کیوں  کہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا،سائین کر کے اپنا حلف پورا کیا بس۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صور ت سؤال میں  طلاق دینے کے ارادہ کے بغیر دستخط  کرنے سے طلاق واقع ہونے نہ ہونے میں یہ تفصیل ہے کہ اگریہ دستخط جبر کے ماحول میں کروائے گئے کہ مار پیٹ کی دھمکی دی گئی تھی یا تھانے میں قید کرانے کی دھمکی دی گئی تھی اور اس کے واقع کرنے کی قدرت و ظن غالب بھی تھا تو ایسی صورت میں جبر کا ماحول ہونے کی وجہ سے دستخط کرنے سے طلاق نہیں ہوئی۔(احسن الفتاوی:ج۵،ص۱۶۵،فتاوی دار العلوم زکریا:ج۴،ص۱۷۲) اوراس کے علاوہ زبانی الفاظ بھی’’ تعلق‘‘  کے تھے یا صریح الفاظ کے ساتھ زیر لب’’ ان شاء اللہ ‘‘ متصلا کہا ہو تو ایسی صورت میں طلاق نہیں ہوتی۔

البتہ اگر دستخط جبرکے ماحول میں نہ تھے تو دستخط سے طلاق ہوگئی ہے اورایسی صورت میں طلاق کی نوعیت اور عدد کا مدار طلاق نامہ میں مذکور طلاقوں کی تعبیر پر ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 236)

وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية .

الفتاوى الهندية (1/ 379)

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۳شعبان۱۴۴۳ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب