021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کو "میرا اور تمہارا رشتہ ختم ” کہنے سے طلاق کا حکم
76417طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

اگر مرد اپنی بیوی سے یہ بات کہے کہ تم میری بات نہیں مانتی ، تو تم اپنا حق مہر لے جانا، میرا اور تمہارا رشتہ ختم  اور پھر دوبارہ چار پانچ دن کے بعد بیوی سے  یہ بات  کہے کہ تم میری بات  مان لو، اگر میری بات نہیں مان رہی تو میرا اور تمہارا رشتہ ختم، لیکن اس نے طلاق کی نیت سے نہیں کہا  تھا ، بلکہ ڈرانے  کیلئے ایسے الفاظ کہے تھے۔ کیا اس سے طلاق ہو جاتی ہے؟

o

واضح رہے کہ  "میرا اور تمہارا رشتہ ختم" کہنا طلاق کیلئے صریح  الفاظ  میں سے نہیں بلکہ کنائی الفاظ کی پہلی قسم  میں سے ہیں اور ان جیسے الفاظ کے ذریعے طلاق واقع ہونے کیلئے   بہرحال طلاق کی نیت کا پا یا جانا ضروری ہے ۔ چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے بیوی سے یہ الفاظ محض ڈرانے کیلئے کہے تھے اور دونوں دفعہ الفاظ کی ادائیگی کے وقت طلاق کی نیت نہ تھی تو اس سے طلاق واقع نہ ہو گی۔

حوالہ جات

الفتاوى  الهندية :(1/ 375)
ولو قال لها: لا نكاح بيني وبينك، أو قال: لم يبق بيني وبينك نكاح، يقع الطلاق إذا نوى۔
حاشية ابن عابدين  :(3/ 296)
‌‌باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال)۔

محمد انس جمیل

دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی

9، شعبان المعظم 1443  ھ

n

مجیب

محمد انس ولدمحمد جمیل

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے