021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد میں تبلیغی جماعت کے اعمال سے نماز میں خلل کا حکم
77135وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

مسجد میں اگر نمازی نماز پڑھ رہے ہوں یا اپنا انفرادی عمل جیسے ذکر تسبحات،تلاوت قرآن وغیرہ کررہے ہوں تو اجتماعی عمل مثلا مشورہ،دین کی بات وغیرہ بلند آواز سے کرنا جس سے نماز پڑھنے والے کی توجہ یا ذکر کرنے والے کی توجہ منتشر ہوتی ہو تو کیا اس صورت میں دین کی بات،کوئی بیان،مشورہ وغیرہ بلند آواز سے کرنا جائز ہے؟

اگر کوئی تبلیغی جماعت مسجد میں آئی ہوئی ہو تو جہاں نمازی عبادت کررہے ہوں یا قرآن و تسبیحات پڑھ رہے ہوں وہاں اس وقت شریعت کی رو سے جماعت کے ارکان کا بیان کرنا جائز ہے،جبکہ اس کی وجہ سے نمازیوں کو تکلیف ہورہی ہو؟

o

مسجد میں کوئی ایسا عمل جس کی وجہ سے عبادت کرنے والوں کی عبادت میں خلل آئے درست نہیں،لیکن تبلیغی جماعت کے اعمال کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس کی وجہ سے عام لوگ مسجد اور دین سے جڑتے ہیں،اس لئے اس حوالے سے جانبین کو ایک دوسرے کی رعایت رکھنی چاہیے،اس طور پر کہ تبلیغی حضرات تعلیم یا بیان کے لئے ایک ایسی جگہ کو مختص کردیں،جہاں مذکورہ اعمال کی انجام دہی سے نمازیوں کی نماز اور دیگر معمولات میں خلل نہ آئے اور جب تک لوگ نماز اور ذکر وتلاوت میں مشغول رہیں اس وقت تک اپنی آواز کو پست رکھیں،جبکہ دیگر نمازیوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ جو جگہ تعلیم کے لئے خاص کردی جائے،اس جگہ سے ہٹ کر اپنی نماز مکمل کریں،تاکہ دونوں کام بحسن و خوبی انجام پاتے رہیں۔

حوالہ جات

رد المحتار"(1/ 660):
" وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ إلخ".
 
 

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

15/ذی قعدہ1443ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔