021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زوجہ،ایک بیٹی، دو بیٹے، تین سگے بھائی اور ایک سگی بہن میں وراثت کی تقسیم نیز کسی کی زمین اس کی اجازت کے بغیر تقسیم کرنے کا حکم
77184میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں شریعت کے رو سے ملوک خان بن دوست محمد کی دو شادیاں تھی  اپنے تمام بیٹوں کو اپنی زندگی میں اپنی زمین تقسیم کر کےہر بیٹے کو الگ الگ حصہ دیا تھا  ،ملوک خان کی وفات کے کچھ عرصے بعد ان کے بیٹےمیر عبد اللہ بن ملوک فوت ہو گئے، میر عبد اللہ کے پسماندگان میں بیوہ جان  ،ایک بیٹی تقریبا ًعمر 7 سال،دو بیٹے رعداللہ کی عمر تقریبا چار سال  اور شاہ جہان کی عمر تقریبا  ڈھائی سال تھی  چھوڑے  ، بیوہ جان جو اپنے تینوں یتیم  بچوں کی کفالت کر رہی تھی   ، نادر خان جو بیوہ جان کا دیور اور یتیم بچوں کا  سگا چچا تھا  ،نادر خان  نے  بیوہ جان سےبغیر پوچھے یعنی بغیر رضامندی کے  بیوہ جان اور یتیم بچوں کی زمین  دوسرے پدر سری بھائی حبیب اللہ اور خان  ولی کے دباؤ اور بہلانے پھسلانے  میں آ کر ویش یعنی تبادلہ کر دی،تبادلہ کرنے کا مقصد حبیب اللہ کایہ تھا کہ زمین کے  ساتھ  راستہ جاتا تھا،تبادلہ کرنے کے بعد حبیب اللہ خان نےبیوہ اور یتیم بچوں کا راستہ بھی بند کر دیا، تبادلہ میں یتیم بچوں کی  زیادہ یعنی دو گنا زیادہ زمین   لی گئی اور کم زمین بدلے میں دی گئی،حبیب اللہ خان نے اپنے دوسرےسگے بھائی خان ولی کو بھی زمین کے تبادلہ میں شریک کر دیا تھا ، تبادلہ شدہ زمین اب دونوں بھائیوں کے قبضے میں ہے جبکہ اس وقت سے آج تک اس تبادلہ پر اختلاف  اور لڑائی جھگڑاچلا آ رہا ہے  ،  بیوہ جان نے اپنی زندگی میں تبادلہ کو تسلیم کیا نہ اس کی اولاد نے بالغ ہونے کے بعد اس تبادلہ کوتسلیم کیا۔

سوال نمبر(۱): کیا یہ  تبادلہ زمین شرعاً درست تھا ،یا اس زمین کو میر عبد اللہ کے بچے واپس کرسکتے ہیں؟

سوال نمبر (۲) بعد از تنقیح: سائل نے فون پر وضاحت کی ہے کہ میر عبد اللہ کی  وفات کے وقت ان کی زوجہ،ایک بیٹی،دو بیٹے،۳ سگے بھائی اور ایک سگی بہن زندہ تھیں،میر عبد اللہ کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

o

(۱)صورت مسؤولہ میں میر عبد اللہ کی میراث کے حقدار صرف اس کی بیوی اور تین بچے ہیں،دوسرے لوگ جیسے مرحوم کے بھائی یعنی یتیم کے چاچوں کا اس کی میراث میں کوئی حق نہیں بنتا،لہٰذا جب میرعبداللہ بن ملوک خان کا حصہ دوسرے ورثاء کے حصوں سے پہلے سے الگ تھا تو اس حصے کو دیگر حصوں کے ساتھ ملا کر دوبارہ تقسیم کے عمل کی ضرورت نہیں تھی،بالخصوص جب یہ تقسیم میر عبد اللہ کے ورثاء کی اجازت و رضامندی سے نہیں ہوئی تو شرعاً یہ باطل ہے اور اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، لہٰذا مذکورہ زمین بدستور میر عبد اللہ کے ورثاء کی ملکیت میں  برقراررہے گی، اور شرعی طریقے سے اس کی تقسیم میر عبد اللہ کے ورثاء  ہی میں کی جائے گی۔

(۲)سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مرحوم میر عبد اللہ کے مالِ وراثت  میں سے کفن دفن کے اخراجات،قرض اور ایک تہائی مال میں وصیت نافذ کرنے کے بعد بشرطیکہ وصیت کی ہو،بقیہ مال کی تقسیم درج ذیل طریقے سے کی جائے گی،یاد رہےمیرعبد اللہ کے بھائی بہنوں کومیر عبد اللہ کی وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا۔

وارث

حصہ

میر عبد اللہ مرحوم کی زوجہ

12.50 فیصد

میر عبد اللہ مرحوم کی  بیٹی

17.50فیصد

(۱) میر عبد اللہ مرحوم کا بیٹا

35 فیصد

(۲) میر عبد اللہ مرحوم کا بیٹا

35 فیصد

3 سگے بھائی

0

1 سگی بہن

0

حوالہ جات

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ } [النساء: 12]
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 770)
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ } [النساء: 11]
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 103)
(ومن باع ملك غيره فللمالك أن يفسخه ويجيزه إن بقي العاقدان والمعقود عليه وله وبه لو عرضا).

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

۱۸/ذو القعدۃ ۱۴۴۳ھ

n

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔