021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موکل اور وکیل کے درمیان خریدے گئے مال کی قیمت میں اختلاف کا حکم
77260شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس تنازعے کے بارے میں کہ شریکین جناب حاجی کلیم اور جناب حاجی ابراہیم نے 2017 میں مشترکہ کاروبار کے لیے ایکسیویٹر مشین لینے کا فیصلہ کیا۔ جناب حاجی کلیم نے مکمل اعتبار کے ساتھ مشین کی آدھی قیمت حاجی ابراہیم کے سپرد کی جو بقول حاجی ابراہیم کے 23 لاکھ روپے بنتی تھی۔ صورت حال یہ تھی کہ حاجی کلیم نے اپنے شریک حاجی ابراہیم کو اپنی طرف سے خریداری کا وکیل بنایا اور خود خریداری کے وقت موجود نہیں تھے۔ حاجی ابراہیم کے بقول مشین کی کل قیمت 46 لاکھ روپے تھی جو انہوں نے ادا کر کے مشین خرید لی۔ یوں اس نئے کاروبار کا آغاز ہوا۔

تقریباً چار سے پانچ سال تک یہ کاروبار نقصان کے ساتھ حاجی ابراہیم کے ماتحت چلتا رہا یہاں تک کہ حاجی کلیم کا بیٹا جو دبئی میں جاب پر تھا، اپنے ملک واپس آیا۔اس نے مذکورہ مشین کا حساب کتاب چیک کیا تو معلوم ہوا کہ 2017 میں مذکورہ مشین جیسی مشین کی قیمت 46 لاکھ سے  کہیں کم تھی۔ یہاں سے حاجی کلیم کے بیٹے کو اس پارٹنرشپ میں غلط بیانی کا شبہ ہوا۔ وہ دو گواہ لے کر افضل خروٹی جس سے مشین خریدی گئی تھی، کے پاس جا پہنچا۔ افضل خروٹی نے گواہوں کی موجودگی میں بیان دیا کہ حاجی ابراہیم نے یہ مشین 2017 میں مجھ سے 35 لاکھ روپے میں خریدی تھی ۔ اس کے ساتھ 40 ہزار روپے ٹرانسپورٹ کے خرچے کے لیے بھی لیے تھے۔ ایک اور بندے نے بھی یہ بات کہی کہ حاجی ابراہیم نے مجھ سے بھی 60 ہزار روپے مشین کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے ادھار لیے تھے۔ اس حساب سے شریکین کو مشین کل 36 لاکھ روپے میں پڑی تھی۔

افضل خروٹی کا کہنا یہ بھی ہے کہ مشین بیچتے وقت حاجی ابراہیم کے ساتھ قدیم اور گہرے رواسم کی وجہ سے کوئی تحریری سودا طے نہیں کیا تھا۔ یوں فریقین کے مابین مشین کی قیمت خرید پر تنازعہ شروع ہو گیا۔ فریق اول حاجی کلیم کا دعوی تھا کہ مشین کے اس وقت کے مارکیٹ ریٹ اور افضل خروٹی کے بیان کے مطابق یہ مشین کل 36 لاکھ میں پڑی ہے۔ فریق ثانی حاجی ابراہیم کا کہنا تھا کہ اس نے  مشین پورے 46 لاکھ میں خریدی ہے۔

یہاں پر تفصیل کے لیے عرض  ہے کہ فریقین کا تعلق فاٹا جنوبی وزیرستان سے ہے جہاں کے لوگ جرگہ بٹھا کر فیصلہ کرتے ہیں۔ایک شخص نے جرگہ کے فیصل کےطورپرافضل خروٹی کو کال ملائی اور غیرجانب دارانہ طور پر مشین کی قیمت معلوم کی تو افضل خروٹی نے بیان بدل دیا اور 38 لاکھ روپے میں بیچنے کا بیان دیا۔ اس کے بعد ایک اور فیصل نے بھی کال کی تو اس نے 40 لاکھ روپے بتائے۔جب منصفین نے یہ صورت حال حاجی ابراہیم کے سامنے رکھی تو انہوں نے اپنے اس تنازعہ کے حل کے لیے تین الگ قوم کے بندوں کا انتخاب کیا اور فریق اول حاجی کلیم بھی اس پر راضی ہو گیا۔ یوں تین بندوں کو جرگے کا فیصل بنا دیا گیا۔ اس کے بعد فریق ثانی کے کسی رشتہ دار کے ڈیرے میں جرگہ بٹھایا گیا جہاں فریقین اور منصفین سب موجود تھے۔ جرگے نے حاجی ابراہیم سے مشین کے حساب کتاب کا رجسٹر طلب کیا جو اس نے اس پارٹنرشپ کے لیے  خود اپنے پاس رکھا تھا۔ حاجی ابراہیم نے فریق اول سے الگ ہو کر سارا حساب کتاب منصفین کے سپرد کر دیا اور ایک بار پھر جرگہ بیٹھ گیا۔ اس بار جرگے نے مذکورہ کتاب سامنے رکھ کر حاجی ابراہیم کے سامنے کھول کر تاکیداً پوچھا کہ اس کتاب کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے؟ اس پر فریق ثانی حاجی ابراہیم کا جرگے کی موجودگی میں بیان یہ تھا کہ جس طرح قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے اسی طرح میں اپنے حساب کتاب سے مطمئن ہوں۔ یہ سن کر منصفین نے جرگے میں ہی سب کو کتاب دکھائی جس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ حاجی ابراہیم اور عصمۃ اللہ (جو حاجی کلیم کا بیٹا ہے) نے یہ مشین افضل خروٹی سے مشترکہ طور پر خریدی ہے جس کی کل قیمت 36 لاکھ روپے ہے۔ کتاب سننے کے بعد فریق ثانی حاجی ابراہیم اپنے بھتیجے سے الجھ پڑا (جو اس کے کاروبار کا حساب کتاب رکھتا ہے) کہ حساب کتاب غلط لکھا ہوا ہے، جس پر شوروغوغا ہوا۔ اس پر حاجی ابراہیم نے قسم الہی کھاتے ہوئے کہا کہ ابھی اسی مجلس میں افضل خروٹی کو کال ملائی جائے۔ اگر اس نے 46 لاکھ سے ایک روپیہ بھی کم بتایا تو میں فریق اول حاجی کلیم کو یہاں بیٹھے بیٹھے 46 لاکھ روپے ادا کرنے کا پابند ہوں گا۔

جرگہ کے منصفین میں سے ایک نے جھٹ سے موبائل نکالا اور آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً افضل خروٹی کو فون کیا اور مشین کی  قیمت معلوم کی جس پر افضل خروٹی کا چوتھی بار مختلف بیان سنا گیا کہ میں نے  44 لاکھ روپے میں مشین حاجی ابراہیم کو بیچی تھی۔ یاد رہے کہ اس دوران مذکورہ منصف نے موبائل کا سپیکر آن رکھا اور افضل خروٹی کا یہ چوتھا بیان جرگے کے تمام شرکاء نے سنا۔

یہ سارا کیس اور افضل خروٹی کے چار مختلف بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے جرگے نے حاجی ابراہیم سے دو اور منصفین کا اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا تا کہ پانچ ارکان مل کر مناسب فیصلہ کر سکیں۔ اس پر حاجی ابراہیم مکر گیا اور اپنے لیے دو راستے چنے:

ایک یہ کہ جرگہ افضل خروٹی کے پاس فریقین سمیت جائے اور حاجی ابراہیم، افضل خروٹی سے مشین 46 لاکھ روپے میں فروخت کرنے کا بیان دلوائے گا۔ دوسرایہ کہ حاجی ابراہیم اپنی بات پر قسم کھائے گا کہ میں نے مشین 46 لاکھ روپے میں ہی خریدی ہے۔ تاہم حاجی کلیم فریق اول نے ان دونوں آپشنز سے اختلاف کیا اور ایک تیسرا آپشن سامنے رکھا کہ اب جرگہ مارکیٹ کا رخ کرے اور مارکیٹ سے معلوم کیا جائے کہ 2017 میں مذکورہ متنازعہ مشین کی کتنی قیمت تھی۔ پھر چاہے قیمت کم ہو یا زیادہ فریق اول جرگے کے فیصلے کا پابند ہو گا۔

مفتیان کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ درج بالا تین آپشنز میں سے کو ن سا آپشن شریعت کے مطابق ہے جس پر جرگہ فیصلہ سنا سکے۔نیز مفتیان کرام کی نظر میں ان کے علاوہ بھی کوئی آپشن ہے تو درج فرما کر ممنون فرمائیں۔

o

جھوٹ بولنا یا کسی کو دھوکہ دینا بہت بڑا گناہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ: جس شخص نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں (سنن ابن ماجہ :2/ 749)۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ (البقرۃ: ۱۸۸) ۔ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کی معیت اختیار کرو (التوبۃ: ۱۱۹)۔ اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن دھوکہ دینے والے ہر شخص (کی پہچان) کے لیے جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دھوکہ بازی ہے۔ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ غریب کون شخص ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہم میں سے وہ شخص غریب سمجھا جاتا ہے جس کے پاس کوئی درہم یا سامان نہ ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت کا غریب وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے، زکوٰۃ (سمیت بہت سے اعمال) لے کر آئے گا۔ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر جھوٹی تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کی پٹائی کی ہو گی۔ لوگوں کو(ان کے حقوق کے بدلے میں)  اس  شخص کی نیکیاں دے دی جائیں گی۔اگر بدلہ پورا ہونے سے پہلے نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان  لوگوں کے گناہ اس  شخص کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک  دیا جائے گا۔  (صحيح مسلم :4/ 1997)

اس لیے فریقین کو آخرت کے حساب کتاب اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے دوسرے کا مال ناحق کھانے سے بچنا چاہیے۔

یاد رہے کہ مفتی کو جو تفصیلات بتائی جاتی ہیں وہ شرعاً انہی کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے۔سوال میں ذکر کی گئی تفصیلات کی تحقیق مفتی کی ذمہ داری نہیں۔ اس لیے اگر سوال میں ذکر کی گئی تفصیلات درست ہیں تو شرعی حکم یہ ہے:

حاجی ابراہیم کے حساب کتاب والے رجسٹر میں یہ بات درج ہے کہ مشین کی قیمت 36 لاکھ روپے ہے۔ یہ تحریرشرعاً اقرار کے حکم میں ہے۔ حاجی ابراہیم کی طرف سے جرگے کے سامنے رجسٹر میں لکھی گئی تفصیلات سے متعلق درستگی کے اقرار سے اس بات میں مزید تاکید پیدا ہو جاتی ہے۔مزید برآں 2017 میں مشین کی بازاری قیمت بھی اس کے قریب تھی۔ اس لیے مشین کی قیمت 36 لاکھ روپے سمجھی جائے گی۔ حاجی ابراہیم پر لازم ہے کہ وہ حاجی کلیم کو  اضافی رقم واپس کر دے۔   

حوالہ جات

  • سنن ابن ماجه (2/ 749)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من غش»
  • صحيح ابن حبان - مخرجا (2/ 326)
 قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  «من غشنا فليس منا، والمكر، والخداع في النار»
  • ولا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل۔ 
(البقرۃ: ۱۸۸)
  • سنن ابن ماجه (2/ 959)
  • یا أیھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ وکونوا مع الصادقین ۔التوبۃ: ۱۱۹
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ينصب لكل غادر لواء يوم القيامة، فيقال: هذه غدرة فلان"۔
  • صحيح مسلم (4/ 1997)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «أتدرون ما المفلس؟» قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع، فقال: «إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة، وصيام، وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه، ثم طرح في النار»۔
  • مجلة الأحكام العدلية (ص: 318)
المادة (1608) القيود التي هي في دفاتر التجار المعتد بها هي من قبيل الإقرار بالكتابة أيضا مثلا لو قيد أحد التجار في دفتره أنه مدين لفلان بمقدار كذا يكون قد أقر بدين مقدار ذلك , ويكون معتبرا ومرعيا كإقراره الشفاهي عند الحاجة.
المادة (1609) إذا كتب أحد سندا أو استكتبه من كاتب وأعطاه لآخر موقعا بإمضائه أو مختوما فإذا كان مرسوما أي حرر موافقا للرسم والعادة فيكون إقرارا بالكتابة , ويكون معتبرا ومرعيا كتقريره الشفاهي والوصولات المعتادة وإعطاؤها هي من هذا القبيل.
(المادة 1610) إذا أنكر من كتب , أو استكتب سندا مرسوما على الوجه المحرر أعلاه وأعطاه لآخر ممضيا أو مختوما , الدين الذي يحتويه ذلك السند مع اعترافه بكون السند له فلا يعتبر إنكاره ويلزمه أداء ذلك الدين.

نفیس الحق ثاقب

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

26 ذیقعدہ 1443ھ

n

مجیب

نفیس الحق ثاقب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔