021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر، دو بیٹوں، اور دو بیٹیوں میں میراث کی تقسیم
77363میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اُن کے نام پر گھر ہے، اور ان کا کچھ سونا موجود ہے۔ اُن کے نام پر جو گھر ہے، يا جو سونا موجود ہے، اُس کا اصل حق دار شریعت کی رو سے کون ہے ؟ ہم 2 بھائی، اور 2  بہنیں ہیں، اور میرے والد صاحب بھی الحمد للہ حیات ہیں، تو حصّہ میں اگر ہم سب حق دار ہیں تو اس کا شریعت کے مطابق طریقۂ کار کیا ہوگا ؟ مزید آپ کچھ رہنمائی بھی فرما سکیں تو ضرور فرما دیں۔

وضاحت: مستفتی کے مطابق یہ گھر اور سونا والد صاحب کی کمائی سے خریدا گیا تھا، لیکن انہوں نے یہ دونوں چیزیں والدہ کو دیدی تھیں، اور انتقال کے وقت یہ دونوں چیزیں والدہ کی ملکیت میں تھیں۔  

o

صورتِ مسئولہ میں آپ کی والدہ مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ گھر اور سونے سمیت جو نقدی، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار، غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب اس کا ترکہ یعنی میراث ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس کے بعد دیکھا جائے اگر اس کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے۔ اس کے بعد اگر اس نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو کل آٹھ (8) حصوں میں تقسیم کر کے مرحومہ کے شوہر کو اس میں سے دو (2) حصے دیدیں، دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو بھی دو، دو (2، 2) حصے دیدیں، اور دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک، ایک (1، 1) حصہ دیدیں۔

وضاحت: یہ جواب اس صورت میں ہے جب والدہ مرحومہ کے انتقال کے وقت اس کے والدین، دادا، دادی اور نانی میں سے کوئی زندہ نہ ہو۔ لیکن اگر والدہ کے انتقال کے وقت ان افراد میں سے کوئی زندہ تھا تو پھر جواب مختلف ہوگا، ایسی صورت میں تفصیل لکھ کر دار الافتاء سے اس کا حکم  معلوم کرلیں۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:
 {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12]

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   25/ذو الحجۃ/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔