021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوة کی رقم مدرسة البنات پر خرچ کرنے کاحکم
77425زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

عرض  یہ ہے کہ  زکوة کے پیسوں  سے بنات کے مدرسہ  کے لئے زمین  خرید نا جائز  ہے یا نہیں ؟یعنی  بنات  کے لئے  جگہ کم پڑنے کی وجہ سے  خریدنا چاہتا ہے ۔

o

۔   زکوة کی ادائیگی  کے ضروری  ہے کہ   رقم کسی مستحق شخص کو  مالک بناکر  دی جائے ، مالک  بنائے  بغیر  کسی  مصرف میں  خرچ کرنےسے زکوة  ادا  نہیں  ہوتی ،  لہذا زکوة  کی رقم سے  زمین  کی خریداری  جائز  نہیں  ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 344)
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)
قوله: كما مر) أي في أول كتاب الزكاة ط (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي (قوله: ولا إلى كفن ميت) لعدم صحة التمليك منه؛ ألا ترى أنه لو افترسه سبع كان الكفن للمتبرع لا للورثة نهر

 احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۲محرم الحرام ١۴۴۴ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔