021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فیصلہ ہونے سے پہلے ایک فریق کے تحکیم سے رجوع کرنے کا حکم
77429ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرے والد اور چچا نے مشترکہ طور پر ایک زمین خریدی،  اس زمین کی حدود کی تعیین میں فریقین کے درمیان جھگڑا ہوا، ابھی یہ اختلاف جاری تھا کہ اسی دوران میرے والد کا انتقال ہو گیا، انتقال کے بعد ہم نے آپس میں مل کر مشترکہ طور پر ایک جرگہ کو حکم بنایا،  جرگہ نے یہ بات مناسب سمجھی کہ ہمارے چچا کو حدود کی تعیین میں قسم دی جائے، چچا نے مختلف مقامات کے بارے میں قسم اٹھاکر زمین کی حد ودکی تعیین شروع کی، اسی دوران چچا نے ایک موہوبہ زمین پر بھی قسم اٹھانے کی کوشش کی، اس پر ہم نے جھگڑا کیا، جرگہ کے ساتھ بھی تلخ کلامی ہوئی،اسی دوران ہم نے جرگہ کے حکم ہونے سے رجوع کا اعلان کر دیا اور معاملہ درمیان میں رہ گیا، بقیہ زمین کی حدود بھی متعین نہ ہو سکی۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ نافذ ہے؟ جبکہ ہم نے درمیان میں جرگہ سے حکم بننے کا اختیار واپس لے لیا تھا، نیز جرگہ نے مدعی اور مدعی علیہ کی تعیین کے بغیر صرف تصفیہ کے طور پر ایک فریق کو قسم دینے کی کوشش کی تھی۔

o

فقہائے کرام رحمہم اللہ نے صراحت کی ہے کہ حکم(ثالث) کے فیصلہ کے نافذ اور واجب العمل ہونے کے لیے فریقین کا فیصلہ ہونے تک تحکیم پر راضی رہنا ضروری ہے، اگر فریقین یا ان میں سے کوئی ایک فریق فیصلہ ہونے سے پہلے حکم (ثالث)بننے والے شخص کو معزول کر دیں اور اپنی تحکیم سے رجوع کر لیں تو ایسی صورت میں حکم(ثالث) کا فیصلہ ان پر نافذ اور واجب العمل نہیں رہتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ حضرات نے  جرگہ کے فیصلہ کرنے سے پہلے تحکیم سے رجوع کر لیا تھا تو اس صورت میں جرگہ کا فیصلہ نافذ نہیں ہوا اور اس کو تسلیم کرنا شرعاً آپ حضرات کے ذمہ لازم نہیں۔

حوالہ جات

     مجلة الأحكام العدلية (ص: 376) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، كراچي:
المادة 1847) لكل من الطرفين عزل المحكم قبل الحكم ولكن إذا حكمه الطرفان وأجازه القاضي المنصوب من قبل السلطان المأذون بنصب النائب يكون بمنزلة نائب هذا القاضي حيث قد استخلفه.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام لعلي حيدر (جلد:4ص:700) دار الجيل، بيروت:
لكل من الطرفين عزل المحكم قبل الحكم أي سواء كانا متفقين معا أو كان العزل من أحدهما ولم يرض الآخر لأنه لما كان المحكم مقلدا من الطرفين جاز عزله منهما كما جاز عزل القاضي من قبل السلطان قبل الحكم (الولوالجية في آداب القاضي) وعلى ذلك فيكون التحكيم من العقود الغير اللازمة في حق الطرفين كشركة المضاربة والشركة والوكالة بلا التماس الطالب.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

3/محرم الحرام 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔