021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کا حکم
77519ایمان وعقائداسلامی فرقوں کابیان

سوال

ہماری  جماعت  مجلس احرار اسلام   پاکستان کے  زیر اہتمام  شعبہ تبلیغ  کے  داعیان   غیر مسلموں  بالخصوص  قادیانیوں اور بہائیوں کو دعوت اسلام دینے  کے حوالے سے کام کررہی  ہے ۔ہمارے مبلغین جب قادیانیوں  سے ملاقات کرتے ہیں تو مختلف مسائل پیش آتے ہیں ، جماعت  کے شعبہ  دعوت اسلام  کی  طرف سے  کچھ سوالات  پیش خدمت  ہیں  امید ہے کہ   توجہ اور  تحقیق   سے ان سوالات   کے جوابات   عنایت فرمائیں  گے۔

 ہمارا کام قادیانیوں سے ملاقاتیں کرکے  انہیں  اسلام کی دعوت  دینا ہے ،اور  قادیانیوں کی طرف سے  پھیلائے گئے شکوک وشبہات  کو احسن انداز سے  رد کرکے اس فتنے کی بھینٹ  چڑھے   مسلمانوں  یا قادیانیوں   کو  مطمئن  کرکے  اسلام کی  طرف راغب کرنا ہے،جس سے  بیسیوں  قادیانی وبہائی  اسلام قبول کرچکے ہیں ،اور  بیسیوں مسلمان  قادیانیوں کے نرغے  میں  پھسنے  سے بچ چکے ہیں ۔

ہمارے  داعیان کے  ساتھ پیش آمدہ  معاملات  میں  کچھ سوالات  ہیں  جن کا شرعی حل قرآن وسنت کی روشنی میں  مطلوب  ہے ۔رہنمائی  فرمائیں ۔

o

  سوالات کے تفصلی جوابات سے پہلے یہ بات  سمجھ لی جائے  کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے آخری نبی ہیں آپ کے بعد   قیامت تک کوئی نیا نبی مبعوث نہیں ہوگا ،  آپ  علیہ  السلام   کواللہ تعالی کا آخری  نبی مان  کرآپ   پر ایمان لانا  ہر مسلمان کے ایمان کاضروری حصہ ہے ۔ لہذاآپ علیہ السلام  کی بعثت کے بعد آپ  کے علاوہ کسی اور شخص کو نیا نبی تسلیم کرنا ایمان کے منافی ہے    ۔ ایسا  شخص ہر گز  مسلمان  نہیں ہوسکتا۔

( سورة  الحزاب40)مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمً

دلائل النبوة للبيهقي (7/ 482، بترقيم الشاملة آليا)

وإنه سيكون في أمتي كذابون ثلاثون كلهم يزعم أنه نبي ، وإني خاتم النبيين ، لا نبي بعدي » 

قادیانی چونکہ  حضرت  محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کا آخری  نبی تسلیم کرنے کی بجائے  مرزا غلام احمد کذّاب  کو نبی مانتے ہیں، اس لئےکافر اور مرتد  دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

تمام مسلمانوں کے  اسلامی غیرت اور حمیت کا تقاضایہ ہے کہ قادیانیوں سے میل جول نہ رکھیں ،ان کی شادی بیاہ اور دیگر خوشی اور غمی کی تقریبات  میں شرکت نہ کریں ،ان سے تجارتی لین دین بھی نہ کریں ۔ البتہ اگر تبلیغ کی غرض  سے  میل جول رکھے تو علما اور پختہ کار داعیوں  کو اس   کی  اجازت ہے، اس میں کوئی گناہ  نہیں ، بلکہ  ایسا شخص اجر  و ثواب  کاحقدار ہوگا

حوالہ جات

الدر المنثور في التفسير بالمأثور (8/ 86)
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (22)
الدر المنثور في التفسير بالمأثور (8/ 87)
  وَأخرج أَبُو نعيم فِي الْحِلْية عَن ابْن مَسْعُود رَضِي الله عَنهُ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: أوحى الله إِلَى نَبِي من الْأَنْبِيَاء أَن قل لفُلَان العابد أما زهدك فِي الدُّنْيَا فتعجلت رَاحَة نَفسك وَأما انقطاعك إليّ فتعززت بِي فَمَاذَا عملت فِي مَالِي عَلَيْك قَالَ يَا رب: وَمَالك عليّ قَالَ: هَل واليت لي وليا أَو عاديت لي عدوا
الدر المنثور في التفسير بالمأثور (8/ 87)
 وَأخرج الطَّيَالِسِيّ وَابْن أبي شيبَة عَن الْبَراء بن عَازِب قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أوثق عرى الإِيمان الْحبّ فِي الله والبغض فِي الله۔          

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

١١ مھرم الحرام  ١۴۴۴ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔