021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسیج کرنے سے طلاق کاحکم
77702طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں  علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ  راز محمد ولد ابراہیم خان شادی  کے ڈھائی سال بعد اپنی بیوی کے ساتھ کچھ گھریلو مسائل  کی وجہ سے غصے میں آگئے اور تکرار  کرنے لگے۔تو بیوی کو ڈرانے  کی غرض  سے  کسی  وکیل  سے  بعنوان  اقرار نامہ  بابت علیحدگی  مابین   میاں بیوی  بتاریخ 13 مئی  2022کو ایک اسٹامپ پیپر  لکھوایا تاکہ   میری بیوی  اپنی ضد چھوڑکر میری بات مان  لے ،اوروہ راہ راست پر آجائے۔خاوند کہتا   ہے  سٹامپ پیپر   پر دستخط کرتے ہوئے میں نےمضمون کو پڑھا بھی نہیں ۔کیونکہ میں  پریشانی کا شکار  تھااور  بیوی نے پڑھ کر  دستخط کردیا ،اور  مجھے  کہا اس اسٹامپ  پیپر   پر طلاق  کا ذکر تو نہیں ۔رات  گذر نے کے بعد   خاوند   نے  اسٹامپ پیپر پڑھا  اس کے بعد دونوں الگ ہوگئے۔تقریبا  یکم جون  2022 کو خاوند بیوی فون پر بات کرتے ہوئے دوبارہ تکرار کرنے لگے۔تو خاوند نے فون پر یہ مسیج  ﴿تہ پہ  ما طلاقہ ئے۔تجھے  طلاق ہے﴾لکھ کر بیوی کو   بھیجوایا  ۔خاوند   بیوی کے  درمیان فون پر تکرار جاری رہا  تو تین چار منٹ کے بعد  دوسری مرتبہ  خاوند نے  یہ مسیج ﴿تہ پہ  ما طلاقہ ئے۔تجھے  طلاق ہے﴾لکھ کر بیوی کو   بھیجوایا  ۔تکرار  نہ رکنے پایا  تو تیسری مرتبہ یہ مسیج  ﴿تہ پہ  ما طلاقہ ئے۔تجھے  طلاق ہے﴾لکھ کر بیوی کو   بھیجوایا  ۔

 نوٹ ؛خاوند کہتا ہے  کہ دوسری تیسری مرتبہ  مسیج سے دوسری اور تیسری  طلاق مراد تھی۔

اسٹامپ پیپر منسلک ہے ،قرآن  وسنت کی روشنی   میں جواب عنایت فرمائیں ۔

o

سوال  کے ساتھ منسلکہ  اسٹامپ  پیپر﴿طلاق نامہ  ﴾آپس  کا نکاح ختم کرنے کی غرض  سے لکھوایا گیا ہے، اس لئے بعد میں  خاوند کا یہ دعوی کرنا  درست نہیں کہ طلاق کی نیت نہیں تھی محض ڈرانا  مقصود تھا ۔لہذا  طلاق نامہ  لکھوا کر   دستخط کردینے سے  ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ۔البتہ  پیپر میں لکھے  ہوئے دیگر جملے   بھی  چونکہ طلاق  کے کنائی  الفاظ  ہیں اور طلاق  بائن  کا ایک  جملہ دوسرے  جملہ سے  لاحق نہیں  ہوتا اس لئے  ان الفاظ  سے مزید  کوئی طلاق واقع نہیں  ہوئی ۔ اس کے بعد عدت  کے  دوران    فون  پر شوہر کی طرف سے  مسیج میں  تجھے طلاق  ہے  کے جملے تیں  مرتبہ استعمال ہوئے۔ ان   سے   مزید دو  طلاقیں واقع   ہوگئیں ۔اس طرح  مذکورہ  خاتون  تین طلاقوں  کے  ساتھ  اپنے   شوہر پر حرام ہوگئی ،  لہذا دونوں  پر  لازم  ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،اب دونوں کے لئے آپس میں میاں بیوی  کی حیثیت  سے زندگی  گذارناجائز  نہیں ،حلالہ شرعیہ کےبغیر  دونوں کا دوبارہ  نکاح  بھی نہیں  ہوسکتا ہے۔

حوالہ جات

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]
الدر المنثور في التفسير بالمأثور (1/ 676)
أخرج ابْن جرير وَابْن الْمُنْذر وَابْن أبي حَاتِم وَالْبَيْهَقِيّ عَن ابْن عَبَّاس فِي قَوْله {فَإِن طَلقهَا فَلَا تحل لَهُ من بعد} يَقُول: فَإِن طَلقهَا ثَلَاثًا فَلَا تحل لَهُ حَتَّى تنْكح غَيره
مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 247)
حديث رجاله ثقات وعن محمود بن لبيد قل : أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم قال : " أيلعب بكتاب الله عز و جل وأنا بين أظهركم ؟ " حتى قام رجل فقال : يا رسول الله ألا أقتله ؟ . رواه النسائي           

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

۷صفر ١۴۴۴ھ

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔