021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد کی تقسیم کا حکم
77715ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

ایک صاحب کا اپنا ذاتی مکان ہے جس میں وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ صاحب کبھی کبھار اپنی خوشی کا اظہار کرتے تھے کہ ان کے بعد وہ مکان ان کے دونوں بیٹوں کی ملکیت میں آجائے گا اور دونوں بیٹے اس مکان میں رہ سکیں گے۔ وقت گزرتا گیا اور دونوں بیٹے بڑے ہو گئے، بڑے بیٹے نے دوسرے ملک کی شہریت حاصل کر لی اور اپنی فیملی بیوی بچوں کے ساتھ دوسرے ملک مستقل طور پر رہائش اختیار کرلی۔ بڑا بیٹا دوسرے ملک میں خوش حال زندگی گزار رہا ہے۔ چھوٹا بیٹا والدین کے ساتھ ان کے گھر میں رہتا ہے اور والدین کی خدمت کرتا ہے۔ چھوٹا بیٹا بھی خوش حال ہے۔ وہ صاحب مختلف ناگزیر وجوہات کی بنا پر اس محلے سے اپنی رہائش کسی اور محلے میں منتقل کرنا چاہتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ جب محلہ اور مکان تبدیل کیا ہی جا رہا ہے تو نیا مکان اپنے اور اپنے بیٹوں کی موجودہ مالی حالات کے اعتبار سے بڑا اور بہتر لیا جائے۔  ان صاحب کا پلان یہ ہے کہ وہ اپنا ذاتی مکان بیچ دیں گے، اس سے حاصل ہونے والی رقم میں مزید رقم آدھی آدھی دونوں بیٹے ملا دیں گے، اور نیا مکان دونوں بیٹوں کے نام سے خرید لیں گے؛ تاکہ دونوں بیٹے قانونی طور پر اس مکان کے برابر کے مالک بن جائیں۔ دونوں بیٹے رقم کا انتظام بھی کر سکتے ہیں۔ چھوٹے بیٹے نے اس پر رضامندی کا اظہار کر دیا، بڑے بیٹے نے اس پلان سے اتفاق نہیں کیا۔ بڑے بیٹے نے اس دوسرے مکان میں مختلف وجوہات کی بنا پر رقم ملانے سے انکار کر دیا، وہ وجوہات یہ تھیں کہ وہ اب کبھی پاکستان مستقل رہائش کی غرض سے واپس نہیں آئیں گے اور  اس مکان میں تو ان کا چھوٹا بھائی بھی رہے گا۔ بڑے بیٹے کا مشورہ یہ ہے کہ تمام مزید رقم چھوٹا بیٹا ملا دے اور نیا مکان وہ صاحب اپنے نام سے لے۔ ان صاحب نے اپنے چھوٹے بیٹے سے معلوم کیا کہ وہ تمام مزید رقم کا انتظام کر سکتا ہے؟ چھوٹے بیٹے نے کہا کہ جی انتظام ہو جائے گا۔ ان صاحب کو اپنے بڑے بیٹے کی سوچ اور مشورہ پسند نہیں آیا، ان صاحب کا خیال ہے کہ والدین اگر اچھے اور بڑے گھر میں رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں تو بڑے بیٹے کا یہ زیادہ فرض بنتا ہے کہ اپنے والدین کی خواہش کو پورا کرنے میں ان کی مدد کریں؛ کیونکہ بڑے بیٹے کی آمدنی بھی زیادہ ہے اور ان صاحب نے اپنے بڑے بیٹے کو گھر میں ایک خصوصی حیثیت دی ہوئی تھی؛ تاکہ ان کے بعد ان کا بڑا بیٹا خاندان کی سربراہی کرے، لیکن اپنے بڑے بیٹے کا مشورہ سن کر ان کو اپنے بڑے بیٹے کی سوچ چھوٹی اور نامناسب لگی، ان کا خیال ہے کہ ان کے بڑے بیٹے کو اپنی سوچ بڑی اور مثبت رکھنی چاہیے تھی، ان کے خیال کے مطابق ان کے بڑے بیٹے کو یہ سوچ رکھنی چاہیے تھی کہ دوسرے گھر میں صرف میرا چھوٹا بھائی نہیں رہے گا، بلکہ میرے والدین بھی رہیں گے، اور چھوٹا بھائی اگر والدین کے ساتھ رہے گا تو والدین کی دیکھ بھال اور خدمت بھی کرتا رہے گا، اور والدین کے دنیا سے گزر جانے کے بعد اگر چاہے تو اس دوسرے گھر کو بیچ کر اپنا آدھا حصہ وصول کرلے( جیسا اس صورت میں بھی ہوتا اگر یہ لوگ ان صاحب کے ذاتی مکان میں ہی رہائش پذیر رہتے)۔ ان صاحب کو اپنے بڑے بیٹے کا یہ مشورہ بھی پسند نہیں آیا کہ دوسرے مکان کے لیے تمام مزید رقم تو چھوٹا بیٹا ملائے اور دوسرا مکان وہ اپنے نام سے لے لیں؛ کیونکہ کہ اس طرح تو ان کے دنیا سے جانے کے بعد دوسرے مکان کی وراثت میں دونوں بیٹوں کا برابر کا حصہ ہو جائے گا، جبکہ ان کی خواہش پوری کرنے کے لیے مزید تمام رقم تو صرف چھوٹا بیٹا ہی ملا رہا ہے جو آج بھی ان کی خدمت کر رہا ہے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ رہ کر اپنے والدین کی خدمت کرتا رہے گا۔

اس صورتِ حال میں ان صاحب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنا ذاتی مکان بیچ دیں گے، اس سے حاصل ہونے والی رقم میں مزید رقم ان کا چھوٹا بیٹا ملا دے گا اور وہ نیا مکان اپنے چھوٹے بیٹے کے نام سے خرید کر اس مکان کا مالک اپنے چھوٹے بیٹے کو بنا دیں گے۔ بڑے بیٹے کو اپنے والد صاحب کے اس فیصلے سے شدید اختلاف ہے، بڑے بیٹے کا خیال ہے کہ ان کے والد صاحب کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنا مکان بیچ کر اس کی تمام رقم صرف اپنے چھوٹے بیٹے کو دیدیں، اس طرح کر کے وہ اپنے بڑے بیٹے کا حق ماریں گے۔ ان صاحب نے اپنے بڑے بیٹے سے کہا کہ اگر تمہارے پیسوں پر میرا کوئی حق نہیں ہے اور اگر تمہیں اس پر یہ مکمل حق حاصل ہے کہ تم چاہو تو میری خواہش پوری کرنے کے لیے اپنے پیسوں کا استعمال کرو اور چاہو تو نہ کرو، تو مجھے بھی یہ حق حاصل ہے کہ میں اپنے ذاتی پیسوں کو جیسے مناسب سمجھو خرچ کروں یا تقسیم کروں۔ بڑے بیٹے نے اپنے والد سے کہا کہ میرا تو آپ کے پیسوں پر حق ہے اور آپ میرا یہ حق میرے چھوٹے بھائی کو نہیں دے سکتے، لیکن آپ کا میرے پیسوں پر کوئی حق نہیں ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ: (1) کیا ان صاحب کو شرعا یہ حق حاصل ہے کہ

وہ اپنی ذاتی زندگی میں اپنی ذاتی رقم صرف اپنے چھوٹے بیٹے کو دے دیں؟ تاکہ وہ اس میں اور رقم ملا کر ان صاحب کی مرضی کے مطابق دوسرا بڑا مکان خریدے اور وہ سب ساتھ دوسرے مکان میں رہیں۔ (2) کیا شرعا وہ صاحب اپنے بڑے بیٹے کا حق ماریں گے؟ (3) بڑے بیٹے نے اپنے والد سے جو کہا کہ میرا تو آپ کے پیسوں پر حق ہے، لیکن آپ کا میرے پیسوں پر کوئی حق نہیں۔ کیا شرعاً یہ بات درست ہے؟

وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ مذکورہ شخص کی ان دو بیٹوں کے علاوہ کوئی اولاد نہیں ہے، اور اس کی جائیداد بھی بس یہی گھر ہے۔  

o

سوال کے جواب سے پہلے دو باتیں بطورِ تمہید ذکر کرنا ضروری ہے۔

(الف)۔۔۔ اولاد پر والدین کی اطاعت اور ان کی خدمت شرعا لازم ہے۔ اگر ان کے پاس نان نفقہ یا رہنے کا انتظام نہ ہو تو اس کا انتظام کرنا بھی ان پر لازم اور ضروری ہے۔ اور اگر ان کے پاس رہائش وغیرہ کا انتظام تو ہو، لیکن وہ اس سے بہتر کی خواہش رکھتے ہوں تو اولاد کو حتی الامکان ان کی خواہش پوری کرنی چاہیے اور کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے ان کو تکلیف پہنچے۔ البتہ اگر کسی معاملے کے مختلف قابلِ مشورہ پہلو ہوں، اور کوئی بیٹا یا بیٹی ایک معقول رائے دے تو والدین کو بھی اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

(ب)۔۔۔ والد اپنی زندگی میں اپنے مال کا تنہا مالک ہوتا ہے، والد کی زندگی میں اولاد اس سے اس کے مال کی تقسیم کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔ البتہ اگر والد خود اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو یہ درست ہے، اور یہ شرعًا ہبہ ہوگا، میراث نہیں۔ اس کے بارے میں شریعت کا اصل حکم تو یہ ہے کہ تمام اولاد یعنی لڑکوں اور لڑکیوں سب کو برابر برابر  حصہ دے،تاہم اگر میراث کے اصول پر لڑکے کو لڑکی کا دگنا حصہ دے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن کسی ایک یا چند بچوں، بالخصوص بیٹیوں کو بالکل محروم کرنا یا بہت معمولی حصہ دینا جائز نہیں، ایسا کرنے سے وہ سخت گناہ گار ہوں گے۔ اگر والد بغیرکسی معقول وجہ کےکسی بیٹے یا بیٹی کو زیادہ حصہ دے اور قبضہ بھی دیدے تو ہبہ مکمل ہوجائے گا، اور وہ بیٹا یا بیٹی اس حصے کا مالک بن جائےگا، لیکن والد گناہ گار ہوگا۔ البتہ اگر کسی کو اس کی خدمت، دینداری یا غربت کی وجہ سے کچھ زیادہ حصہ دیدے تو اس کی گنجائش ہے۔  

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں والد صاحب کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنا گھر بیچ کر ساری رقم چھوٹے بیٹے کو دے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو شرعا وہ بڑے بیٹے کا حق مارنے والے شمار ہوں گے۔ اگر والد صاحب اپنا یہ گھر بیچ کر اس کی رقم اپنے بیٹوں کو دینا چاہ رہے ہیں تو دونوں بیٹوں کو برابر برابر رقم دیں، البتہ اگر کسی ایک کو زیادہ خدمت گزار اور فرماں بردار ہونے یا زیادہ ضرورت مند ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن ایک بیٹے کو بالکل محروم کرنا جائز نہیں۔

بڑے بیٹے کا والد سے یہ کہنا کہ "میرا آپ کے پیسوں پر حق ہے" اس اعتبار سے تو درست نہیں ہے کہ والد زندگی میں اپنے مال کا خود مالک ہوتا ہے، بچے والد کی زندگی میں ان سے اپنے مال کی تقسیم کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔ لیکن اس کی یہ بات اس اعتبار سے درست ہے کہ اگر آپ خود اپنی زندگی میں اپنا مال بچوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو پھر میرا بھی اس میں حق بنتا ہے، جیسا کہ اوپر تفصیل سے بیان ہوا۔  

اسی طرح اس کا والد سے یہ کہنا کہ "آپ کا میرے پیسوں پر کوئی حق نہیں"،  اس اعتبار سے تو ٹھیک ہے کہ وہ اپنے مال کا خود مالک ہے۔ لیکن اس کے لیے یہ کہنا ہرگز مناسب نہیں ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ "تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے والد کے ہیں"۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں باپ کی عظمت اور بیٹے پر اس کے حق کو بیان فرمایا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر والدین ضرورت مند ہوں اور ان کے پاس اپنا کوئی انتظام نہ ہو تو وہ بیٹے کا مال استعمال کرسکتے ہیں۔ صورتِ مسئولہ میں اگرچہ یہ کیفیت تو نہیں، لیکن والدین کا اولاد پر جتنا حق ہے، اس کے پیشِ نظر بڑے بیٹے کو اپنے والد سے یہ بات کسی صورت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس کو چاہیے کہ والد صاحب سے معافی مانگ کر ان کو راضی کرے، اور حتی الامکان والدین کی خواہش پوری کرے۔ لیکن اگر اس کو کوئی معقول عذر درپیش ہو یا مستقبل کی کسی خرابی اور تنازعات کا اندیشہ ہو تو والدین کو مناسب انداز میں اپنا عذر بتاکر ان کو راضی اور مطمئن کرلے۔

حوالہ جات

مشكاة المصابيح (2 / 183):
وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : إني نحلت ابني هذا  غلاما فقال : " أكل ولدك نحلت مثله ؟ " قال:  لا، قال : "فأرجعه". وفي رواية : أنه قال: "أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء ؟ " قال : بلى قال : " فلا إذن " .  وفي رواية : أنه قال : أعطاني أبي عطیةً فقالت عمرة بنت رواحة : لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتی رسول الله صلی الله علیه وسلم، فقال: إني أعطیت ابنی من عمرة بنت رواحة عطيةً، فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله، قال : " أعطيت سائر ولدك مثل هذا ؟ " قال : لا قال : " فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم " . قال : فرجع فرد عطيته . وفي رواية : أنه قال : " لا أشهد على جور ". 
صحيح ابن حبان (2/ 142):
أخبرنا إسحاق بن إبراهيم التاجر بمرو حدثنا حصين بن المثنى المروزي حدثنا الفضل بن موسى عن عبدالله بن كيسان عن عطاء عن عائشة رضي الله عنهما : أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم يخاصم أباه في دين عليه فقال نبي الله صلى الله عليه و سلم: "أنت ومالك لأبيك".  
 قال أبو حاتم : معناه أنه صلى الله عليه و سلم زجر عن معاملته أباه بما يعامل به الأجنبيين وأمر ببره والرفق به في القول والفعل معا إلى أن يصل إليه ماله فقال له : " أنت ومالك لأبيك"، لا أن مال الابن يملكه الأب في حياته من غير طيب نفس من الابن به.
السنن الكبرى للبيهقي (7/ 481):
 أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر : أحمد بن الحسن القاضى وأبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسى قالوا حدثنا أبو العباس بن يعقوب حدثنا محمد بن إسحاق الصغانى أخبرنا الفيض بن وثيق عن المنذر بن زياد الطائى حدثنا إسماعيل بن أبى خالد عن قيس بن أبى حازم قال : حضرت أبا بكر الصديق رضى الله عنه فقال له رجل يا خليفة رسول الله هذا يريد أن يأخذ مالى كله ويجتاحه. فقال أبو بكر رضى الله عنه : إنما لك من ماله ما يكفيك. فقال : يا خليفة رسول الله أليس قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- :« أنت ومالك لأبيك ». فقال أبو بكر رضى الله عنه : ارض بما رضى الله به.
ورواه غيره عن المنذر بن زياد وقال فيه: إنما يعنى بذلك النفقة. {ج} والمنذر بن زياد ضعيف.
رد المحتار (4/ 444):
وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: "اتقوا الله واعدلوا في أولادكم"، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية، فيسوي بين الذكر والأنثى؛ لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة.
وفي الخانية: ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض، روي عن أبي حنيفة: لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين، وإن كانوا سواء يكره. وروى المعلى عن أبي يوسف: أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار، وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى. وقال محمد: يعطى للذكر ضعف الأنثى.
وفي التتارخانية معزياً إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف: وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا، والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف، وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم، وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل.
ردالمحتار(6/ 758):
وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهة إرثه.
المبسوط للسرخسي (19/ 53):
لا حق للوارث قبل موت المورث في ماله.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   9/صفر المظفر/1444ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔