021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جبری تحریری طلاق کا حکم
77740طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتی حضرات اس مسئلے کے بارے میں ؟ایک نوجوان ہے ،اس کی شادی کو 3مہینے گزرے تھے کہ کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے گھر والوں کی طرف سے جذباتی ہونے سے اور شوہر کو فورا گھر سے نکلنے  اور ماں باپ سے تعلق ختم کرنے کی دھمکی سے اور زیادہ پریشر دینے سے تحریری طلاق کےلیے تیارکیا گیا جو کہ شوہر بالکل تیار نہ تھا مگر زبردستی طلاق دلوائی گئی،اب ایک سال کے بعد لڑکے کے والدین اس بات پر بہت شرمندہ ہیں اور زوجہ بھی اپنی اس غلطی پر بہت شرمندہ ہے جو شوہر سے چھپ کر کی تھی۔

آج جامعۃ الرشید کے استاد مفتی طارق مسعودصاحب کا کلپ سنا کہ کسی کو جبر دے کے تحریری طلاق دلوائی جائے تو وہ نہیں ہوتی ،اس میں آپ حضرات راہنمائی فرمائیں۔یہ کلپ آسک مفتی طارق مسعود  پیج پر 2اگست 2021کو اپلوڈ ہوا ہے۔

o

طلاق کا معاملہ شرعاً انتہائی نازک اور حلال و حرام کا ہے۔ اس میں کسی دارالافتاء سے فتوی لے کر اس کا اطلاق اپنی خواہش کے مطابق کرنے  سے کوئی شخص اللہ کے نزدیک  گناہ سے بچ نہیں سکتا۔ لہذا ایسے کسی فعل سے اجتناب کرنا لازمی ہے۔

اکراہ(مجبور کرنے) کی دو قسمیں ہیں:

1۔  اکراہ تام:

 جس میں جبر کرنے والا کسی ایسی چیز کی دھمکی دے جس سے ڈر کر انسان طبعی طور پر کام کرنے پر مجبور ہو جائے جیسے قتل، عضو کاٹنے یا اس طرح مارنے کی دھمکی دینا جس سے کوئی عضو ضائع ہو جائے۔

‌2۔  اکراہ ناقص:

 جس میں دھمکی مذکورہ بالا صورت سے کم درجے کی ہو لیکن اس قدر  غیر معمولی ہو کہ انسان اپنی رضامندی کے بغیر کوئی کام کرنے پر خود کو مجبور سمجھے اور کام نہ کرنے پر نتائج کو اپنی برداشت سے باہر سمجھے۔ اس قسم کے اکراہ کے تحقق کے لیے جان سے مارنے یا عضو تلف کرنے کی دھمکی دینا ضروری نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ ایسے

معمولی نتیجے کی دھمکی نہ ہو جسے عموماً برداشت کے قابل سمجھا جاتا ہو۔

اکراہ کی ان دونوں قسموں میں تحریری طور پر طلاق لکھ دینے یا لکھی ہوئی طلاق پر دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ زبان سے طلاق کے  الفاظ کی ادائیگی سے طلاق واقع ہوگی۔تاہم اکراہ کے ثابت ہونے کے لیے چار شرائط ہیں:

1۔ مجبور کرنے والا اس کام کی قدرت رکھتا ہو جس پر وہ مجبور کر رہا ہو۔ یہ قدرت ذاتی طور پر بھی ہو سکتی ہے اور کسی کارندے یا تعلق دار کی مدد سے بھی۔

‌2۔ جسے مجبور کیا جائے اسے کم از کم غالب گمان کے درجے میں یہ خوف ہو کہ کام نہ کرنے پر فوری نتیجہ  دھمکی کے مطابق نکل سکتا ہے۔

‌3۔  دھمکی کسی ایسی چیز کی ہو جس سے جان جانے ، عضو ضائع ہونے کا خطرہ ہو، یا کم سے کم ایسی غیر معمولی صورت حال سے دوچار کرنے کی ہو جس سے عموماً مجبور کیے جانے والے اس جیسے شخص کی رضامندی ختم ہو جاتی ہو۔

‌4۔  جس چیز پر مجبور کیا جائے اس سے مجبور ہونے والا شخص اس اکراہ سے پہلے رکا ہوا ہو اور وہ کام نہ کرنا چاہتا ہو۔

یہ چاروں شرائط پائی جائیں تو اکراہ درست ہوگا اور اس کے احکام لاگو ہوں گے۔

لہذاصورت مسئولہ میں اگرآپ کو واقعتا گھر سے نکلنے اور قطع تعلق کی دھمکی دی گئی تھی اور آپ کو یقین تھاکہ وہ یہ دھمکی پوری کرسکتے ہیں اور پوری کریں گےاور آپ نے زبان سے کہے بغیرصرف تحریری صورت میں موجودطلاق پر دستخط کیے ہیں تو وہ   طلاق واقع نہیں ہوئی۔اور اگر مجبوری کی یہ حالت نہیں تھی ،یا آپ نے زبان سے الفاظ طلاق اداکیے ہیں تو پھر طلاق واقع ہوگئی ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 25 / ص 76):
( كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن ، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال. “
  البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي (16 / 252):
وفي المحيط قال مشايخنا: إلا إذا كان الرجل صاحب منصب يعلم أنه يتضرر بضرب سوط أو
حبس يوم فإنه يكون إكراها وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الاكراه لما يجئ به من الاغتمام
البين ومن الضرب ما يجد به الالم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه ،لانه يختلف باختلاف أحوال الناس، فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديدوحبس مديد، ومنهم من يتضرر بأدنى شئ كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملا من الناس أو بحضرة السلطان. “
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 9 / ص 138):
لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق ؛لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 236):
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية،
بدائع الصنائع (7/175):
وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر۔۔۔ وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا
الدر المختار و حاشية ابن عابدين (6/129):
(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

13/صفر1444ھ

n

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔